گھڑ دوڑ کی بازی میں محلل کا حکم:
Question
اگر زید اور عمر گھڑ دوڑ میں یہ شرط لگا دیں کہ جو آگے بڑھے گا دوسرا اس کو دس ہزار رینڈ دے گا تو یہ صورت ناجائز ہے، حدیث شریف سے پتا چلتا ہے کہ اس میں محلل کے داخل ہونے سے شرط لگانا جائز ہو جاتا ہے، اس محلل "جواز پیدا کرنے والا" کی کیا صورت ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
گھڑ دوڑ کی بازی میں محلل کے داخل ہو کر جواز پیدا کرنے کی دو صورتیں ہیں: ۔
محلل کی پہلی صورت: ۔
زید اور عمر محلل سے کہیں کہ اگر تم بازی لے گئے تو ہماری طے شدہ رقم تمہیں مل جائے گی اور اگر تم ہار گئے تو تم بازی لے جانے والے کو کچھ نہیں دو گے، بلکہ جیتنے والا اپنے دوسرے فریق سے طے شدہ رقم لے لے گا، اس صورت سے چار شکلیں برآمد ہوتی ہیں:
(۱) اگر محلل جیتا تو اسے بیس ہزار رینڈ ملیں گے ۔
(۲) اگر زید اور عمر میں سے کوئی جیتا تو اسے دوسرے کے دس ہزار ملیں گے، اور محلل کو کچھ نہیں ملے گا ۔
(۳) زید و عمر دونوں محلل سے جیتنے میں برابر رہے تو دونوں کو کچھ نہیں ملے گا ۔
(٤) محلل اور زید یا عمر میں سے کوئی جیتنے میں برابر رہے تو اس میں اختلاف ہے، علامہ شامی رحمه الله کے نزدیک محلل کو کچھ نہیں ملے گا، اور دوسرے کو طے شدہ رقم (دس ہزار رینڈ) ملے گی، اور ملا علی قاری رحمه الله کے نزدیک محلل اور دوسرے جیتنے والے کے درمیان نفع تقسیم ہوگا ۔
ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں ہے:
وصورة إدخال المحلل أن يقولا للثالث إن سبقتنا فالمالان لك وإن سبقناك فلا شيء لنا عليك ولكن الشرط الذي شرطاه بينهما وهو أيهما سبق كان له الجعل على صاحبه باق على ماله فإن غلبهما أخذ المالين وإن غلباه فلا شيء لهما عليه ويأخذ أيهما غلب المال المشروط له من صاحبه. (تبيين الحقائق: ٦/۲۲۸، ملتان).
الدر المختار میں ہے:
إلا إذا أدخلا ثالثاً محللاً بينهما
ثم إذا سبقهما أخذ منهما وإن سبقاه لم يعطهما وفيما بينهما أيهما سبق أخذ من صاحبه. (الدر المختار: ٦/٤۰۳، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
ثم إذا كان المال مشروطاً من جانبين فأدخلا بينهما ثالثاً وقال للثالث إن سبقتنا فالمالان لك وإن سبقناك فلا شيء لنا يجوز استحساناً
وإن سبقناه على التعاقب فالذي سبق صاحبه يستحق المال على صاحبه وصاحبه لا يستحق المال عليه. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۲٤).
وللاستزادة انظر: (عمدة القاري: ۱۰/۱۹۲، ط: ملتان، ورد المحتار: ٦/۷۵۲، سعيد، والفتاوى السراجية، ص ۳۳٦، والبحر الرائق: ۸/٤۸۲).
فتاوی شامی میں ہے:
وإن سبقاه وجاء ا معاً فلا شيء لواحد منهما وإن سبق المحلل مع أحدهما ثم جاء الآخر فلا شيء على من مع المحلل بل له ما شرطه الآخر له كما لو سبق ثم جاء المحلل ثم جاء الآخر فلا شيء للمحلل. (فتاوى الشامي: ٦/٤۰۳، سعيد).
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
وإن جاء المحلل وأحد المستبقين معاً ثم جاء الثاني مصلياً أخذ السابقان سبقه. (مرقاة المفاتيح: ۷/۳۲۰، ملتان).
محلل کی دوسری صورت:
زید اور عمر محلل سے کہیں کہ اگر تم جیتے تو تمہیں کچھ نہیں ملے گا اور اگر ہار گئے تو تم ہم میں سے جیتنے والے کو کچھ نہیں دو گے، اور ہم میں سے جیتنے والا دوسرے سے دس ہزار رینڈ لے لے گا، اس صورت میں بھی قمار کا گناہ نہیں ہوگا ۔
ملاحظہ ہو جواہر الفقہ میں ہے:
فریقین ایک تیسرے گھوڑے سوار مثلاً خالد کو اپنے ساتھ شریک کر لیں پھر شرط کی صورت یہ ٹھہرے کہ زید بڑھے تو عمر ایک ہزار روپیہ اس کو دے اور عمر آگے بڑھے تو زید اتنی ہی رقم اس کو ادا کرے اور اگر خالد بڑھ جائے تو اس کو کچھ دینا کسی کے ذمہ نہیں ۔ (جواہر الفقہ: ۲/۳۵۵، احکام القمار) ۔
(وكذا في الفقه المعاملات: ۲/۷۲، وأشرف التوضيح شرح مشكوة المصابيح: ۲/۵٦۸).
پہلی صورت کی طرح یہاں بھی چار شکلیں نکلتی ہیں:
دوسری دو صورتیں یکساں ہیں اور پہلی شکل میں جب کہ محلل جیت جائے تو اس صورت میں اسے کچھ نہیں ملے گا، اور آخری میں بھی محلل کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ محلل کے لیے یہ شرط ضروری ہے کہ اس کا گھوڑا پہلے دونوں کے گھوڑوں کے مساوی ہو یعنی اس کے جیتنے اور ہارنے کا احتمال ہو، اس کا جیتنا یا ہارنا متیقن نہ ہو ورنہ قمار ہی شمار کیا جائے گا ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: من أدخل فرساً بين فرسين يعني وهو لا يؤمن أن يسبق فليس بقمار، ومن أدخل فرساً بين فرسين وقد أمن أن يسبق فهو قمار. (رواه أبو داود، ص ۳۵۵).
وللاستزادة انظر: (تبيين الحقائق: ٦/۲۲۷، ملتان، الفتاوى الهندية: ۵/۳۲٤. وبدائع الصنائع: ٦/۲۰٦، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2075
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2075