ماں کے ضرر کی وجہ سے اسقاط کا حکم:

2 min readFatwa Vol 6 #283Urdu

Question

ایک عورت سخت بیماری کی وجہ سے چار ماہ سے پہلے اسقاط کراتی ہے کیا مجبوری کی وجہ سے چار ماہ قبل اسقاط کی اجازت ہے یا نہیں؟ نہ کرنے کی صورت میں ماں کو جان کا شدید خطرہ ہے۔

Answer

اعضاء کی تخلیق کے بعد اور جان پڑنے سے قبل بھی صحیح قول کے مطابق اسقاط جائز نہیں ہے، البتہ ماں کی جان جانے کا خطرہ ہو تو اس صورت میں اسقاط کی اجازت ہو گی۔ جیسا کہ فقہاء نے صراحت کی ہے جب بچہ ماں کے پیٹ میں مر جائے اور اس کے نکالنے کا راستہ نہ ہو اور نہ نکالنے کی صورت میں ماں کی جان جانے کا خطرہ ہو تو اس صورت میں ماں کی جان بچانے کی غرض سے بچہ کو کاٹ کاٹ کر نکال لینا جائز ہے۔

وفي النوادر: امرأة حامل اعترض الولد في بطنها ولا يمكن إلا بقطعه أرباعاً ولو لم يفعل ذلك يخاف على أمه من الموت فإن كان الولد ميتاً في البطن فلا بأس به وإن كان حياً لا يجوز لأن إحياء نفس بقتل نفس أخري لم يرد في الشرع. (البحر الرائق: ۸/۲۳۳).
(وكذا في الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۰، والمحيط البرهاني: ٦/، والفصل الثالث والعشرون، وتحفة الملوك، ص: ۲۳۹، بيروت،
و مجلہ فقہ اسلامی، مرتب قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمہ اللہ: ۱/۳۷۰۔ ۳۷۳، اعضاء کی پیوند کاری)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.