مبیع کا وزن مع ظرف محسوب کرنے کا حکم:
Question
ایک آدمی نے دس کیلو چاول یا کھاد ایک ڈبے میں خریدا لیکن اس میں ایک کیلو ڈبا کا وزن ہے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ ظرف بھی سامان کی طرح محسوب ہوا؟
Answer
بصورتِ مسئولہ چونکہ لکھا ہوا وزن مشروط نہیں ہوتا اور اکثر عاقدین کی رضامندی سے بیع تعاطی ہوتی ہے اس وجہ سے جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ينعقد بالتعاطي في النفيس والخسيس وهو الصحيح لتحقق المراضاة. (الهداية: ۳/۱۹).
احسن الفتاوی میں ہے:
بائع و مشتری دونوں کا مقصد وہ خاص ڈبا اور لفافہ ہوتا ہے اس پر لکھا ہوا وزن بیع میں مشروط نہیں ہوتا اس لیے بدون وزن کیے اس میں تصرف جائز ہے ۔ (احسن الفتاوی: ٦/٤۹۹) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال: دوکاندار چینی لفافہ میں تول کر دیتا ہے جب کہ لفافہ کی قیمت بھی ہے اور اس کا کچھ وزن بھی ہے، اسی وزن کی چینی گاہک کو کم ملتی ہے کیا یہ لینا دینا درست ہے؟
الجواب: لینے والا اور دینے والا راضی ہوں تو درست ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۲٤/٤۰، مکتبہ محمودیہ) ۔
محمود الفتاوی میں ہے:
عرف کی وجہ سے یہی سمجھا جائے گا کہ اس مبیع موزون کا وزن مع ظرف اتنا ہوگا، اس لیے درست ہے ۔ (محمود الفتاوی: ۲/٤۰۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1947
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1947