مبیع کے ساتھ انعامی کوپن کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #88Urdu

Question

اگر کوئی شخص کسی کمپنی یا دکان سے خریداری کرے اور مبیع کی قیمت ادا کر دے، تو بعض مرتبہ مبیع کے ساتھ خریداروں کی ترغیب کے لیے ایک ٹکٹ ملتا ہے، جس کا نمبر نکلتا ہے اس کو انعام ملتا ہے، تو کیا انعام حاصل کرنے کی غرض سے اس کمپنی یا دکان سے سامان خریدنا اور انعام لینا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر دکاندار سامان کی وہی قیمت لیتا ہے جو عام طور پر بازار میں ہوتی ہے، تو پھر انعام لینے کی نیت سے اس سے سامان خریدنا درست ہے اور انعامی کوپن پر جو انعام ملتا ہے اس کا لینا بھی جائز ہے، اور یہ انعام دکاندار کی طرف سے تبرع ہے، کسی چیز کا عوض نہیں ہے، اور اگر خریدی ہوئی اشیاء انعامی کوپن کی وجہ سے بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جا رہی ہوں، تو اس صورت میں متوقع انعامات حاصل کرنے کی جستجو کرنا ناجائز اور حرام ہے، اس سے بچنا ضروری ہے، کیوں کہ ایسی صورت میں یہ قمار میں داخل ہو جائے گا جو شرعاً حرام ہے ۔
ملاحظہ ہو امداد الاحکام میں ہے:
یہ معاہدہ جائز ہے اور بائع کی طرف سے تبرع ہے اور تبرع کو کسی شرط سے مشروط کرنا جائز ہے ۔ (امداد الاحکام: ۳/۳۸٦) ۔
حلال اور حرام میں ہے:
قریب قریب یہی نوعیت معمہ کی بھی ہے، اس میں بھی معمہ پُر کر کے بھیجنے والا فیس ادا کرتا ہے، حل صحیح نکل آئے تو زیادہ رقم ملتی ہے ورنہ اصل پیسے بھی واپس نہیں ہوتے، ہاں، اگر معمہ بھیجنے والوں سے کوئی فیس نہ لی جائے تو یہ صورت درست ہو گی اور اس رقم کی حیثیت خالص انعام کی قرار پائے گی ۔ (حلال و حرام، ص ۳۸۱) ۔
ہبہ کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کرنا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قوله والهبة والصدقة كوهبتك هذه المأة أو تصدقت عليك بها على أن تخدمني سنة،

وفي جامع الفصولين: ويصح تعليق الهبة بشرط ملائم كوهبتك على أن تعوضني كذا. (فتاوى الشامي: ۵/۲٤۹، باب ما يبطل بالشرط الفاسد، سعيد).

جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
اگر کوئی شخص مشروط طور پر ہبہ کرے تو ہبہ صحیح ہو گا یا نہیں؟ اس بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ اگر کوئی مناسب شرط عائد کرے تو ہبہ اور شرط دونوں صحیح ہیں اور اگر کوئی غیر مناسب شرط عائد کرے تو ہبہ صحیح ہو گا اور شرط باطل ہو گی ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۲/۸۷، ہبہ میں شرط لگانے کا حکم) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۲٦، انعامی کوپن یا کارڈ پر اشیاء خریدنا) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.