ایجنٹ کے کام نہ کرنے پر رقم واپس کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #346Urdu

Question

ہمارے یہاں ملاوی میں ایک شخص مثلاً زید نے عمر کو پانچ لاکھ روپے کاغذات بنانے کی غرض سے دیے، عمر نے پیسے آفیسر کو کاغذات بنانے کے لیے دیے، آفیسر نے پیسے لے لیے مگر کوئی کام نہیں کیا، اب سوال یہ ہے کہ کیا عمر پر لازم ہے کہ زید کے پیسے واپس کرے؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر زید نے عمر کو رقم دی کہ عمر اس کا کام کرا دے گا اور کام کی ذمہ داری قبول کی جیسے عام طور پر ہوتا ہے تو کام نہ ہونے کی صورت میں عمر پر رقم کی واپسی کی ذمہ داری آتی ہے۔
مثلاً اگر کسی کو روٹیاں پکانے کے لیے اجرت پر لیا اور روٹیاں تنور سے نکالنے سے پہلے جل گئیں تو اس پر تاوان آئے گا۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ولو احترق (أي الخبز) قبله (قبل إخراجه) لا أجر له ويغرم اتفاقاً لتقصيره، درر وبحر. وفي الشامية: قوله لتقصيره أي بعدم القلع من التنور. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۱٦، سعيد).

اسی طرح اگر کسی نے کھانا پکانے والے کو مقرر کیا کہ ہمارے لیے کھانا پکاؤ اور اس نے کھانا جلا دیا، یا ٹھیک نہیں پکایا تو اس پر تاوان آئے گا۔

قال في الدر المختار: فإن أفسد أي الطعام الطباخ أو أحرقه أو لم ينضجه فهو ضامن للطعام. (الدر المختار: ٦/۱۷، سعيد).

نیز اگر کسی نے دودھ پلانے والی کو بچہ کو دودھ پلانے کے لیے کرایہ مقرر کیا اور مرضعہ نے بکری کا دودھ پلایا تو اجرت کی مستحق نہیں ہو گی۔

وقال في الهداية: وإن أرضعته في المدة بلبن شاة فلا أجر لها، لا نها لم تأت بعمل مستحق عليها، وهو الإرضاع فإن هذا إيجار وليس بإرضاع. (الهداية: ۳/۳۰۵).

لیکن اگر عمر نے یہ کہا ہو کہ کام کا میں ذمہ دار نہیں ہوں، صرف بطورِ وکیل آپ کی رقم آفیسر تک پہنچاؤں گا تو پھر عمر پر ذمہ داری نہیں ہے۔

قال في البدائع: ومنها أي من حقوق التوكيل وأحكامها، أن المقبوض في يد الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين أمانة بمنزلة الوديعة. (بدائع الصنائع: ٦/۳٤، كتاب الوكالة، سعيد).

اور اگر کسی قسم کی صراحت نہ کی ہو تو پھر عرف کو دیکھا جائے گا اور عرف میں اتنی بڑی رقم کام کی ذمہ داری پر ہی دی جاتی ہے اس لیے عمر ذمہ دار ہو گا۔ ہاں اگر عمر واقعی مجبور ہے تو زید اس کے ساتھ رعایت کا معاملہ کر لے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.