حاملہ عورت کا انتقال ہو جائے تو بچہ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 2 #516Urdu

Question

اگر حاملہ عورت کا انتقال ہو جائے اور بچہ بھی اندر مرا ہو تو کیا بچہ کو نکال کر الگ سے دفنایا جائے گا یا نہیں؟ اور غیر ترقی یافتہ علاقوں میں یہ کام کس طرح سر انجام دیا جائے جب کہ وہاں ڈاکٹر اور ہسپتال نہیں ہے؟

Answer

اگر بچہ ماں کے پیٹ میں زندہ ہے اور ماں کا انتقال ہو گیا تو اس بچہ کو نکال سکتے ہیں، اور اس میں دایہ وغیرہ سے مدد لے سکتے ہیں جس طرح ولادت کے وقت مدد کرتی ہے، اور اگر بچہ زندہ نہیں ہے تو اس کو نہیں نکال سکتے ۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

حامل ماتت وولدها حيي يضطرب شق بطنها من الأيسر ويخرج ولدها ولو بالعكس وخيف على الأم قطع وأخرج لو ميتاً وإلا لا كما في كراهة الاختيار (قوله ولو بالعكس) بأن مات الولد في بطنها وهي حية قوله قطع أي بأن تدخل القابلة يدها في الفرج وتقطعه بآلة في يدها بعد تحقق موته (قوله لو ميتاً لا وجه له بعد قوله ولو بالعكس قوله وإلا لا أي ولوكان حياً لا يجوز تقطيعه لأن موت الأم به موهوم فلا يجوز قتل آدمي حي لا مر موهوم. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۲۳۸، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.