زوج کی طرف سے بلا اجازت قربانی کرنے کا حکم:
Question
ایک عورت نے اپنے شوہر کی طرف سے واجب قربانی شوہر کی اجازت کے بغیر کر دی تو واجب قربانی ادا ہوئی یا نہیں؟ نیز باقی شرکاء کی قربانی ہوئی یا نہیں؟
Answer
کسی کی طرف سے قربانی کرنے کے لیے افضل اور بہتر یہی ہے کہ اجازتِ صریحہ سے قربانی کی جائے، البتہ اجازتِ سابقہ یا عرفیہ بھی کافی ہے، لہذا بصورتِ مسئولہ اجازتِ عرفیہ ہونے کی وجہ سے زوج کی طرف سے کی گئی قربانی ادا ہو گئی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:
ولو ضحي عن أولاده الكبار وزوجته لا يجوز إلا بإذنهم. وعن الثاني أنه يجوز استحساناً بلا إذنهم بزازية. قال في الذخيرة: ولعله ذهب إلى أن العادة إذا جرت من الأب في كل سنة صار كالإذن منهم، فإن كان على هذا الوجه فما استحسنه أبو يوسف مستحسن. (فتاوى الشامي: ٦/۳۱۵، سعيد).
فتاوی قاضيخان میں ہے:
وليس على الرجل أن يضحي عن أولاده الكبار وامرأته إلا بإذنهم وعن أبي يوسف رحمه الله أنه يجوز بغير أمرهم استحساناً. (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۳/۳٤۵، كتاب الأضحية).
(وكذا في الفتاوى البزازية على هامش الفتاوى الهندية: ٦/۲۹۵).
وفي المحيط البرهاني: والإذن دلالة كالإذن صريحاً. (المحيط البرهاني: ٦/٤۸۳، في التضحية عن الغير، ط: مكتبه رشيديه).
امداد الاحکام میں ہے:
امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے استحساناً مروی ہے کہ اہل قرابت کی طرف سے بدونِ امر کے بھی قربانی درست ہے چونکہ صورتِ مذکورہ میں اکثر ائمہ کے قول پر فتوی دینے میں حرجِ شدید ہے کہ چچا کے ساتھ دوسروں کی بھی قربانی بھی باطل ہو جاتی ہے اس لیے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی روایت پر فتوی دیا جاتا ہے کہ گزشتہ قربانی تو سب کی طرف سے ادا ہو گئی مگر آئندہ ایسا نہ کرنا چاہیے، بلکہ چچا کو وقتِ اضحیہ سے پہلے ان کو اجازت دے دینا یا ان کو اجازت حاصل کر لینا چاہیے ۔ (امداد الاحکام: ٤/
۲۳۲
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2391
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2391