بلا ضرورتِ شدید ہ آپریشن کا حکم:
Question
کیا بغیر ضرورت کے آپریشن کے ذریعہ بچہ کا نکالنا صحیح ہے جب کہ عام طریقہ ولادت ممکن ہے؟
Answer
شریعتِ مطہرہ میں انسان کا جسم محترم ہے چاہے زندہ ہو یا مردہ، لہذا بلا عذرِ شرعی اس کی قطع و برید درست نہیں ہے، فقہاء نے مخصوص اعذار میں شق البطن کی اجازت دی ہے عام حالات میں اس کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ہاں اگر اطباء کے کہنے کے مطابق تاخیر ولادت کی وجہ سے ماں کو کوئی ضرر لاحق ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر درست ہے ۔ لیکن بعض مرتبہ عورتیں فقط دردِ زہ سے خوف کی وجہ سے آپریشن پر آمادہ ہو جاتی ہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
في فتاوى أبي الليث رحمه الله في امرأة حامل ماتت وعلم أن ما في بطنها حي فإنه يشق بطنها من الشق الأيسر وكذلك إذا كان أكبر رأيهم أنه حي يشق بطنها كذا في المحيط
لا بأس بقطع اليد من الآكلة وشق البطن لما فيه كذا في الملتقط. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦۰).
(وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۲۳۸، سعيد، والبحر الرائق: ۸/۲۳۳، ط: بيروت، وبدائع الصنائع: ۵/۱۳۰، سعيد).
جدید فقہی مسائل میں ہے:
انسان کا جسم اسلام میں ایک قابل احترام چیز ہے اور اس میں بے مقصد کاٹ چھانٹ گناہ ہے لیکن اگر خود انسانی کی حفاظت اور علاج کے لیے اس کی ضرورت پڑ جائے تو اجازت ہے ۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۳۲۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2586
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2586