پنشن فنڈ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #206Urdu

Question

سرکاری ملازمین کو اختتامِ ملازمت کے بعد ماہانہ وظیفہ بحساب نصف تنخواہ کے بطورِ پنشن ملتا ہے، از روئے شریعت اس کا لینا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

پنشن حکومت کی طرف سے محض عطیہ اور قسم کا تعاون ہے لہذا اس کا لینا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
پنشن جو ملازم کو ملازمت سے سبکدوشی پر ملتی ہے جائز ہے ۔ (کفایت المفتی: ۸/۹۷) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
بعض محکموں میں ملازمت ختم ہونے پر حسن کارکردگی کے صلہ میں پنشن ملتی ہے، اس کو بھی سود نہیں کہا جاتا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/۳۹٤، جامعہ فاروقیہ) ۔
آپ کے مسائل میں ہے:
پنشن کی حیثیت ایک لحاظ سے عطیہ کی ہے اس لیے جو معاملہ پنشنر اور حکومت کے درمیان طے ہو جائے وہ صحیح ہے یہ جوا اور قمار نہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۸/۲۹٤) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.