بچوں کو مختلف امراض کے ٹیکے لگانے کا حکم:
Question
آج کل مختلف امراض سے بچنے کے لیے بچوں کو ٹیکے لگاتے ہیں، بعض علماء ان کی مخالفت کرتے ہیں کہ یہ مضر ہیں، شرعاً ان ٹیکوں کے لگانے کا کیا حکم ہے؟
Answer
اگر تجربہ سے یہ بات ثابت ہو کہ اس انجکشن کا فائدہ ضرر سے زیادہ ہے تو اس کے لگانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ لگوانا چاہیے، ہاں ضرر متحقق ہو تو پھر نہ لگوایا جائے۔
حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب فرماتے ہیں:
ٹیکا لگانا تجربے سے مفید ثابت ہوا ہو تو جائز ہے۔ (کفایت المفتی: ۹/۱٤۹، دار الاشاعت)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2594
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2594