کھانا کھانے کے درمیان یا بعد میں پانی پینے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #242Urdu

Question

ـ: آنحضرت ﷺ سے کھانا کھانے کے درمیان یا بعد میں پانی پینا ثابت ہے یا نہیں؟ اطباء کہتے ہیں کہ کھانا کھانے کے آدھا گھنٹہ بعد پانی پینا چاہیے اگر کوئی شخص اس پر عمل کرے تو وہ سنت کے خلاف کام کرنے والا کہا جائے گایا نہیں؟

Answer

اطباء جو کہتے ہیں کہ کھانا کھانے کے آدھا گھنٹہ بعد پانی پینا چاہیے یہ سنت کے خلاف نہیں ہے، کیوں کہ آنحضرت ﷺ کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی نوش نہیں فرماتے تھے۔ بلکہ سیرت نگار حضرات نے کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی پینے کو طبی اعتبار سے مکروہات میں شمار کیا ہے۔ ہاں تھوڑا بہت پانی پینا اس کے خلاف نہیں ہے۔
ملاحظہ ہو علامہ ابن القیم زاد المعاد میں فرماتے ہیں:

ولم يكن من هديه أن يشرب على طعامه فيفسده، ولا سيما إن كان الماء حاراً أو بارداً، فإنه رديء جداً

ويكره شرب الماء عقيب الرياضة، والتعب، وعقيب الجماع، وعقيب الطعام وقبله، وعقيب الفاكهة، وإن كان الشرب عقيب بعضها أسهل من بعض

فهذا كله مناف لحفظ الصحة، ولا اعتبار بالعوائد، فإنها طبائع ثوان

وأما هديه في الشراب، فمن أكمل هدي يحفظ به الصحة. (زاد المعاد: ٤/۲۲٤، ط: مؤسسة الرسالة).

شمائل کبری میں ہے:
آپ ﷺ کھانے کے بعد (فوراً) پانی نوش نہیں فرماتے تھے۔ (مدارج صفحہ ۱۷)۔
کھانے کے بعد فوراً پانی پینا معدہ اور ہضم کے لیے مضر ہے اس لیے تھوڑی دیر کے بعد پانی پینا چاہیے ۔ (شمائل کبری: ۱/۱۲۸، ط: زمزم پبلشرز)۔
اسوۂ رسول اکرم میں ہے:
کھانے کے بعد پانی پینا حضور ﷺ کی سنت نہیں ہے خصوصاً اگر پانی گرم ہو یا زیادہ سرد ہو کیونکہ یہ دونوں صورتیں بہت زیادہ نقصان دہ ہوتی ہیں، آپ ورزش کے بعد تکان ہونے پر اور کھانا یا پھل کھانے پر اور جماع یا غسل کے بعد پانی پینے کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ (اسوۂ رسول اکرم، ص ۱۳۳، ط: دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.