بینک میں بازی لگا کر رقم جیتنے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #216Urdu

Question

جنوبی افریقہ کے ایک خاص بینک نے ایک نئے قسم کا اکاؤنٹ ایجاد کیا ہے اس اکاؤنٹ میں وہ سود نہیں دیتا بلکہ جو بھی اکاؤنٹ کھولتا ہے وہ خود بخود ایک مقابلہ میں شریک ہو جاتا ہے اور دس لاکھ رینڈ جیتنے کا احتمال ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص جیت گیا تو اس کے لیے اس رقم کا لینا جائز ہو گا یا نہیں؟

Answer

اگر جمع کردہ رقم کا برقرار رہنا یقینی ہو اور اس کے ساتھ زائد رقم ملتی ہو تو بعض حضرات کے نزدیک یہ سود ہے، اور اگر جمع کردہ رقم سوخت ہو جاتی ہو تو یہ صریح قمار اور جوا ہے، دونوں شریعت کی نگاہ میں حرام اور ناجائز ہیں ۔

قال الله تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا الربا أضعافاً مضاعفة، واتقوا الله، لعلكم تفلحون﴾ (سورة آل عمران، الآية: ۱۳۱).

فتاوی شامی میں ہے:

وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه، وهو حرام بالنص. (رد المحتار: ٦/٤۰۳، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).

اسلام اور جدید معاشی مسائل میں حضرت مفتی تقی صاحب مد ظلہ فرماتے ہیں:
بعض حضرات نے انعامی بانڈز کو جائز کہا ہے اس نقطہ نظر سے دیکھا کہ چونکہ یہاں تعلیق التملیک علی الخطر نہیں ہے کیوں کہ جتنے پیسے دیے ہیں وہ ہر حال میں مل جائیں گے لہذا یہ قمار نہیں ہے تو یہ جائز ہو گیا، لیکن یہ خیال درست نہیں ہے کیوں کہ یہاں اگر چہ قمار بذاتِ خود نہیں ہے لیکن اس میں ربا ہے اس لیے کہ اگر اس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آتا ہے تو اس کو مثلاً اگر سو روپے دیے تھے اس کے عوض میں ایک لاکھ ایک سو روپے ملیں گے ۔
بعض حضرات کو یہ شبہ ہوا کہ یہ سود بھی نہیں ہے اس لیے کہ جب میں نے بانڈز لیا تھا تو میرے ساتھ کوئی مشروط زیادتی کا معاملہ نہیں تھا ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ مجموعہ مقروضین کے ساتھ زیادتی مشروط ہے اور اگر چہ صراحت نہیں ہوتی کہ ہم اس کے اوپر کوئی منافع دیں گے لیکن عمل ہوتا ہے اور وہ عمل مستمر اور تعامل ہے کہ جب کوئی شخص اپنا قرض واپس لیتا ہے تو حکومت اس کو کچھ زیادہ دیتی ہے، لہذا یہاں اگر چہ لفظوں میں شرط نہیں تھی لیکن "المعروف کالمشروط" میں آ گیا ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱۱ ۔ ۷۸) ۔
البتہ دیگر بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ رقم سودی نہیں کیوں کہ سود کی نفی کی گئی ہے، اور جو انعام ملا وہ انعام ہی ہے سود نہیں، اور
"كل قرض جر نفعاً فهو ربا"
مشروط پر محمول ہے اور یہاں شرط نہیں لگائی کہ مجھے ہی انعام ملے گا بلکہ یہ انعام ہر ایک کو نہیں ملتا لہذا یہ مشروط نہیں ہے، کل قرض جر نفعاً کے ذیل میں إذا کان مشروطاً لکھا ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

و في الذخيرة: إن لم يكن النفع مشروطاً في القرض فعلى قول الكرخي رحمه الله لا بأس به. (فتاوى الشامي: ۵/۱٦٦، مطلب كل قرض جر نفعاً حرام، سعيد).
قال الجرجاني رحمه الله في التعريفات: الربا: هو في اللغة: الزيادة، وفي الشرع: هو فضل خالٍ عن عوض شرط لأحد العاقدين. (التعريفات، ص ۱۱۲، بيروت).
وفي الهداية: لأن الربا: هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه. (الهداية: ۳/۷۸، باب الربا).

حضرت مفتی نظام الدین صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
سوال کا ماحصل یہ ہے: یہاں پر ڈاک خانہ میں ایک اسکیم جاری ہے کہ وہاں ایک پونڈ دو پونڈ پانچ پونڈ جمع کرتے ہیں اور اس کی نمبر وار رسید دیتے ہیں، اس پر کوئی سود نہیں لگتا لیکن ہر ماہ اخبارات میں کچھ نمبرات نکلتے ہیں ایک پونڈ کا سو پونڈ ملتا ہے، تو زیادہ رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ جمع کی ہوئی پوری رقم ملتی ہے ۔
جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ زائد رقم لینا جائز ہے، کیوں کہ روپیہ جمع کرتے وقت یہ معاملہ ہوتا ہے کہ اس پر واپسی کے وقت کچھ زائد رقم نہیں ملے گی اور معاملہ غیر سودی ہو گا، اور زیادتی کے ملنے کا یقین بھی نہیں ہوتا اور نہ اس کا مطالبہ ہی ہوتا ہے اور نہ سب کو زیادتی مل ہی جاتی ہے، بلکہ محکمہ محض اپنی صواب دید اور محض اپنے ضابطہ کے مطابق کچھ نمبرات کے لیے زائد رقم دینے کا اعلان کرتا ہے اور جن کا نام نکلتا ہے صرف ان کو دیتا ہے اس لیے یہ زیادتی جر نفعاً کا مصداق نہیں ہوئی اور اس زیادتی کو شرعاً ربا نہیں کہیں گے ۔
ہاں اگر کوئی تقوی اختیار کرے تو یہ الگ اور اولی بات ہو گی، اور تقوی یہ ہو گا کہ اس رقم کو اس محکمہ میں نہ چھوڑے بلکہ وہاں سے نکال کر غرباء و مساکین پر خرچ کر دے یا کسی کارِ خیر یا رفاہِ عام کے کاموں میں خرچ کر دے ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱/۱۹٤ ۔ ۱۹۵) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر چہ بعض حضرات نے اس کو سود میں شامل نہیں کیا، تاہم اس جیسے معاملہ سے اجتناب بہتر ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.