بائع کو کسی چیز کے خریدنے پر مجبور کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #28Urdu

Question

ہم ایک کمپنی سے روشنائی خریدتے ہیں، اور ہمارے یہاں بنی ہوئی بالٹیوں پر لکھنے کے لیے ہم وہ روشنائی استعمال کرتے ہیں، ہم نے ان کو کہا کہ ہم آپ سے روشنائی خریدتے ہیں، لہذا آپ ہم سے بالٹیاں خریدیں گے، انہوں نے منظور کر لیا اور خریدنے کا وعدہ بھی کر لیا لیکن پھر بھی نہیں خریدیں، ہم نے ان کو خط لکھا کہ اگر آپ ہم سے بالٹیاں نہیں خریدیں گے تو ہم آپ سے روشنائی خریدنا موقوف کر دیں گے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس طرح ان کو خریدنے پر مجبور کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ جائز ہے کہ ہم ان سے روشنائی خریدنا صرف اس وجہ سے موقوف کر دیں کہ انہوں نے ہماری بالٹیاں نہیں خریدیں؟

Answer

شریعتِ مطہرہ نے تجارت میں عاقدین کی رضامندی کو بڑی اہمیت دی ہے، لہذا بلا رضا مندی کے تجارت و معاملات کو صحیح اور درست قرار نہیں دیا، بایں وجہ کسی کو خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتے ہیں ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے:

﴿يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوآ أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم﴾. (سورة النساء، الآية: ۲۹).

اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طور پر مت کھاؤ لیکن مباح طور پر مثلاً کوئی تجارت ہو جو باہمی رضامندی سے واقع ہو تو مضائقہ نہیں ۔ (معارف القرآن: ۲/۳۷۷) ۔
اگر تجارت یعنی مبادلہ اموال تو ہو لیکن اس میں فریقین کی رضامندی نہ ہو وہ بھی بیع فاسد اور ناجائز ہے ۔ (معارف القرآن: ۲/۳۸۰) ۔
لہذا آپ کسی کو اپنی بالٹیاں خریدنے پر مجبور نہیں کر سکتے ہیں ۔ اور یہ شرط لگانا کہ اگر آپ بالٹیاں نہیں خریدیں گے تو ہم آپ سے روشنائی بھی نہیں خریدیں گے یہ درست نہیں ہے ۔
حدیث میں ہے:

عن عمر وبن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي ﷺ نهى عن بيع وشرط. (المعجم الاوسط للطبراني: ٤/۳۳۵، القاهرة).

شرح مجلہ میں ہے:

وأما أن لا يقتضيه العقد ولا يلائمه ولا جري العرف باشتراطه وفيه نفع لأحد العاقدين أو لغيرهما من أهل الاستحقاق، فالبيع في هذه الصورة فاسد، قال في النهر: وإنما فسد البيع بهذا الشرط لا نهما إذا قصدا المقابلة بين المبيع والثمن فقد خلا الشرط عن العوض وقد وجب البيع بالشرط فكان الشرط زيادة مستحقة بعقد المعاوضة خالية عن العوض فيكون ربا، وكل عقد بشرط الربا يكون فاسداً. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، فصل في حق البيع بشرط: ۲/٦۰. وكذا في الهداية: ۳/۵۹).

ہاں اگر انہوں نے وعدہ کیا ہو اور پھر کسی وجہ سے پورا نہ کر سکیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔ اور جہاں تک روشنائی خریدنے کا مسئلہ ہے تو آپ جس سے خریدنا چاہیں خرید سکتے ہیں آپ پر کوئی پابندی نہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.