مساقات کا شرعی حکم:

5 min readFatwa Vol 6 #36Urdu

Question

زید نے عمر کو اپنے باغ کی نگرانی اور پانی دینے وغیرہ کے لیے تین ہزار رینڈ ماہانہ تنخواہ پر ملازم رکھا لیکن اس نے باغ کی نگہداشت میں غفلت کی اور باغ نے کما حقہ پھل نہیں دیے، کیوں کہ اس کو صرف اپنی تنخواہ کی فکر تھی، اب زید معلوم کرنا چاہتا ہے کہ ملازم رکھنے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ہے جس میں ملازم کے فائدہ کے ساتھ میرا بھی فائدہ ہو جائے۔

Answer

بصورتِ مسئولہ تلافی نقصان کا حل شریعتِ مطہرہ میں مساقات ہے۔
مساقات کہتے ہیں اپنے درخت یا باغ کو کسی دوسرے کے حوالے کرنا تاکہ وہ اس کو سیراب کرے اور اس کی دیکھ بھال کرے اور اس کو اس قابل بنائے کہ اس میں زیادہ پھل لگے، اور شرط یہ ٹھہرائے کہ پیدا ہونے والے پھل کا ایک معین حصہ اجرت میں دیا جائے گا۔
مفتی بہ قول کے مطابق شرعاً یہ معاملہ جائز اور درست ہے، حضرت نبی کریم ﷺ نے اہل خیبر کے ساتھ یہ معاملہ فرمایا تھا۔
بنا بریں بصورتِ مسئولہ مزدور سے یہ کہ دے کہ تم باغ کی خدمت کرو گے پانی وغیرہ دو گے اور تم کو کل پیداوار میں سے اتنا حصہ ملے گا۔ اس طور پر جانبین سے نقصان کی تلافی ہو جائے گی ۔

أخرج البخاري ومسلم عن عبد الله بن عمر رضي الله عنه أنه قال: عامل النبي ﷺ أهل خيبر بشطر ما يخرج منها من ثمر أو زرع. (أخرجه البخاري، رقم: ۲۳۲۹، ومسلم، رقم: ۱۵۵۱).

بدائع الصنائع میں ہے:

قال أبو حنيفة رحمه الله: إنها غير مشروعة وقال أبو يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله والشافعي رحمه الله مشروعة واحتجوا بحديث خيبر أنه عليه الصلاة والسلام دفع نخيلهم معاملة. (بدائع الصنائع: ٦/۱۸۵، كتاب المعاملة، سعيد).

ہدایہ میں ہے:

وقالا: جائز ة إذا ذكر مدة معلومة وسمي جزء من الثمرة مشاعاً والمساقاة هي المعاملة في الأشجار والكلام فيها كالكلام في المزارعة. (الهداية: ۴/۴۳۱، كتاب المساقاة).

الموسوعہ میں ہے:

اختلف الفقهاء في حكم المساقاة على أقوال: القول الأول: إنها جائز ة شرعاً، هو قول المالكية، والحنابلة، والشافعية، ومحمد رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله من الحنفية وعليه الفتوى عندهم. واستدلوا بحديث ابن عمر رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ أعطي خيبر اليهود أن يعملوها ويزرعوها ولهم شطر ما يخرج منها. وبالقياس على المضاربة من حيث الشركة في النماء فقط دون الأصل. (الموسوعة الفقهية الكوييية: ۳۷/۱۱۳، وزارة الاوقاف).

مساقاۃ کی شرائط:
(۱) عمل صرف عامل کے ذمہ ہو باغ کا مالک عمل میں شریک نہ ہوگا، یہی مساقاۃ کا تقاضا ہے۔
(۲) باغ مکمل طور پر عامل کے حوالہ کر دیا جائے تاکہ وہ باغ کی درستگی وغیرہ یک سوئی کے ساتھ انجام دے سکے۔
(۳) پیداوار کے بعض حصہ کو اجرت ٹھہرایا جائے مثلاً آدھا، یا تہائی، یا چوتھائی۔ وغیرہ۔
(٤) مدت متعین کر لی جائے، ایسی مدت جس میں آسانی کے ساتھ ایک مرتبہ پھل لگ کر تیار ہو جائے اور اس کو اتارا جا سکے، اگر ایسی مدت متعین کی کہ جس میں عام طور پر ایک مرتبہ پھل لگ کر تیار نہیں ہوتا، تو اس سے عقد فاسد ہو جائے گا۔ لیکن اگر سرے سے مدت متعین ہی نہ کی تو عقد صحیح ہو گا اور پہلی کٹائی پر محمول ہو گا جیسا کہ اس کی تفصیل باب المزارعت کے تحت گزر چکی ہے ۔
الموسوعہ میں ہے:

قال الحنفية: المساقاة كالمزارعة في الخلاف والحكم وفي الشروط إلا المدة، والقياس أن تذكر المدة لما فيها من معني الإجارة، وفي الاستحسان: يجوز، وإن لم يبينها وتقع على أول ثمرة تخرج، لأن وقت إدراك الثمرة معلوم والتفاوت فيه قليل ويدخل فيه المتيقن. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ۳۷/۱۲٦، وزارة الاوقاف).

مزید ملاحظہ ہو: (
البحر الرائق: ۸/۱٦٤، ط: الماجدية، وتكملة فتح القدير: ۹/۴۷۸، دار الفكر، والموسوعة الفقهية الكويتية: ۳۷/۱۱۳۱٤۰،
و احسن الفتاوی:
۷
/
۳۸۰
، و جدید معاملات کے شرعی احکام:
۲
/
۲٤٤
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

قال الله تعالى: ﴿أحلت لكم بهيمة الأنعام﴾
وقال تعالى: ﴿قل أحل لكم الطيات، وما علمتم من الجوارح مكلبين تعلمونهن مما علمكم الله فكلوا مما أمسكن عليكم واذكروا اسم الله عليه، واتقوا الله﴾
(سورة المائدة)

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.