حرام مغز کھانے کا شرعی حکم:

10 min readFatwa Vol 6 #94Urdu

Question

حرام مغز جو لوگوں میں مشہور ہے اس کا کھانا کیسا ہے حرام یا مکروہ یا مباح یا خلافِ اولی ہے، نیز چھوٹے جانوروں یا مرغیوں سے نکالنا بھی باعثِ کلفت ہے ۔ آپ حکمِ شرعی کی طرف رہنمائی فرمائیے؟

Answer

حرام مغز کا کھانا مکروہ ہے اور راجح قول یہ ہے کہ اس میں کراہتِ تنزیہی ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

كره من الشاة الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر ونخاع الصلب كذا في الكنز. (الفتاوى الهندية: ٦/٤٤۵).

کنز الدقائق میں ہے:

كره من الشاة: الحياء [ الفرج ] والخصية، والغدة، المثانة، والمرارة، والدم المسفوح، والذكر.
وفي تعليقات الكنز للشيخ سائد بكداش: قال: لورود الأثر في النهي عن هذه الأشياء، ولاستخباث النفوس السليمة لها، وأما الدم: فقال أبو حنيفة رحمه الله بحرمته لثبوت النص في تحريمه.
تنبيه: جاء ت في ص
۲۱۷
من نسخة الكنز المطبوعة في الهند سنة
۱۲۹٤
هــ زيادة جملة على هذه السبع، وهي: "ونخاع الصلب"، وهو حكم تفردت به هذه النسخة دون غيرها من النسخ الخطية والمطبوعة، ولم يذكر هذا الفرع أيضاً في الكنز مع تتمة الطوري
۸
/
۵۵۳
، ولا في تفريعات الطوري، وكذلك في بقية الشروح، ينظر: تبيين الحقائق
٦
/
۲۲٦
، فتح المعين لا بي السعود
۳
/
۵٦۰
، كشف الحقائق
۲
/
۳۳۸
، وكذلك لم يذكر في الدر المختار، ولا في فروع ابن عابدين عليه
٦
/
۷٤۹
.
في حين أن علماء الهند في الفتاوى الهندية (العالمكيرية)
٦
/
٤٤۵
اعتماداً منهم على هذه المطبوعة الهندية من الكنز قرروا حكماً شرعياً وهو: كراهة أكل نخاع الصلب، حيث كتبوا في الفتاوى: "والنخاع الصلب، وكذا في الهندية". وكتب مصحح الفتاوى الهندية معلقاً في الحاشية: قوله: والنخاع الصلب، ولم أجد ذ لك في عبارة الكنز، ولا في شرحه التبيين. (تعليقات الشيخ سائد بكداش على الكنز، ص ٦۹٤، مسائل شتي، ط: دار البشائر الإسلامية).

کنز مطبوعہ امدادیہ ملتان میں (ص ٤
۹٦
) پر نخاع الصلب کا ذکر موجود ہے، لیکن اس کے محشی مولانا حبیب الرحمن صاحب رحمہ اللہ نے بھی اس کا انکار کیا ہے ۔ عبارت ملاحظہ ہو:

قوله ونخاع الصلب المراد به ما يقال في الهندية "حرام مغز" واعلم أن قوله ونخاع الصلب لم يوجد في جميع الشروح من المتن وإنما هو في النسخ المطبوعة ولم يذكر صاحب الدر المختار أيضاً فيما عدوه من الأشياء المكروهة ولم يأخذه في نظم الذي ذكر نقلته من ملا مسكين أيضاً بل اكتفي فيه على سبعة فافهم. "حبيب الرحمن". (حاشية كنز الدقائق، ص ٤۹٦، ط: إمدادية ملتان، پاكستان).

خلاصہ یہ ہے کہ کنز الدقائق کے ہندوستانی نسخوں میں نخاع الصلب کا ذکر موجود ہے لیکن دیگر مخطوطہ و مطبوعہ کسی بھی نسخہ میں اس کا ذکر موجود نہیں ہے نیز عالمگیری میں بحوالہ کنز مذکور ہے، لیکن حاشیہ میں وضاحت کر دی ہے کہ یہ لفظ کنز اور اس کی شرح تبیین میں موجود نہیں ہے، لہذا کنز کی عبارت مشکوک ہو گئی اور سائد بکداش کی تحقیق کے مطابق کالعدم ہوئی، لہذا نخاع الصلب کا مکروہ ہونا مشکوک ہو گیا ۔ البتہ اگر مذہب کی دیگر کتب میں مکروہ لکھا ہو تو کراہت ثابت ہو گی لیکن تحریمی کا اثبات پھر بھی مشکل ہے فقط تنزیہی ثابت ہو سکتی ہے ۔ چنانچہ علامہ سید احمد طحطاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(
قوله والدم المسفوح) أي السائل من العروق أما الدم الباقي في العروق بعد الذبح لا يكره كما في المفتاح وزيد نخاع الصلب. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۳٦۰، ط: كوئته).

لہذا اگر نخاع الصلب بآسانی نکال سکتے ہیں تو نکالنا چاہیے لیکن اگر چھوٹے جانوروں میں اس کا نکالنا مشکل ہو تو پھر اس کا نکالنا ضروری نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ مجموعۃ الفتاوی میں تحریر فرماتے ہیں:
سوالـ: حرام مغز مکروہِ تحریمی ہے یا مکروہِ تنزیہی اگر مکروہِ تحریمی ہے تو ہر چھوٹے بڑے جانور کا حرام مغز نکالنا واجب ہے جیسے بکری مرغ چڑیا کبوتر وغیرہ یا صرف بڑے جانوروں کا؟
جواب: نصاب الاحتساب اور مطالب المؤمنین وغیرہ میں اس کو مکروہ لکھا ہے اور ظواہر کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کراہت تنزیہی ہے تحریمی نہیں ہے پس جن جانوروں کے حرام مغز کے نکالنے میں دشواری ہو ان کا حرام مغز نکالنا ضروری نہیں ہے ۔ (معلم الفقہ ترجمہ اردو مجموعۃ الفتاوی، جلدِ دوم، ص
۳۲۱
، ط: آرام باغ کراچی) ۔
نصاب الاحتساب کی عبارت ملاحظہ ہو:

وأما ما يكره فهو عشرة: الغدة، والقبل، والدبر، والذكر، والخصيان، والمرارة، والمثانة، ونخاع الصلب

الخ. (نصاب الاحتساب، الباب الثامن والخمسون في الاحتساب على الطباخ، ص ۳۷۵).

حضراتِ اکابر رحمہ اللہ کی عبارات بھی اس بارے میں مختلف ہیں ۔ چند فتاوی کی عبارات حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
کپورے کھانا مکروہ ہے گردے جائز ہیں حرام مغز نہ حرام ہے نہ مکروہ یونہی بے چارہ بدنام ہو گیا ۔ (کفایت المفتی:
۸
/
۲٦۲
، دار الاشاعت) ۔
صاحبِ بذل المجہود حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
نخاع کی حرمت فقہ کی کتب میں میری نظر سے نہیں گزری ۔ (فتاوی مظاہر علوم، ص
۲۹۹
) ۔
حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بر حرمتِ حرام مغز ہیچ دلیل قائم نہ شد و اجزاء سبعہ از شاۃ مکروہ داشتہ اند در آن ہم مغز حرام داخل نیست پس خوردنِ آں حلال ست ۔ (امداد الاحکام: ٤/
۳۱۲
) ۔
ایک اور استفتاء کے جواب میں رقم طراز ہیں:
حرام مغز کی حرمت کا مصرح ہونا ہم کو کتبِ فقہ میں نہیں ملا اگر آپ نے تصریح دیکھی ہو تو عبارت کتاب مع حوالہ صفحہ و جلد و باب لکھ کر مطلع فرمائیں ۔ (امداد الاحکام: ٤/
۳۱۲
) ۔
حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہ اللہ نے بحوالہ طحطاوی منع لکھا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
سوال: حرام مغز کھانا کیسا ہے؟
الجواب: منع ہے، طحطاوی: ٤/۳٦۰ ۔
اس کی تعلیقات میں کنز الدقائق کی عبارت بھی دلیل میں پیش کی گئی ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۷
/
۲۹۸
، جامعہ فاروقیہ) ۔
حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے بھی فتاوی رشیدیہ میں منع لکھا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
سات چیزیں حلال جانور کی کھانی منع ہیں ذکر، فرجِ مادہ، مثانہ، غدود، حرام مغز ۔ پشت کے مہرے میں ہوتا ہے ۔ باقی سب اشیاء کو حلال لکھا ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص:
۵۸۷
، ط: لاہور) ۔
امداد المفتین میں ہے:
سوال: حلال جانور کا حرام مغز کھانا درست ہے یا نہیں، فقہ حنفیہ کی کتب میں سات چیزیں حلال جانور کی حرام لکھتے ہیں ان میں حرام مغز کی حرمت کا کہیں ذکر نہیں مگر حضرت مولانا گنگوہی رحمہ اللہ کے فتاوی رشیدیہ میں حرام بتاتے ہیں مگر حوالہ ندارد اس لیے حضراتِ علماء سے برائے اطمینانِ قلب حوالہ مطلوب ہے؟
الجواب: احقر کو بھی باوجود بہت تلاش کے اس کا کوئی حوالہ نہیں ملا الخ ۔
حاشیہ میں مرقوم ہے: بعد میں محترم مولانا سعید احمد صاحب مفتی مظاہر علوم سہارنپور رحمہ اللہ نے نظر فرمائی تو اس کا حوالہ انہوں نے بتلایا وہ بعینہٖ درجِ ذیل ہے:
صرح به الطحطاوي على الدر حيث قال: وزيد نخاع الصلب. (
امداد المفتین مع الحاشیہ از مؤلف:
۲
/
۸۰۵
، ط: دار الاشاعت) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ صرف طحطاوی کی عبارت اس بارے میں صریح ہے لیکن اس کے اسلوب سے پتا چلتا ہے کہ حرام مغز بعد میں مکروہات میں شامل کیا گیا ہے، کیوں کہ عام کتبِ فقہ میں اس کے بارے میں کوئی تصریح مذکور نہیں ہے صرف سات چیزوں کو مکروہات میں شمار کیا گیا ہے ۔ بہرحال طحطاوی کی عبارت کی وجہ سے کراہتِ تنزیہی کا قول درست ہے کراہتِ تحریمی کا قول محل نظر ہے ۔
چونکہ حرام مغز کے معنی پوشیدہ ہیں لہذا لغت کی کتابوں سے اس کی تعریف نقل کی جاتی ہے ۔

نخع: بالفتح والكسر والضم عرق أبيض في داخل العنق، ينقاد في فقار الصلب حتى يبلغ عجب الذنب وهو يسقي العظام. (لسان العرب: ۸/۳٤۸، وتاج العروس: ۵/۵۲۰).
وفي المغرب: نخع: النخاع؛ خيط أبيض في جوف عظم الرقبة يمتد إلى الصلب. (المغرب: ۲/۲۹۳).

ان تعریفات کا خلاصہ یہ ہے کہ نخاع سفید رگ ہے جو گردن کے اندر سے ہو کر پشت میں سے گزر کر دم کی جڑ تک پہنچتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.