کسی کمپنی کے ساتھ انشورنس کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #201Urdu

Question

ایک سامان کو منتقل کرنے والی کمپنی ایک متعین مقدار فیس پر سامان منتقل کرتی ہے ۔ مثلا ً ۵۰ رینڈ اور و ہ اس منتقل شدہ سامان کے اوپر زائد فیس کے عوض (مثلاً ۱۰ فیصد) انشورنس اوفر کرتی ہے، ممکن ہے کہ یہ کمپنی ایک دوسری کمپنی سے انشورنس حاصل کرتی ہے، اور جو چیز منتقل کی جا رہی ہے وہ مہنگی ہے، مثلاً لیپ ٹوپ کمپیوٹر وغیرہ ۔ کیا ایسا انشورنس کروانا جائز ہے؟

Answer

انشورنس میں چونکہ دو قسم کی خرابیاں پائی جاتی ہیں (۱) ربا (۲) قمار اور دونوں حرام ہیں، اس لیے انشورنس بھی ناجائز ہے، لہذا مذکورہ صورت میں کمپنی سے سامان منتقل کرنے والے آدمی کے لیے انشورنس کرانا نا جائز ہے، چاہے سامان منتقل کرنے والی کمپنی خود انشورنس کرتی ہو یا کسی دوسری کمپنی سے انشورنس حاصل کرتی ہو، اس لیے کہ اس صورت میں گویا وہ سامان منتقل کرانے والے کی طرف سے ایجنٹ ہے اور اصل عقد سامان منتقل کرانے والے اور انشورنس کمپنی کے درمیان ہوا بنا بریں ایسے معاملہ سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔
ملاحظہ ہو احکام القرآن میں ہے:

لا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار قال بن عباس رضي الله عنه: إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة وقد كان ذلك مباحاً إلى أن ورد تحريمه. (أحكام القرآن للجصاص: ۱/۳۲۹).

فتاوی الشامی میں ہے:

وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من القمارين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص. (فتاوى الشامي: ٦/٤۰۳، سعيد).

نیز مذکور ہے:

الربا هو فضل خال عن عوض بمعيار شرعي شرط لأحد المتعاقدين في المعاوضة. (فتاوى الشامي: ۵/۱٦۸، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
بیمہ میں سود بھی ہے اور جوا بھی یہ دونوں چیزیں ممنوع ہیں بیمہ بھی ممنوع ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۳۸۷، جامعہ فاروقیہ) ۔
ہاں میڈیکل ایڈ کی اجازت ہے کیوں کہ اس میں رینڈ جمع کراتے ہیں اور اس کے عوض رقم نہیں ملتی بلکہ علاج ملتا ہے اور مذکورہ بالا صورت میں رقم کے عوض رقم ملتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.