بچہ کے معذور ہونے پر اسقاط کا حکم:
Question
ایک عورت کے پیٹ میں چھ ماہ کا حمل ہے، مختلف ڈاکٹروں نے بتلایا کہ بچہ تقریباً معذور ہے اٹھنے، بیٹھنے اور چلنے، پھرنے کے بالکل قابل نہیں ہوگا، اور بھی مختلف عوارض لاحق ہیں، اس کی ماں کو بھی خطرۂ جان ہے، اس حالت میں اسقاط کی اجازت ہے یا نہیں؟
Answer
اگر ڈاکٹروں کا اتفاق ہو کہ بچہ معذور ہو گا اور ماں کو جان کا خطرہ ہے تو اس صورت میں اسقاط کی گنجائش ہونی چاہیے۔ لیکن نفخ روح کے بعد اکثر حضرات نے اسقاط کی اجازت نہیں دی۔
جدید فقہی مباحث میں ہے:
فقہاء نے صراحت کی ہے کہ حمل میں جان پڑ جانے کے بعد بالاتفاق جائز نہیں ہے ۔
اور حمل میں نفخ روح کا مرحلہ ۱۲۰ دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے بنا بریں، چار ماہ بعد باتفاقِ علماء اسقاط جائز نہیں ہے ۔ البتہ اگر عورت کی صحت بالکل خراب ہو جائے اور ماہر تجربہ کار ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق اسقاط کے بغیر اس کی جان بچانا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں
"يختار أهون البليتين"
اور
"لوكان أحدهما أعظم ضرراً من الآخر فإن الأشد يزال بأخف"
ان جیسے مسلمہ اصول کے پیش نظر عورت کی جان بچانے کی غرض سے اسقاط کی اجازت ہونی چاہیے ۔ (جدید فقہی مباحث: ۱/۳۷۰) ۔
مکہ مکرمہ کی اسلامک فقہ اکیڈمی کا فیصلہ:
اجلاس میں اس موضوع پر ماہر اطباء اور ارکان کی آراء پر غور اور مباحثہ کے بعد اکثریت کی رائے سے درجِ ذیل فیصلہ کیا گیا:
اگر حمل ایک سو بیس (۱۲۰) دنوں کا ہو تو اس کا اسقاط جائز نہیں، خواہ طبی تشخیص سے یہ ثابت ہو رہا ہو کہ حمل بچہ ناقص الخلقت ہے، البتہ اگر ماہر قابل اعتماد اطباء کی کمیٹی کی رپورٹ سے یہ ثابت ہو رہا ہو کہ حمل کا باقی رہنا ماں کی زندگی کے لیے یقیناً خطرناک ہے تو ایسی صورت میں بڑے نقصان کے ازالہ کے لیے بچہ کا اسقاط جائز ہے خواہ وہ ناقص الخلقت ہو یا نہ ہو ۔
اگر حمل پر ایک سو بیس دن نہ گزرے ہوں اور ماہر قابل اعتماد اطباء کی کمیٹی کی رپورٹ اور تجرباتی وسائل اور آلات کے ذریعہ فنی تحقیقات کی بنیاد پر یہ ثابت ہو رہی ہو کہ بچہ خطرناک طور پر ایسا ناقص الخلقت ہے جو ناقابل علاج ہے، اور اگر وہ باقی رہ کر اپنے وقت پر پیدا ہوتا ہے تو اس کی زندگی ایک بوجھ اور اس کے اور گھر والوں کے لیے الم رساں رہے گا، تو ایسی صورت میں والدین کے مطالبہ پر اس کا اسقاط جائز ہے، اجلاس اس فیصلہ کے ساتھ ہی اطباء اور والدین سے اس معاملہ میں اللہ کا خوف اور احتیاط ملحوظ رکھنے کی سفارش کرتا ہے ۔ (عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کا شرعی حل، ص ۲۴۵) ۔
مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مباحث: ۱/۳۰٦ ۔ ۳۱۱، و کتاب الفتاوی: ٦/۲۲۳ ۔ ۲۲٤، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2572
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2572