ناقص الخلقت جنین کے اسقاط کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #282Urdu

Question

اگر ڈاکٹر یہ کہہ دے کہ عورت کے پیٹ میں بچہ ناقص الخلقت ہے یا زندہ رہنے کے قابل نہیں تو کیا آپریشن کے ذریعہ اس کو نکال سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

ناقص الخلقت جنین کے اسقاط کی چند صورتیں، ان میں جواز و عدمِ جواز کی تفصیل فقہ اکیڈمی کے فیصلے کے تحت ملاحظہ فرمائیے:
مکہ مکرمہ کی اسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ:
اجلاس میں اس موضوع پر ماہر اطباء اور ارکان کی آراء پر غور اور مباحثہ کے بعد اکثریت کی رائے سے درجِ ذیل فیصلہ کیا گیا:
اگر حمل ایک سو بیس (۱۲۰) دنوں کا ہو تو اس کا اسقاط جائز نہیں، خواہ طبی تشخیص سے یہ ثابت ہو رہا ہو کہ حمل بچہ ناقص الخلقت ہے، البتہ اگر ماہر قابل اعتماد اطباء کی کمیٹی کی رپورٹ سے یہ ثابت ہو رہا ہو کہ حمل کا باقی رہنا ماں کی زندگی کے لیے یقیناً خطرناک ہے تو ایسی صورت میں بڑے نقصان کے ازالہ کے لیے بچہ کا اسقاط جائز ہے خواہ وہ ناقص الخلقت ہو یا نہ ہو۔
اگر حمل پر ایک سو بیس دن نہ گزرے ہوں اور ماہر قابل اعتماد اطباء کی کمیٹی کی رپورٹ اور تجرباتی وسائل اور آلات کے ذریعہ فنی تحقیقات کی بنیاد پر یہ ثابت ہو رہی ہو کہ بچہ خطرناک طور پر ایسا ناقص الخلقت ہے جو ناقابل علاج ہے، اور اگر وہ باقی رہ کر اپنے وقت پر پیدا ہوتا ہے تو اس کی زندگی ایک بوجھ اور اس کے اور گھر والوں کے لیے الم رساں رہے گا، تو ایسی صورت میں والدین کے مطالبہ پر اس کا اسقاط جائز ہے، اجلاس اس فیصلہ کے ساتھ ہی اطباء اور والدین سے اس معاملہ میں اللہ کا خوف اور احتیاط ملحوظ رکھنے کی سفارش کرتا ہے۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، ص ۲٤۵)۔
مزید ملاحظہ ہو: (حلال و حرام، ص ۳۱۰، و جدید فقہی مباحث: ۱/۳۰٦۔ ۳۱۱، و ۳۷۰، وکذا فی مجلہ فقہ اسلامی، مرتب قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمہ اللہ: ۱/۳۷۰۔ ۳۷۳، اعضاء کی پیوند کاری)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.