مضاربت کو وقت کے ساتھ مقید کرنے کا حکم:
Question
عقدِ مضاربت میں اگر کسی نے یہ کہا کہ آپ کا اختیار ہے جتنی مدت تک کے لیے رقم لگائے، لیکن کم از کم ۵ سال کی مدت، اور زیادہ سے زیادہ ۱۵ سال ہونا ضروری ہے، کیا ایسی شرط لگانا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ عقدِ مضاربت کو وقت کے ساتھ مقید کرنا اور یہ شرط لگانا جائز اور درست ہے، البتہ فقہاء کے کلام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اقل مدت کی شرط صحیح نہیں ہے، اس سے پہلے بھی فسخ کرنے کا اختیار ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإن وقت للمضاربة وقتاً بعينه يتقيد به حتى يبطل العقد بمضيه. (الفتاوى الهندية: ٤/۲۹۸).
(وكذا في شرح المجلة: ٤/۳۵۵، المادة: ۱٤۲۰).
اسلامی فقہ میں ہے:
وقت کی تعیین کی صورت میں اس مدت کے ختم ہوتے ہی دونوں میں سے ہر ایک کو معاملہ ختم کر دینے کا اختیار ہے ۔ (اسلامی فقہ:
۲
/
۳۹۷
) ۔
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
حنفی اور حنبلی مکاتبِ فکر کے مطابق مضاربہ کو ایک خاص مدت کے اندر محدود کیا جا سکتا ہے، مثلاً ایک سال، چھ ماہ وغیرہ، جس کے بعد مضاربہ بغیر کسی نوٹس کے ختم ہو جائے گا، کیا فریقین کی طرف سے مضاربہ کی کم از کم مدت بھی طے کی جا سکتی ہے جس سے پہلے مضاربہ کو ختم نہ کیا جا سکے؟ ایک ضابطہ عموماً یہاں ذکر کیا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی کوئی مدت متعین نہیں کی جا سکتی، اور ہر فریق کو جب وہ چاہے معاہدہ ختم کرنے کا اختیار ہے ۔
فریقین کا مضاربہ ختم کرنے کا یہ غیر محدود اختیار موجود ہ حالات میں بعض مشکلات پیدا کر سکتا ہے، اس لیے کہ آج کل اکثر کاروباری مہمیں اپنے ثمرات دکھانے کے لیے کچھ وقت کی محتاج ہوتی ہیں، انہیں پیچیدہ اور مستقل مزاجی والی کوششیں درکار ہوتی ہیں، اس لیے اگر رب المال کاروباری مہم کے بالکل شروع ہی میں مضاربہ ختم کر دیتا ہے تو یہ بات اس منصوبے کے لیے بڑی مشکل کا باعث ہو گی، خاص طور پر مضارب کے لیے شدید دھچکا ہوگا جو کہ اپنی تمام کوششوں کے باوجود کچھ نہیں کما سکے گا، اس لیے اگر عقدِ مضاربہ میں داخل ہوتے وقت ہی فریقین اس بات پر متفق ہو جاتے ہیں کہ کوئی فریق بھی ایک معینہ مدت کے اندر چند مخصوص حالات کے علاوہ مضاربہ کو ختم نہیں کرے گا، تو یہ بات بظاہر شریعت کے کسی اصول کے خلاف معلوم نہیں ہوتی، بالخصوص اس حدیث کی روشنی میں، جس میں یہ آیا ہے:
المسلمون على شروطهم إلا شرطاً أحل حراماً أو حرم حلالاً". (رواه الترمذي وصححه، برقم: ۱۳۵۲، في باب ما يذكر عن رسول الله ﷺ في الصلح بين الناس).
مسلمانوں کے درمیان طے شدہ شرطوں کو برقرار رکھا جائے گا، سوائے ان شرطوں کے جو کسی حرام کی اجازت دے دیں یا کسی حلال کو حرام کر دیں ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل:
۵
/
٤٦
،
٤۷
، بعنوان "مضاربہ کو ختم کرنا " ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2261
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2261