انسان کا پیشاب بطورِ دوا استعمال کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 6 #294Urdu

Question

محترم مفتی صاحب انسان کے پیشاب سے دوائی بنانے سے متعلق رہنمائی مطلوب ہے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بہت ساری دواؤں میں جانور اور انسان کا پیشاب استعمال کیا جاتا ہے ۔
(۱) (H.C.G) حاملہ عورت کے علوق سے ۱۲ ہفتے کی مدت میں پیشاب سے ہارمون (وہ مادہ جو خون میں شامل ہوتا ہے) کو مشین کے ذریعہ الگ کر دیا جاتا ہے یہ دوا ہم چائنا یا جرمنی سے منگواتے ہیں ۔
(۲) (H.M.G) عورت کے سن ایاس کو پہنچ جانے کے بعد اس کے پیشاب سے ہارمون کے اجزاء الگ کر دیے جاتے ہیں ۔ یہ دونوں قسم کی دوا مرد و عورت دونوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اور عورت کے بانجھ پن کو دور کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے ۔
(۳) (F.S.H) عورت کے سن ایاس کو پہنچ جانے کے بعد اس کے پیشاب سے ہارمون کے اجزاء نکال دیے جاتے ہیں ۔

Answer

انسان کا پیشاب نجس ہے اس کا استعمال عام حالات میں جائز اور درست نہیں، کیوں کہ آج کل ہر قسم کی دوائیاں دستیاب ہیں جن سے کام چل جاتا ہے لہذا ایسی ناپاک چیزوں کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے، ہاں اگر کوئی مسلمان، دیندار ماہر طبیب یہ تجویز کر دے کہ اس مریض کی شفا کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور دوا ممکن نہیں ہے تو ایسی اضطراری حالت میں ماکول اللحم حیوان کے پیشاب سے کام چلانا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو ابو داود شریف میں روایت ہے:

عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: إن الله أنزل الداء والدواء وجعل لكل داء دواء فتداووا، ولا تداووا بالحرام. (رواه أبو داود: ۲/۱۸۵، باب الأدوية المكروهة).

قاموس الفقہ میں ہے:
انسان کا پیشاب ناپاک ہے یہ مسئلہ متفق علیہ ہے اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ جن جانوروں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ان کا پیشاب بھی ناپاک ہے، احناف کے یہاں اسی لیے یہ دونوں نجاستِ غلیظہ کے زمرہ میں ہیں ۔ (قاموس الفقہ: ۲/۳۳۷) ۔
نظام الفتاوی میں ہے:
اس کشید کرنے کا حاصل تو صرف یہ ہے کہ پیشاب کے اندر سے اس کے متعفن اجزاء اور مضرت رساں اجزاء کو نکال دیا گیا ہو اور باقی جو اجزاء بچے وہ اسی پیشاب کے اجزاء ہیں، اور پیشاب بجمیع اجزا ۂ نجس العین اور نجس بنجاسۃ غلیظۃ ہے، اس لیے باقی ماندہ اجزاء بھی نجس العین اور نجس بنجاسۃ غلیظۃ ہی رہیں گے، اس میں تقلیب ماہیت کی کوئی صورت نہیں پائی گئی ۔ (نظام الفتاوی: ۱/۳۹۱) ۔
مفتی تقی صاحب حدیث العرنیین کے تحت فرماتے ہیں:
امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مسلک یہ ہے اگر کوئی طبیب حاذق یہ فیصلہ کرے کہ تداوی بالمحرم کے بغیر بیماری سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے، تو اس صورت میں تداوی بالمحرم جائز ہوگا، حنفیہ کے مفتی بہ قول کے مطابق اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی یہ بات معلوم ہو چکی تھی کہ ان کی شفا ابوالِ ابل میں منحصر ہے اس لیے آپ ﷺ نے ابوالِ ابل کے استعمال کا حکم فرمایا ۔ (درس ترمذی: ۱/۲۹۲) ۔
لہذا بوقتِ ضرورتِ شدیدہ ماکول اللحم جانور کے پیشاب پر اکتفا کرنا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.