شرکاء میں سے ایک نے قضا کی نیت کی تو قربانی کا حکم:

3 min readFatwa Vol 6 #107Urdu

Question

قربانی کے جانور میں ایک شخص نے امسال کی قربانی کی نیت کی اور دوسرے نے سالِ گزشتہ کی قربانی کی نیت کی تو قربانی ہوئی یا نہیں؟ دونوں کی ہوئی یا کسی کی بھی نہیں ہوئی یا ایک کی ہوئی دوسرے کی نہیں ہوئی؟

Answer

بصورتِ مسئولہ امسال کی قربانی کی نیت کرنے والے کی قربانی ادا ہو گئی اور سالِ گزشتہ کی نیت کرنے والے کی نفل قربانی ادا ہو گئی، قضا ادا نہیں ہوئی، لہذا اس کے لیے بکرے کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے ۔ اور قربانی کا پورا گوشت بھی واجب التصدق ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی قاضيخان میں ہے:

سبعة اشتروا بقرة للأضحية فنوى أحدهم الأضحية عن نفسه لهذه السنة ونوى أصحابه الأضحية عن السنة الماضية قالوا: تجوز الأضحية عن هذا الواحد ونية أصحابه للسنة الماضية باطلة وصاروا متطوعين ووجبت الصدقة عليهم بلحمها وعلى الواحد أيضاً لأن نصيبه شائع. (فتاوى قاضيخان على هامش الهندية: ۳/۳٤۹، فصل فيما يجوز من الضحايا وما لا تجوز).
ونقل العلامة الشامي رحمه الله عن الخانية في رد المحتار وزاد عليه بقوله: وظاهره عدم جواز الأكل منها تأمل. (رد المحتار: ٦/۳۲٦، ط: سعيد).

عالمگیری میں ہے:

وإن نوى بعض الشركاء التطوع وبعضهم يريد الأضحية للعام الذي صار ديناً عليه وبعضهم الأضحية الواجبة عن عامه ذلك جاز الكل وتكون عن الواجب عمن نوى الواجب عن عامه ذلك وتكون تطوعاً عمن نوى القضاء عن العام الماضي ولا تكون عن قضائه بل يتصدق بقيمة شاة وسط لما مضي كذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۰۵، كتاب الأضحية، الباب الثامن).

امداد الاحکام میں ہے:
بعد فوت ایامِ اضحیہ کے تصدق قیمتِ شاۃ ہی واجب ہے، سالِ موجود ہ میں حصہ لینے یا بکری ذبح کرنے سے سالِ گزشتہ کی قضا نہیں ہو سکتی ۔
قال قاضيخان رحمه الله: ولو لم يفعل شيئاً من ذلك حتى جاء أيام النحر من السنة القابلة وضحي بها عن العام الأول لا يجوز لأن إراقة الدم عرف قربة أداء لا قضاء
۔ (امداد الاحکام: ٤/
۲۱٤
، مکتبہ دار العلوم کراچی) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
شریکوں کی قربانی ادا ہو جائے گی، اور تمہاری امسال کی قربانی بھی ادا ہو جائے گی، گزشتہ برس کی قضا قربانی ادا نہ ہو گی نفل ہو جائے گی اس کے عوض میں ایک بکرے کی قیمت کا صدقہ کرنا ضروری ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ:
۵
/٤
۱٤
، ط: دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.