بینک کی تنخواہ کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #339Urdu

Question

بینک کی تنخواہ کا حکم:

Answer

اس میں اصل قاعدہ یہ ہے کہ اکثر آمدنی اگر حرام ہو تو اس مال سے ہر چیز لینا حرام ہے، خواہ تنخواہ ہو، پیسے ہوں، لیکن بینک میں جو روپیہ ہوتا ہے وہ اکثر حرام نہیں ہوتا اس میں اصل سرمایہ ہوتا ہے، بینک کے مالکین اور دوسرے ڈپازیٹرز کے پیسے ہوتے ہیں اکثریت ان کی ہے ۔ لہذا اکثریت مال حرام کی نہیں ہے، اس لیے اگر کوئی کام جائز کر کے اس کے پیسے لیے جائیں تو جائز ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱۳٦) ۔
حضرت مفتی تقی صاحب دوسری جگہ لکھتے ہیں:
بینک کی آمدنی کے چار ذرائع ہیں: (۱) اصل سرمایہ، (۲) ڈپازیٹرز کے پیسے، (۳) سود اور حرام کاموں کی آمدنی، (٤) جائز خدمات کی آمدنی، اس سارے مجموعے میں صرف نمبر ۳ حرام ہے، باقی کو حرام نہیں کہا جا سکتا، اور چونکہ ہر بینک میں نمبر ۱ و نمبر ۲ کی اکثریت ہوتی ہے، اس لیے یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجموعے میں حرام غالب ہے، لہذا کسی جائز کام کی تنخواہ اس سے وصول کی جا سکتی ہے ۔
یہ بنیاد ہے جس کی بناء پر علماء نے یہ فتوی دیا ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس میں خود کوئی حرام کام کرنا نہ پڑتا ہو، جائز ہے، البتہ احتیاط اس میں ہے کہ اس سے بھی اجتناب کیا جائے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳/۳۹۵) ۔
امداد الاحکام میں ہے:
اگر ملازم کو یہ معلوم ہو کہ یہ تنخواہ جو مجھے دی گئی ہے یہ بیع فاسد کے ثمن سے دی گئی ہے یا سود کی آمدنی سے، جب تو اس کا لینا درست نہیں، اور اگر سب مخلوط ہو، اور اس کو معلوم نہ ہو کہ یہ تنخواہ بیع صحیح کی قیمت سے ہے یا فاسد کی تو تنخواہ حلال ہے ۔

قال في الأشباه: غلب على ظنه أن أكثر بياعات أهل السوق لا تخلو عن الفساد، فإن كان الغالب هو الحرام تنزه عن شرائه، لكن مع هذا لو اشتراه يطيب له، قال الحموي: ووجهه أن كون الغالب هو الحرام لا يستلزم كون المشتري حراماً، لجواز كونه من الحلال المغلوب والأصل الحل. (الأشباه مع شرح الحموي ص ۹۲).
قال الشيخ دام ظله: إذا أعطي المؤجر الأجرة من المال المخلوط والأجير عالم بالخلط، فكيف يجوز له أخذها والخبث تمكن بها بالخلط، قلت: هذا على قولهما، وهو الأحوط، ولكن على قول أبي حنيفة رحمه الله فالخلط مستهلك، فإن قيل هذا يفيد ملكه لا جل استمتاعه به، قلت: عبارات الفتاوى تدل على جواز الاستمتاع أيضاً على قوله قال في فتاوى قاضيخان: إن كان غالب مال المهدي من الحلال، لا بأس بأن يقبل الهدية ويأكل مالم يتبين عنده أنه حرام، لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فيعتبر الغالب

(
امداد الاحکام: ۳/۵۳۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.