رب المال کے لیے اپنے مکان کا کرایہ لینے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #388Urdu

Question

حامد نے محمود کو اپنی ایک دکان تجارت کے لیے فراہم کر دی، اور کل سرمایہ بھی حامد کا ہے، محمود فقط تجارت کرتا ہے، حامد نے محمود سے کہا کہ میری دکان کا کرایہ ماہانہ دس ہزار رینڈ آپ سے وصول کروں گا، چاہے تجارت میں نفع ہو یا نقصان، کیا ایسا عقد درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ مضارب رب المال کے ساتھ عقد منعقد کر سکتا ہے، اور اجارہ بھی ایک عقد ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں رب المال کا مضارب سے ماہانہ دس ہزار رینڈ بطورِ کرایہ وصول کرنا درست ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

ولو شري من رب المال بألف عبداً شراه رب المال بنصفه رابح بنصفه وكذا عكسه لأنه وكيله ومنه علم جواز شراء المالك من المضارب وعكسه. وفي رد المحتار: قوله وكذا عكسه وهو ما لو كان البائع المضارب والمسألة بحالها بأن شري رب المال بألف عبداً شراه المضارب بنصفه ورأس المال ألف فأنه يرابح بنصفه. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٦۵۹، سعيد).
(وكذا في البحر الرائق: ۷/۲۷۱، كوئته. والفتاوى الهندية: ٤/۲۹۲. وأحسن الفتاوى: ۷/۲٤۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.