پراویڈنٹ فنڈ کا حکم:
Question
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے ایک خاص تناسب سے ماہانہ رقم وضع کی جاتی ہے اور یہ حکومت بجبر کرتی ہے ملازمین کا اس میں اختیار نہیں ہوتا، پھر ملازمت ختم ہونے کے بعد مزید اضافہ کے ساتھ واپس کی جاتی ہے تو اس رقم کا لینا اور استعمال کرنا از روئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ تکمیل ملازمت پر پراویڈنٹ فنڈ کی رقم لینا اور اس کا استعمال کرنا جائز اور درست ہے، کیوں کہ تنخواہ سے جو رقم حکومت وضع کرتی ہے وہ استحقاق کے زمرے میں آتی ہے اس پر ملازم کی ملکیت نہیں آتی، لہذا حکومت جو سود اس رقم پر دیتی ہے وہ سود نہیں، کیوں کہ سود اپنی مملوک رقم پر مشروط اضافے کا نام ہے، جب کہ یہ رقم مملوک نہیں ۔
ملاحظہ ہو کفایت المفتی میں ہے:
پراویڈنٹ فنڈ پر جو رقم محکمہ کی طرف سے دی جاتی ہے اور اسی طرح دونوں کے مجموعے پر سود کے نام سے بڑھائی جاتی ہے یہ سب رقم جائز ہے یہ شرعاً سود نہیں اگر چہ محکمہ اس کو سود کے نام سے موسوم کرتا ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۹۷) ۔
فتاوی عثمانی میں ہے:
جبری پراویڈنٹ فنڈ کی اصل رقم پر جو زیادتی محکموں کی طرف سے دی جاتی ہے، وہ شرعاً سود نہیں ہے، اس لیے اس کا وصول کرنا جائز ہے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۳۰۷) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
یہ سلسلہ حکومت نے اپنے قانون کے پیشِ نظر جاری کیا ہے جس سے ملازم کی خیر خواہی مقصود ہے، جب تک اس پر ملازم کا قبضہ نہ ہو یہ ملازم کی ملکیت نہیں، لہذا اس پر جو کچھ اضافہ ملتا ہے یہ بھی سود نہ ہوگا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۳۹٤، جامعہ فاروقیہ) ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہ سے ہر ماہ رقم جبراً وضع کرتی ہے جس کو جی پی فنڈ کہا جاتا ہے، اختتامِ ملازمت (ریٹائرمنٹ) پر حکومت یہ ساری جمع شدہ رقم ملازم کو اور اس کے انتقال کی صورت میں اس کے ورثاء کو ادا کر دیتی ہے، اس میں سود کے نام سے ایک اضافی رقم بھی ملاتی ہے اب یہ اضافی رقم جو حکومت ادا کرتی ہے اس کا شرعاً کیا حکم ہے؟ اس کا جواب یہ کہ یہ اضافی رقم شرعاً سود نہیں ہے کیوں کہ سود دو آدمیوں کے درمیان بذریعہ عقد طے ہوتا ہے، جب کہ دونوں طرف سے مال ہو اور ان کا مملوک ہو، مسئلہ مذکورہ میں ملازم سے جو رقم تنخواہ سے وضع کی جاتی ہے وہ ملازم کی ملک نہیں ہوتی، اس لیے کہ ملازم کی تنخواہ کے ملک میں داخل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ قبضہ میں ہو:
قال العلامة ابن نجيم رحمه الله: قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن أي لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة. (البحر الرائق: ۷/۳۰۰).
چونکہ اس رقم پر ملازم یا اس کے وکیل نے قبضہ نہیں کیا، اس لیے ملازم اس رقم کا مالک نہیں ہوا، لہذا ملازم کے تصرفات اس میں نافذ نہ ہوں گے، اب حکومت اصل رقم یا سود پر اضافی رقم یا سود کے نام پر اضافی رقم جو کچھ بھی ادا کر رہی ہے، سب اجرت ہی کا حصہ ہے جو حکومت مؤجلا اکٹھی ادا کر رہی ہے، چنانچہ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں: جبری پراویڈنٹ فنڈ پر جو سود کے نام سے جو رقم ملتی ہے وہ شرعاً سود نہیں بلکہ اجرت (تنخواہ) ہی کا ایک حصہ ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱٦۹، بحوالہ پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ اور سود کا مسئلہ، ص ٤) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
پراویڈنٹ فنڈ پر جو اضافی رقم محکمہ کی طرف سے دی جاتی ہے اس کا لینا جائز ہے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/۲۱۲) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (منتخباتِ نظام الفتاوی، جلد اول، ص ۲۰۸، و احسن الفتاوی: ۷/۵۰، و جدید فقہی مسائل، جلد اول، ص ۲٤۹، و جدید فقہی مباحث: ٦/۲۹۰، و رسالہ "پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ اور سود کا مسئلہ" از حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2068
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2068