قربانی کی گائے کے دودھ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 6 #149Urdu

Question

ایک شخص نے قربانی کے لیے گائے خریدی وہ دودھ دیتی ہے تو کیا دودھ استعمال کر سکتا ہے یا اس کا صدقہ کرنا ضروری ہے؟

Answer

قربانی کے جانور کا گزر بسر اکثر مالک کے گھر پر ہو تو اس صورت میں دودھ استعمال کرنے کی گنجائش ہے، لیکن اگر قربانی کے جانور کا گزر بسر اکثر باہر ہو تو اس کے دودھ کے استعمال کرنے سے متعلق فقہاء کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے غنی کے لیے استعمال کی اجازت دی ہے، اور فقیر کے لیے اس کے استعمال کو مکروہ قرار دیا ہے، لیکن جمہور کے نزدیک دونوں کے لیے استعمال مکروہ ہے اور یہی صحیح قول ہے ۔
لہذا اب اگر قربانی کا زمانہ قریب ہو تو دودھ نہ نکالا جائے بلکہ ٹھنڈے پانی سے چھڑکاؤ کیا جائے تاکہ دودھ خشک ہو جائے، اور اگر قربانی کا زمانہ بعید ہے تو دودھ دوہ کر فقراء کو صدقہ کر دیا جائے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

قوله "يكره الانتفاع بلبنها" فإن كانت التضحية قريبة ينضح ضرعها بالماء البارد وإلا حلبه وتصدق به.
وفي الدر المختار: ومنهم من أجازهما للغني لوجوبهما في الذمة فلا تتعين. وفي الشامية: والجواب أن المشتراة للأضحية متعينة للقربة إلى أن يقام غيرها مقامها فلا يحل له الانتفاع بها ما دامت متعينة ولهذا لا يحل له لحمها إذا ذبحها قبل وقتها، بدائع. (رد المحتار مع الدر المختار: ٦/۳۲۹، سعيد).
قال الإمام الطحطاوي: والذي في الهندية عن الغياثية لأنه عينها للقربة فلا يحل له الانتفاع بجزء من أجزاء ها قبل إقامة القربة فيها والصحيح أن الموسر والمعسر في جز صوفها وحلبها سواء، وهو أولي ولا إيراد عليه. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۱٦۷، كوئته).
وفي الهندية: فإن كان يعلفها فما اكتسب من لبنها أو انتفع من روثها فهو له ولا يتصدق بشيء، كذا في محيط السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۰۱، كتاب الأضحية، الباب السادس).
وفي خلاصة الفتاوى:

وما أصاب من لبنها تصدق بمثله أو قيمته

إلا أن يعلفها بقدرها. (خلاصة الفتاوى: ٤/۳۲۱، كتاب الأضحية، الفصل السادس).
وللاستزادة انظر: (الكفاية على هامش فتح القدير: ۸/٤۳۷، رشيدية، وبدائع الصنائع: ۵/۷۸، سعيد، والفتاوى البزازية على هامش الفتاوى الهندية: ٦/۲۹٤، وفتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۳/۳۵٤، وتكملة البحر الرائق: ۸/۱۷۹، وتبيين الحقائق: ٦/۹، ملتان).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
قربانی کے جانور کا دودھ اپنے استعمال میں لانا مکروہ ہے، اس لیے اگر قربانی کے وقت میں دیر ہو تو دودھ دوہ کر صدقہ کر دیا جائے، شامی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۷/٤۷۹، جامعہ فاروقیہ) ۔
احسن الفتاوی میں ہے:
اگر قربانی کی نیت سے خریدا ہوا اور باہر چر گزر کرتا ہو تو اس کے دودھ کے بارے میں اختلاف ہے، جواز و عدمِ جواز دونوں ظاہر الروایہ ہیں،
والأول أوسع وأيسر والثاني أحوط وأشهر، وفي قول يجوز للغني لا للفقير.

قولِ عدمِ جواز کے مطابق اس کا دودھ استعمال میں لانا مکروہ ہے، اگر دودھ نکال لیا تو اس کا صدقہ کرنا واجب، ایسے جانور کا دودھ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر خشک کر دینا چاہیے، اگر خشک نہ ہو اور جانور کو تکلیف ہو تو نکال کر صدقہ کر دیا جائے ۔ (احسن الفتاوی: ۷/٤۷۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.