مزارات کے چڑھاوے مجاور سے خریدنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #84Urdu

Question

بعض لوگ قبروں پر چادر اور کپڑے چڑھاتے ہیں پھر اس قبر کا مجاور و متولی اس کو فروخت کرتا ہے، اس کا خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

قبروں پر چادریں ڈالنا اور دیگر اشیاء کا چڑھانا ناجائز اور حرام ہے، اور مجاور ان اشیاء کا مالک نہیں بنتا، لہذا ان اشیاء کی بیع جائز نہیں، اور ان کے خریدنے سے مشتری کی ملکیت ثابت نہیں ہو گی ۔
ہاں اگر مالک نے توبہ کر لی اور غلط نیت سے باز آ گیا پھر اپنی چیز کو بیچ دی تو یہ جائز اور درست ہے ۔

قال الله تعالى: ﴿حرمت عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل لغير الله به﴾. (سورة المائدة: الآية، ۳).
التحرير والتنوير
میں ہے:

قوله سبحانه وتعالى: ﴿وما أهل به لغير الله﴾ أي ما أعلن به أو نودي عليه بغير اسم الله تعالى وهو مأخوذ من أهل إذا رفع صوته بالكلام فأهل في الآية مبني للمجهول، ضمن أهل معني تقرب فعدي لمتعلقه بالباء وباللام مثل تقرب،

وفائدة هذا التضمين تحريم ما تقرب به لغير الله تعالى. (التحرير والتنوير للعلامة محمد طاهر بن عاشور، ۲/۱۱۹).

عطر ہدایہ میں ہے:
خلاصۃ التفاسیر جلد اول سورہ مائدہ میں ہے و ما اہل عام ہے عام نہ ہو مختص بالذبح ہو تب بھی بوجہ اشتراک علت حکم عام ۔ (عطر ہدایہ، ص ٤۷٤) ۔
البحر الرائق میں ہے:

وأما النذر الذي ينذره أكثر العوام على ما هو مشاهد كأن يكون لا نسان غائب أو مريض أو له حاجة ضرورية فيأتي بعض الصلحاء فيجعل ستره على رأسه فيقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب كذا أو من الفضة كذا أو من الطعام كذا أو من الشمع كذا أو من الزيت كذا فهذا النذر باطل بالإجماع لوجوه منها أنه نذر مخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون للمخلوق

ومنها إن ظن أن الميت يتصرف في الأمور دون الله تعالى واعتقاده ذلك كفر

ولا تشتغل الذمة به ولأنه حرام بل سحت ولا يجوز لخادم الشيخ أخذه ولا أكله ولا التصرف فيه بوجه من الوجوه

فإذا علمت هذا فما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت وغيرها وينقل إلى ضرائح الأولياء تقرباً إليهم فحرام بإجماع المسلمين ما لم يقصدوا بصرفها للفقراء الأحياء قولاً واحداً. (البحر الرائق: ۲/۲۹۸، كوئته. وكذا في حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ٦۹۳. والدر المختار مع رد المحتار: ۲/٤۳۹، سعيد).
وفي الدر المختار: الحرمة تتعدد مع العلم بها. (الدر المختار: ۵/۹۸، سعيد).
وفي رد المحتار: (تتمة) في الأحكام عن الحجة: تكره الستور على القبور. (فتاوى الشامي: ۲/۲۳۸، سعيد).

کفایت المفتی میں ہے:
مزارات پر پھول چڑھانا، چراغ جلانا، چادر چڑھانا ناجائز ہے ۔ (کفایت المفتی: ۱/۳٤۸) ۔
(و کذا فی فتاوی دار العلوم دیوبند از مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله، ۲/۱٦٦) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
منذور لغیر اللہ غیر حیوان بھی بعلت تقرب الی غیر اللہ ما اہل بہ لغیر اللہ میں داخل ہونے کی وجہ سے حرام ہے یعنی حرمتِ حیوان بلاواسطہ مدلول نص ہے اور حرمتِ غیر حیوان مدلول نص بواسطہ قیاس ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۵/٤۹۱ و کذا فی امداد الفتاوی: ۲/۵۵٤ ۔ و معارف القرآن از مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله: ۱/٤۲٤) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
سوال: سانڈ کا کھانا حلال ہے یا حرام، چونکہ اس میں مقلدین و غیر مقلدین میں اختلاف ہے، لہذا مفصل تحریر فرمائیے، اور تفسیر احمدی ملا جیون رحمه الله ملاحظہ فرما لیجیے اور
ما جعل الله من بحيرة ولا سائبة الخ
، کا کیا مطلب ہے؟
الجواب: اس میں تفصیل ہے، ایک صورت یہ ہے کہ کسی شخص نے غیر اللہ کے نامزد کوئی جانور کر دیا، اور اسی نیت سے اس کو ذبح کیا، گو وقتِ ذبح بسم اللہ بھی کہے، یہ تو حرام، قرآن مجید میں اس کی حرمت منصوص ہے، اور کتبِ فقہ در مختار وغیرہ میں تصریحاً مذکور ہے ۔
دوسری صورت یہ ہے کہ غیر اللہ کے نام محض تعبیر و عنوان میں ہے، نیت میں ان کا تقرب و ترضی مقصود نہیں، جیسے حدیث میں عقیقہ کے وقت یہ کہنا وارد ہے:
"هذا عقيقة فلان"
یہ بلاشبہ حلال ہے، اور صاحبِ تفسیر احمدی اسی کو حلال کہتے ہیں، چنانچہ ان کا منہیہ اس کا شاہد ہے ۔
تیسری صورت یہ ہے کہ کسی شخص نے بہ نیت و عقیدہ فاسدہ اس کو چھوڑا، اور حاکمِ وقت نے کسی وجہ سے اس کو پکڑ کر نیلام کر دیا، اور کسی نے خرید کر اس کو ذبح کیا، یہ حلال ہے، کیوں کہ استیلاء موجبِ ملک ہے، جب مالک وہ پہلا شخص نہ رہا، اس فسادِ نیت قابل اعتبار نہیں ۔
چوتھی صورت یہ ہے کہ کسی شخص نے اسے نیتِ بد سے چھوڑ دیا تھا، دوسرے شخص نے چرا چھپا کر ذبح کیا، یہ حرام ہے، دو وجہ سے، اول فسادِ نیتِ مالک سے، کیوں کہ سائبہ کرنے سے خارج عن الملک نہیں ہوتا، دوسرے غصب و سرقہ کی وجہ سے ۔
پانچویں صورت یہ ہے کہ مالک نے اپنی نیتِ فاسد سے توبہ کر لی اور اس حیوان کو ذبح کیا، یہ حلال ہے، ارتفاعِ علت النہی، اور و ما جعل اللہ الخ کا مطلب اس فعل کی نفی ہے جو مزعومِ کفار تھا، یعنی حرمتِ انتفاع بوجہ تعظیم و احترام، واللہ اعلم ۔ (امداد الفتاوی: ٤/۹۹، کتاب الحظر و الاباحۃ) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
اس اہلال بغیر اللہ سے اس میں حرمت مثل میتہ کے آ گئی، پس جس طرح میتہ کا خریدنا جائز نہیں، اسی طرح اس کا بھی ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۵٦۲ ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱٦/۷۰، چڑھاوا کی بیع، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.