ڈاکٹر کے لیے انشورنس کرانے کا حکم:
Question
کیا ڈاکٹر کے لیے جائز ہے کہ وہ ڈاکٹری انشورنس کرائے یعنی وہ اس حیثیت سے انشورنس کا معاملہ کرے کہ اگر اس سے آپریشن یا علاج وغیرہ میں کوئی غلطی ہو جائے اور مریض کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کی تلافی انشورنس کمپنی کی مدد سے کر دے ۔ کیوں کہ مسلمان مریض تو نفع نقصان کو تقدیر پر محمول کر کے کوئی دعوی نہیں کرتے، مگر کافر جو کہ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے وہ غلطی ہو جانے کی صورت میں دعوی دائر کر کے بہت سی رقم وصول کر لیتے ہیں، تو کیا اس مشکل سے بچنے کے لیے ڈاکٹر انشورنس کرا سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
عام طور پر اس قسم کے انشورنس میں رقم کے عوض رقم حاصل کی جاتی ہے اور انشورنس کمپنی اس پر اضافی رقم بھی ادا کرتی ہے، یہ صریح سود ہے جو حرام اور ناجائز ہے، لہذا اس قسم کے انشورنس سے اجتناب کرنا ایک مسلمان پر مسلمان ہونے کی حیثیت سے لازم اور ضروری ہے ۔ ہاں اگر انشورنس کمپنی رقم ادا نہ کرے بلکہ اس رقم کے عوض مریض کے نقصان کی تلافی کسی بڑے ہسپتال میں کسی تجربہ کار ماہر ڈاکٹر کے ذریعہ کرا دے تو اس کی گنجائش ہو گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2067
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2067