گائے قربانی کے لیے نہ خریدی ہو تو دودھ کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنے استعمال کے لیے گائے خریدی، لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی نیت کی کہ ایامِ اضحیہ میں قربانی کر لیں گے، تو اس صورت میں دودھ اور بچے کا کیا حکم ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ چونکہ قربانی کی نیت سے جانور نہیں خریدا بلکہ اپنے استعمال کے لیے خریدا اس لیے دودھ اور ولدِ اضحیہ کو استعمال میں لانا بلا کراہت جائز اور درست ہوگا ۔
قربانی کی نیت کے بغیر خریدا ہوا جانور قربانی کے لیے متعین نہیں ہوتا، بنا بریں اس کے دودھ اور بچہ سے انتفاع جائز ہوتا ہے، ہاں قربانی کی نیت سے خریدا ہوا جانور قربانی کے لیے یا قربت کے لیے متعین ہوتا ہے، لہذا اس کے کسی جزء سے انتفاع جائز نہیں رہتا ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی قاضيخان میں ہے:
وأما إذا اشترى شاة بغير نية الأضحية ثم نوى (بالقلب لا بلسانه) بعد الشراء لم يذكر هذا في ظاهر الرواية وروي الحسن عن أبي حنيفة رحمه الله أنه لا يصير أضحية لو باعها يجوز بيعها وبه نأخذ. (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۳/۳٤٦).
بدائع الصنائع میں ہے:
ولو كان في ملك إنسان شاة فنوى أن يضحي بها أو اشترى شاة ولم ينو الأضحية وقت الشراء ثم نوى بعد ذلك أن يضحي بها لا يجب عليه سواء كان غنياً أو فقيراً لأن النية لم تقارن الشراء فلا تعتبر. (بدائع الصنائع: ۵/٦۲، سعيد).
نیز مذکور ہے:
أن المشتراة للأضحية متعينة للقربة إلى أن يقام غيرها مقامها فلا يحل الانتفاع بها ما دامت متعينة ولهذا لا يحل له لحمها إذا ذبحها قبل وقتها
فإن ولدت الأضحية ولداً يذبح ولدها مع الأم كذا في الأصل وقال أيضاً وإن باعه يتصدق بثمنه لأن الأم تعينت للأضحية والولد يحدث على وصف الأم في الصفات الشرعية فيسري إلى الولد كالرق والحرية. (بدائع الصنائع: ۵/۷۸، سعيد).
قال الإمام السرخسي رحمه الله: لان اللبن يتولد من عينها وقد جعلها للقربة. (المبسوط: ۱۲/۱٤، ۱۵).
وفي الهندية: لأنه عينها للقربة فلا يحل له الانتفاع. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۰۰).
مذکورہ بالا عبارات کا خلاصہ اور ماحصل یہ ہے کہ گھر کا پالتو جانور یا استعمال کی نیت سے خرید کردہ جانور کے دودھ اور بچہ سے انتفاع جائز ہے، کیوں کہ تا ہنوز اس نے قربت کے لیے متعین نہیں کیا، ہاں اگر جانور قربانی ہی کی نیت سے خریدا تو اب وہ قربانی کے لیے متعین ہو گیا، لہذا اس کے دودھ اور بچہ سے انتفاع ناجائز ہوگا ۔
احسن الفتاوی میں تفصیل مرقوم ہے ملاحظہ فرمائیے:
مندرجہ ذیل صورتوں میں قربانی کے جانور کا دودھ استعمال میں لانا اور اس سے نفع حاصل کرنا بلا کراہت جائز ہے:
(۱) جانور گھر کا پالتو ہو ۔
(۲) جانور خریدا ہو مگر خریدتے وقت قربانی کی نیت نہ ہو ۔
(۳) قربانی کی نیت سے خریدا ہو مگر اس کی گزر باہر چرنے پر نہ ہو بلکہ گھر میں چارہ کھاتا ہو ۔
اگر قربانی کی نیت سے خریدا ہوا اور باہر چر گزر کرتا ہو تو اس کے دودھ کے بارے میں اختلاف ہے، جواز و عدمِ جواز دونوں ظاہر الروایہ ہیں،
والأول أوسع وايسر والثاني أحوط واشهر، وفي قول يجوز للغني لا للفقير
۔
قولِ عدمِ جواز کے مطابق اس کا دودھ استعمال میں لانا مکروہ ہے، اگر دودھ نکال لیا تو اس کا صدقہ کرنا واجب، ایسے جانور کا دودھ ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر خشک کر دینا چاہیے، اگر خشک نہ ہو اور جانور کو تکلیف ہو تو نکال کر صدقہ کر دیا جائے ۔ (احسن الفتاوی: ۷/٤۷۸) ۔
نیز یہ بات ذہن نشین ہو کہ نیت میں تردد کی وجہ سے اس کا اعتبار نہیں ہوتا، ملاحظہ علامہ ابن نجیم مصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ومن المنافي: التردد وعدم الجزم في أصلها، وفي الملتقط: وعن محمد فيمن اشترى خادماً للخدمة، وهو ينوى إن أصاب ربحاً باعه، لا زكاة عليه. (الأشباه والنظائر: ۱/۱۷۳).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2436
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2436