درختوں کو کرا یہ پر دینے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #361Urdu

Question

اگر کوئی درختوں کو کرایہ پر دے دے تو یہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو اس کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

درختوں کو اجارہ پر دینا ناجائز ہے اس لیے کہ اس میں استہلاکِ عین ہے جب کہ اجارہ کا مقصد عین کو باقی رکھتے ہوے نفع حاصل کرنا ہے ۔
اس کے جواز کا ایک حیلہ علماء نے یوں بیان کیا ہے کہ پہلے مالک درختوں کو مساقات پر اس طور پر دے کہ ایک ہزار میں سے ایک حصہ مالک کا اور باقی تمام حصے مساقی کے اور اس کے بعد اسی شخص کو وہ زمین مثلی اجرت پر اتنا اضافہ کر کے دے دے جتنا عقدِ مساقات میں کم کیا تھا ۔ شرط یہ ہے کہ زمین قابل زراعت ہو نیز یہ حیلہ اس وقت صحیح ہو سکتا ہے جب زمین اور درخت مال وقف یا مال یتیم میں سے نہ ہو، چنانچہ اگر کسی نے مال وقف یا مال یتیم میں یہ حیلہ جاری کر دیا تو دونوں عقد باطل ہو جائیں گے ۔ مساقات تو اس لئے کہ اس میں یتیم و وقف کا ضرر ہے اور اجارہ اس لئے کہ وہ مساقات کے بطلان کے بعد کیا گیا تو گویا ارض مشغولہ پر اجارہ منعقد ہوا اور یہ باطل ہے اور اس لئے حیلہ میں عقد مساقات کو مقدم کرنے کی شرط لگائی گئی ہے کہ اگر معاملہ بالعکس کر دیا تو اجارہ زمین باطل ہو جائے گا ۔
لكونها في الأرض المشغولة.
(مستفاد از فتاوی عثمانی: ۳ / ۳۷۹) ۔
نیز اس کے جواز کی دوسری تدبیر یہ ہے کہ زمین کو کرایہ پر دے دے اور درخت کے استعمال کی اجازت دے دے اور بعد میں مالک کے رجوع کرنے کے احتمال سے بچنے کے لئے اپنی اجازت سے عقد کے وقت اس قسم کے الفاظ کہے جائے ۔
كلما رجعت في الإذن تكون مأذوناً.

ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ولا يجوز بيع المراعي ولا إجارتها

وأما الإجارة فلأنها عقدت على استهلاك عين مباح ولو عقدت على استهلاك عين مملوك بأن استأجر بقرة لشرب لبنها لا يجوز فهذا أولي. (الهداية: ۳/۵٤).

فتاوی رشیدیہ میں ہے:
درخت کا اجارہ درست نہیں ہے کیوں کہ اجارہ منافع کا ہوتا ہے اعیان و زوائد کی بیع ہوتی ہے (فتاوی رشیدیہ ۵٤٦) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اجارہ میں شے مستاجرہ سے نفع حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے کہ استہلاک عین زین میں کاشت کرنا اور اس سے غلہ حاصل کرنا تو اجارہ میں داخل ہے لیکن مالک زمین کے درختوں سے پھل حاصل کرنا یہ اجارہ میں داخل نہیں بلکہ یہ تو بیع ہو گئی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦ / ۵۵۹، و کذا فی امداد الاحکام: ۳ / ۵۷۵) ۔
حیلہ کے دلائل کتب فقہ سے ملاحظہ ہو:

وأفاد فساد ما يقع كثيراً من أخذ كرم الوقف أو اليتيم مساقاة، فيستأجر أرضه الخالية من الأشجار بمبلغ كثير ويساقي على أشجارها بسهم من ألف سهم فالحظ ظاهر في الإجارة لا في المساقاة فمفاده فساد المساقاة بالأولي. (بالأولي)

ثم اعلم أنه حيث فسدت المساقاة بقيت الأرض مشغولة فيلزم فساد الإجارة أيضا كما قدمناه وإن كان الحظ والمصلحة فيها ظاهرين، فتنبه لهذه الدقيقة. وفي فتاوى الحانوتي: التنصيص في الإجارة على بياض الأرض لا يفيد الصحة حيث تقدم عقد الإجارة على عقد المساقاة، أما إذا تقدم عقد المساقاة بشروطه كانت الإجارة صحيحة كما صرح به في البزازية

وهذا بالنسبة إلى الوقف وأما مساقاة المالك فلا ينظر فيها إلى المصلحة كما لو آجر بدون أجر المثل. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦ /۸. ۹، سعيد).
وفي الدر المختار: وإن استأجر الشجر إلى وقت الإدراك بطلت الإجارة

والحيلة

أن يشتري. وفي الشامية: قوله (وأن يشتري الخ) هذه حيلة ثانية وبيانها أن المشتري إما أن يكون مما يوجد

أو لم يوجد منه شيء

أو يكون وجد بعضه دون بعض كثمر الأشجار المختلفة الأنواع

وفي الثالث يشتري الموجود من الثمر بكل الثمن ويحل له البائع ما سيوجد لأن استئجار الأرض لا يتأتى هنا لأن الأشجار باقية على مالك البائع. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۵۵۸، سعيد).
قال الرافعي: (لأن استئجار الأرض) لا يدخل لعدم تأتي إجارة الأرض هنا فإنه لو قيل بصحتها لا يحل للمشتري ما سيوجد من الثمار فالعمدة في حله هو الاحلال. (التحرير المختار: ٤/۱۱۸، سعيد).
وفي الأشجار الموجود ويحل له البائع ما يوجد فإن خاف أن يرجع يقول: على أني متى رجعت في الإذن تكون مأذوناً في الترك. شمني ملخصاً.
وفي الشامية: (قوله وفي الأشجار الموجود) أي وفي ثمار الأشجار يشتري الموجود منها. (فإن خاف الخ)

. وحاصله: أنه على قول محمد يمكن الرجوع هنا عن الإحلال بأن يقول: رجعت عن الإحلال المعلق وعن المنجز فيتعين حينئذ الاحتيال بالعاملة على الأشجار. (الدر المختار مع رد المحتار: ٤/۵۵۸، سعيد).
قال الرافعي (فيتعين حينئذٍ الاحتيال) وفي السندي بعد ذكره عن الرحمتي نحو ما ذكره المحشي ما نصه فالحيلة عند ذلك ان يقول على أني كلما رجعت في الإذن تكون أيها المشتري مأذوناً في الترك بإذن جديد فلا يصح له رجوع عن الإذن المعلق وإبطال المنجز لمراعاة لفظه كلما كما حققه أهل الأصول. (التحرير المختار: ٤/۱۱۸، سعيد).

لیکن پہلے حیلے کا سمجھنا بھی مشکل ہے اور صعب العمل ہے نیز جو مالک درختوں کو کرایہ پر دے گا عام طور پر پھلوں کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہوگا، جب کہ اس صورت میں پھلوں کے ساتھ مالک کا تعلق ایک فی ہزار کے حساب سے ہوگا اس لیے دوسرا حیلہ آسان اور سہل العمل ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.