بیرونی ملک میں قربانی کرانے کا حکم:
Question
جنوبی افریقہ کے کچھ لوگ اپنے ملک سے باہر قربانیاں کراتے ہیں جو حضرات اس کام کی نگرانی یا تجارت کرتے ہیں وہ دو قسم کا معاملہ کرتے ہیں:
(۱) بعض حضرات لوگوں سے ۵۰۰ رینڈ فی قربانی رقم وصول کرتے ہیں اور جانور وہاں انڈیا میں رکھتے ہیں، ایک جانور کو ۵۰۰ میں ایک آدمی کو فروخت کرتے ہیں اور اپنے وکیل کو اطلاع دیتے ہیں کہ ایک جانور پر فلاں کے لیے علامت لگا دو ۔ اس کا کیا حکم ہے؟ اس صورت میں مشتری کا قبضہ نہیں ہوا تو ہلاک ہونے کی صورت میں بائع پر تاوان ہونا چاہیے، نیز مشتری یا اس کے وکیل نے دیکھا بھی نہیں تو یہ بیع مجہول بھی ہے ۔
(۲) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ خریداروں سے کہتے ہیں کہ ہم آپ کے لیے چار سو رینڈ میں قربانی خریدیں گے اور ایک سو رینڈ ہمارا حق محنت ہے اس میں بظاہر یہ خرابی ہے کہ اگر جانور چار سو سے کم میں خریدا تو بقیہ رقم واپس کرنی چاہیے اور ایسا نہیں ہوتا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ پہلی صورت میں اگر قربانی والے مشتری نے ایجنٹ کو مکمل اختیار دیا ہو کہ آپ جس کو چاہے میرا جانور حوالہ کر دے اور بظاہر ایسا ہوتا ہے، تو جو شخص ہندوستان میں جانوروں کی نگرانی کرتا ہے وہ قربانی والے کی طرف سے مشتری کا وکیل بالقبض بن گیا، اس لیے ہلاکت کی صورت میں تاوان مشتری پر آئے گا بائع پر نہیں آئے گا، اور وکیل کی رؤیت موکل کی رؤیت بن گئی، اور یہ معاملہ جائز ٹھہرا ۔
(۲) دوسری صورت میں خریداری کے وکیل کے لیے سو رینڈ حق محنت وصول کرنا جائز ہے، اور اگر چار سو سے کم میں خریدا تو بقیہ رقم کے بارے میں دو صورتیں ہیں: (الف) ایک یہ ہے کہ موکل نے کہا ہو کہ زائد رقم بھی آپ رکھ لیں، تو پھر اپنے لیے رکھ سکتا ہے، (ب) اور اگر یہ نہ کہا ہو تو اس کو واپس کرنا ضروری ہے ۔
حضرت تھانوی رحمہ اللہ سے اس قسم کا ایک سوال کیا گیا، سوال و جواب کا خلاصہ حسبِ ذیل ملاحظہ ہو:
سوالـ: اگر کوئی طبیب کسی کے لیے دوا بنا دیں اور زیادہ دام مریض سے وصول کرے تو زائد دام لینا جائز ہے یا نہیں؟
حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے اس کے جواب میں تحریر فرمایا: اگر مریض کی اجازت سے اپنے صرف میں لایا تو جائز ہے، ورنہ واپس کرنا ضروری ہے اور اگر وہ لوگ معلوم نہ ہوں تو ان کی طرف سے صدقہ کرے ۔ (امداد الفتاوی: ۳/۱۱۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2433
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2433