اجنبی عورت کا جھوٹا پینے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 6 #247Urdu

Question

کیا مرد اجنبی عورت کے بچے ہوئے کھانے یا پینے کو کھا، پی سکتا ہے، اسی طرح عورت اجنبی مرد کے بچے ہوئے کھانے، پینے کو کھا، پی سکتی ہے یا نہیں؟ اگر تبرک کی نیت سے ہو اور خوفِ فتنہ بھی نہ ہو کیا جائز ہوگا یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو شریعت میں اس کی کوئی نظیر موجود ہے یا نہیں؟

Answer

عام طور پر فقہاء کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ استلذاذ کے اندیشہ کی وجہ سے اجنبی کا جھوٹا مکروہ ہے ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

نعم يكره سورها للرجل كعكسه للاستلذاذ واستعمال ريق الغير وهو لا يجوز. وفي رد المحتار: أي في الشرب لا في الطهارة، بحر، قال الرملي: ويجب تقيده بغير الزوجة والمحارم. (الدر المختار مع رد المحتار: ۱/۲۲۲، سعيد).

فتاوی عالمگیری میں ہے:

وكراهة سؤر المرأة للأجنبي كسؤره لها ليس لعدم طهارته بل للاستلذاذ كذا في النهر الفائق. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۳).
البحر الرائق
میں ہے:

صرح في المجتبى من باب الحظر والإباحة: أنه يكره سور المرأة للرجل وسوره لها. (البحر الرائق: ۱/۱۲٦، كوئته).
حاشية الطحطاوي
میں ہے:

ويكره أن يشرب غيره إن وجد منه لذة إلا الزوجين. (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص ۲۹، قديمي).

فقہاء کی عبارات پر غور کرنے سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ حصولِ لذت اور خوفِ فتنہ کی وجہ سے اجنبی کا جھوٹا مکروہ ہے لیکن اگر یہ علت نہ ہو بلکہ تبرک مقصود ہو تو اجازت ہو گی، مثلاً کوئی عورت اپنے شیخ کا بچا ہوا برکۃ ً استعمال کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے ۔ احادیث میں چند نظائر موجود ہیں، جو مندرجہ ذیل ہیں:
(۱) امام بخاری رحمہ اللہ نے باب الصعید الطیب وضوء المسلم کے تحت ایک طویل حدیث نقل فرمائی ہے، اس حدیث میں مذکور ہے کہ ایک عورت کے توشہ داں سے سب صحابہ نے پانی پیا اور استعمال کیا اور اس سے زیادہ پانی دے کر اس عورت کو رخصت کیا ۔ ملاحظہ ہو:

عن عمران رضي الله عنه قال: كنا في سفر مع النبي ﷺ

فقال: اذهبا فابتغيا الماء فانطلقا فتلقيا امرأة بين مزادتين أو سطيحتين من ماء على بعير لها

قال: فاستنزلوها عن بعيرها ودعا النبي ﷺ بإناء ففرغ فيه من أفواه المزادتين

ونودي في الناس اسقوا واستقوا فسقي من شاء واستقي من شاء وكان آخر ذلك أعطي الذي أصابته الجنابة إناء من ماء

(رواه البخاري: ۱/٤۹، باب الصعيد الطيب وضوء المسلم).

(۲) غزوۂ خندق کے موقع پر حضرت جابر
رضي الله عنه
نے کھانا تیار کیا تھا، اور حضور ﷺ صحابہ کرام کو دعوت دی تھی، جب سب کھانے سے فارغ ہو گئے تو آپ ﷺ نے پس ماندہ کھانا حضرت جابر
رضي الله عنه
کی اہلیہ کو دے دیا اور فرمایا: "
كلي هذا واهدي فإن الناس أصابتهم مجاعة". (رواه البخاري: ۲/۵۸۸، باب غزوة الخندق وهي الاحزاب).

(۳) ہجرت کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے ام معبد کی بکری سے دودھ نکالا اور سب سے پہلے اسی کو پلایا پھر اپنے ساتھیوں کو پلایا اور آخر میں حضور ﷺ نے نوش فرمایا ۔
ملاحظہ ہو مستدرکِ حاکم کی روایت میں ہے:

فدعا بإناء يربض الرهط فحلب فيه ثجا حتى علاه البهاء ثم سقاها حتى رويت وسقي أصحابه حتى رووا وشرب آخرهم ﷺ

. (مستدرك حاكم: ۳/۹/٤۲۷٤، والمعجم الكبير للطبراني، رقم: ۳٦۰۵، ومعرفة الصحابة لا بي نعيم: ۲/۸۷۱).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.