خون کی تجارت کا حکم:
Question
خون کی بیع جائز ہے یا نہیں؟
Answer
خون مال متقوم نہیں، لہذا اس کی بیع ناجائز ہے ۔ ہاں اضطرار کی صورت میں صرف خریدنے کی گنجائش ہے جب کہ مجاناً دستیاب نہ ہو سکے، ہاں مسلمانوں کو چاہیے کہ بلڈ بینک قائم کر کے خون مفت فراہم کرنے کا انتظام کریں، تاکہ خون کی خرید و فروخت سے حتی الامکان اجتناب کیا جا سکے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وإذا كان أحد العوضين أو كلاهما محرماً فالبيع فاسد كالبيع بالميتة والدم. (الهداية: ۳/٤۹، باب البيع الفاسد).
تبيين الحقائق
میں ہے:
لم يجز بيع الميتة والدم والخنزير
لعدم ركن البيع وهو مبادلة المال بالمال وبيع هذه الأشياء باطل. (تبيين الحقائق: ٤/۳٦۲).
در مختار میں ہے:
بطل بيع ما ليس بمال والمال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البخل والمنع فخرج تراب ونحوه كالدم المسفوح. (الدر المختار: ۵/۵۰، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
دم مسفوح کی بیع و شراء حرام ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/۵۲۲) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
علماء نے ضرورۃً خون چڑھانے کے لیے اجازت دی ہے لیکن فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۳۳۵) ۔
امداد الاحکام میں ہے:
ان اقوال کا مقتضا یہ ہے کہ اگر کسی وقت خون کی بھی قیمت عرفاً ہو جائے تو اس کی بیع و شراء صحیح ہے ۔ (امداد الاحکام: ۳/۳۵۵) ۔
جواہر الفقہ میں ہے:
خون کی بیع تو جائز نہیں، لیکن جن حالات میں جن شرائط کے ساتھ مریض کو خون دینا جائز قرار دیا ہے ۔ ان حالات میں اگر کسی کو خون بلا قیمت نہ ملے تو اس کے لیے قیمت دے کر خون حاصل کرنا بھی جائز ہے، مگر خون دینے والے کے لیے اس کی قیمت لینا درست نہیں ۔ (جواہر الفقہ: ۷/٤۷) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
حلال جانوروں کا وہ خون جو ذبح کے وقت نکلتا ہے اس کی خرید و فروخت جائز نہیں، اگر کسی نے فروخت کر دیا تو اس سے ملنے والی رقم کا استعمال جائز نہیں، اسی طرح انسانی خون فروخت کرنا اور اس کی قیمت کا استعمال کرنا بھی حرام ہے، البتہ خون کا عطیہ دینا جائز ہے ۔ یعنی جس طرح بوقتِ ضرورت دوسرے کی اولاد کو دودھ پلانا جائز ہے، اسی طرح ضرورت کے وقت خون کا عطیہ دے کر جان بچانا بھی جائز ہے، بلکہ بعض اوقات حالات کے لحاظ سے ضروری بھی ہو جاتا ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/٤۸) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (جواہر الفقہ: ۷/٤٤ ۔ ۵۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1946
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1946