طبیب سے مستغنی کرنے والی دوا والی حدیث کی تحقیق:

3 min readFatwa Vol 8 #13Urdu

Question

کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبریل نے مجھے ایسی دوا بتائی ہے جو طبیب یا دوسری دواؤں سے مستغنی کر دیتی ہے؛ حضرت ابوبکر
رضي الله عنه،
حضرت عمر
رضي الله عنه،
حضرت عثمان رضی الله عنه، اور حضرت علی
رضي الله عنه
نے بڑے اشتیاق سے پوچھا: وہ کون سی دوا ہے؟ ہمیں اس کی ضرورت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: تھوڑا سا بارش کا پانی لے لو اور اس پر سورۂ فاتحہ، سورۂ اخلاص، سورۂ فلق، سورۂ ناس اور آیۃ الکرسی ہر ایک کو ستر (۷۰) مرتبہ پڑھ کر دم کرو، پھر اس پانی کو روزانہ صبح و شام سات دن تک پی لیا کرو۔ اس ذات کی قسم جس نے مجھے نبی بنا کر حق کے ساتھ بھیجا ہے، جبریل نے مجھے بتایا کہ جو شخص اس پانی کو پیے گا، اللہ تعالی اس کے بدن سے ہر بیماری کو ختم کر دے گا، اور ہر درد و مرض سے اس کی حفاظت کرے گا، اور جو شخص اپنی بیوی کو پلائے گا پھر اس سے ہم بستر ہو گا تو اللہ تعالی کے حکم سے وہ حاملہ ہو گی، یہ آنکھوں کے لیے شفا ہے، جادو کو توڑنے والا ہے، سینے اور دانتوں کے درد کو ختم کرتا ہے پیشاب کی رکاوٹ سے نجات دیتا ہے، وغیرہ، وغیرہ۔

Answer

تتبع کثیر کے باوجود یہ حدیث کسی معتبر کتاب سے دریافت نہ ہو سکی، البتہ اس معنی کے قریب ایک حدیث دستیاب ہوئی لیکن وہ بھی صحیح نہیں نیز اس کی سند بھی موجود نہیں۔ ملاحظہ ہو:

أورده ابن الأثير الجزري (
۵٤٤
ـ
٦۰٦
هـ) في جامع الأصول في أحاديث الرسول (۷/۵۳۰، رقم: ۵٦۵۵): عن عبد الله رضي الله تعالى عنهما أن رسول الله ﷺ قال: إن جبريل علمني دواء يشفي من كل داء، وقال لي: نسخته في اللوح المحفوظ: تأخذ من ماء مطر لم يمش في سقف، في إناء نظيف، فتقرأ عليه فاتحة الكتاب سبعين مرة، وآية الكرسي مثله، وسورة الإخلاص مثله، وقل أعوذ برب الفلق مثله، وقل أعوذ برب الناس مثله، ولا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد يحيى ويميت، وهو حي لا يموت، بيده الخير، وهو على كل شيء قدير، ثم تصوم سبعة أيام، وتفطر كل ليلة بذلك الماء. أخرجه

قال الشيخ عبد القادر الأرناؤوط: كذا في الأصل بياض بعد قوله: أخرجه، وفي المطبوع أخرجه رزين، ولم نقف له على سند، وعلامات الضعف أو الوضع عليه لائحة. (التعليقات على جامع الأصول في أحاديث الرسول: ۷/۵۳۰، رقم: ۵٦۵۵، ط: دار الفكر).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.