قمیص کی تعریف اور اقرب الی السنہ قمیص کی وضاحت:

29 min readFatwa Vol 7 #1Urdu

Question

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اور علمائے عظام درجِ ذیل ایک اہم مسئلہ کے بارے میں:
آنحضرت ﷺ کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں مرقوم ہے کہ آپ ﷺ قمیص زیب تن فرماتے تھے، بایں وجہ علماء نے لکھا ہے کہ مردوں کا مسنون لباس قمیص ہے، لیکن قمیص سے کون سی قمیص مراد ہے؟ اس لیے کہ موجودہ دور میں دو قسم کے کرتے پہنے جاتے ہیں: (۱) جس کے جانبین مشقوق ہوتے ہیں جو عام طور پر ہندوستان، پاکستان، افغانستان، ایران اور افریقہ کے مختلف ممالک سوڈان، صومالیہ وغیرہ میں مروج ہے۔ (۲) مدور، جو عام طور پر عرب ممالک اور دیگر علاقوں میں بھی مستعمل ہے، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ دونوں میں کون سا کرتہ اقرب الی السنہ ہے؟ حضرت والا سے عاجزانہ درخواست ہے کہ مفصل اور مدلل جواب عنایت فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں۔

Answer

آنحضرت ﷺ کی قمیص کے بارے میں کہیں صراحۃً احادیث میں یہ بات دستیاب نہیں ہوئی کہ قمیص کی کیا ہیئت تھی، مشقوق الجانبین تھی یا مدور، بنا بریں حتمی طور پر کسی ایک جانب فیصلہ کر کے دوسری جانب کو رد کرنا درست نہیں ہے، دونوں کے استعمال کی گنجائش ہے۔
ہاں فقہاء اور اہل لغت کے کلام کی روشنی میں ہمارے نزدیک زائد ٹکڑے لگی ہوئی مشقوق الجانبین قمیص آنحضرت ﷺ کی قمیص سے زیادہ مشابہ اور اقرب الی السنہ ہے، اور ہر زمانے میں چوٹی کے علماء، صلحاء کا لباس رہا ہے، اس وجہ سے اس کا استعمال ہمارے نزدیک اقرب الی السنہ ہے، زائد ٹکڑا لگی ہوئی مشقوق الجانبین قمیص کے اقرب الی السنہ ہونے کے چند دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیے:
دلیل اول (۱) خاتمۃ المحققین اور فقہ حنفی کے ممتازو مایہ ناز، نامور عالم علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

والقميص من أصل العنق إلى القدمين بلا دخريص وكمين، والدخريص: الشَّق الذي يفعل في قميص الحي ليتسع للمشي. (فتاوى الشامي: ۲/۲۰۲، مطلب في الكفن، سعيد).
كذا ذكره العلامة فخرالدين الزيلعي رحمه الله (م
۷٤۳
هـ) في التبيين (۱/۲۳۷، ط: إمداديه)، والعلامة السيد أحمد الطحطاوي رحمه الله (م
۱۲۳۱
هـ) في حاشيته على الدر المختار (۱/۳٦۹، ط: كوئته)، والعلامة ابن نجيم رحمه الله في البحر الرائق (۲/۱۷۵، ط: كوئته)، والعلامة عبد الحي اللكنوي رحمه الله (م
۱۳۰٤
هـ) في عمدة الرعاية (۱/۲۰٦)، والعلامة ظفر أحمد العثماني رحمه الله (م
۱۳۹٤
هـ) في إعلاء السنن (۸/۲۳۹)، والعلامة السيد عميم الإحسان رحمه الله في التعريفات الفقهية (ص: ۱۷۷، ط: بيروت).

مذکورہ بالا تعریف کا خلاصہ یہ ہے کہ زندہ آدمی کی قمیص وہ ہے جس میں دخریص ہو، یعنی زائد ٹکڑے کے ساتھ شق اور شگاف ہو جس کی وجہ سے چلنے میں آسانی اور سہولت پیدا ہو جائے۔
ہمارے خیال میں دخریص کی تعریف میں لفظ
"الشَّق" بفتح الشين
ہونا چاہیے ہونا چاہیے اگر شین کے کسرہ کے ساتھ ہو تا تو پھر آگے
يوضع
کا لفظ آتا
يفعل
نہیں آتا جب کہ یہاں
"يفعل"
آیا ہے۔
نیز دخریص کے دونوں ہی معنی قمیص میں موجود ہیں، قمیص میں اضافی ٹکڑ ابھی ہوتا ہے جس کو کلی کہتے ہیں اور کلی کے ساتھ شگاف اور پھٹن بھی ہوتی ہے۔
صاحب مغرب علامہ مطرزی (
۵۳۸
۔
٦۱۰
ھ) دخریص کی تعریف کرتے ہوے فرماتے ہیں:

دخريص القميص ما يوسع به من الشَّعب. (المغرب في ترتيب المعرب: ۱/۲۸۳).
(وكذا في التعريفات الفقهية، ص: ۹٤، ط: بيروت).

یعنی دخریص وہ ہے جس کے ذریعہ قمیص چاک اور شگاف سے کشادہ کی جاتی ہے۔
یاد رہے
"شَعب"
شگاف اور پھٹن کو کہتے ہیں، اس کی وضاحت بخاری شریف کی روایت میں ملاحظہ فرمائیے:

أخرج البخاري عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن قدح النبي ﷺ انكسر فاتخذ مكان الشَّعب سلسلة من فضة. (بخاري شريف: ۱/٤۳۸، باب ما ذكر من درع النبي ﷺ، و۲/۸٤۲، باب الشرب من قدح النبي ﷺ، وأيضاً رواه البيهقي في سننه الكبري: ۱/۲۹، باب النهى عن الإناء المفضض، والطبراني في الأوسط: ۹/۲٤/۸۰٤٦، والإمام الطحاوي في مشكل الآثار: ٦/ ۲۹٤/ ٤۲۸٤، وابن ماجه، ۴۳۸).

حدیثِ بالا کی شرح کرتے ہوے علامہ بدر الدین عینی رحمه الله فرماتے ہیں:

الشَّعب: بفتح الشين المعجمة وسكون العين المهملة، الصدع والشَّق. (عمدة القاري: ۱۰/٤٤۰، ط: دار الحديث، ملتان).
وفي النهاية: مكان الشَّعب أي مكان الصدع والشَّق الذي فيه. (النهاية في غريب الأثر: ۲/۱۱٦۷).
قال الإمام الصنعاني في شرح بلوغ المرام: مكان الشَّعب، بفتح الشين

لفظ مشترك بين معان، والمراد منها هنا: الصدع والشَّق. (سبل السلام: ۱/۳٤).
وفي تاج العروس: مكان الشَّعب أي مكان الصدع والشَّق الذي فيه. (تاج العروس: ۳/۱۳٤). (وكذا في لسان العرب: ۱/٤۹۷).

القاموس الوحید میں ہے:

والشَّق
: دُرز، تڑخن، شگاف، پھٹن۔ (القاموس الوحید، ص:
۸۷۸
)۔
خلاصہ یہ ہے کہ دخریص اس شگاف اور پھٹن کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ قمیص کشادہ کی جائے۔
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ
الشُعَب شُعْبَة
کی جمع ہے اور
شُعْبَة
کہتے ہیں:
الفرقة من كل شيء
یعنی ٹکڑے کے معنی میں ہے اگر یہ معنی ہو تو پھر بھی اس کے ساتھ شق اور پھٹن ہو گی۔
دخریص کی مزید وضاحت ملاحظہ کیجیے:
معجم لغۃ الفقہاء میں ہے:

الدخريص: الشَّق في أسفل الثوب ليساعد لابسه على المشي. (معجم لغة الفقهاء، ص ۲۰۷).
وفي التعريفات الفقهية: والدخريص: الشَّق الذي يفعل في قميص الحي ليتسع في المشي. (التعريفات الفقهية، ص: ٤۳۵).
شَق بمعني
شگاف و پھٹن کی مزید وضاحت:
قال في المنجد: الشَّق: بفتح الشين جمعه شقوق بمعني الصدع والخرق والموضع المشقوق. (المنجد، ص ۳۹٦).
وفي لسان العرب: الشَق: الصدع البائن وقيل: غير البائن وقيل: هو الصدع عامة. (لسان العرب: ۱۰/۱۸۱، بيروت).
وفي التعريفات الفقهية: والجيب: الشَّق النازل على الصدر. (ص: ۱۷۷، ط: بيروت).
وفي مراقي الفلاح مع الطحطاوي: الجيب الشَّق النازل. (ص ۵۷۷، ط: قديمي).
(وكذا في البحر الرائق: ۲/۱۷۵، وفتح القدير: ۲/۱۱۵، دار الفكر، وحواشي الشرواني: ۳/۱۲۱، وتحفة المحتاج: ۱۰/٤۹۸).

بعض حضرات دخریص کا ترجمہ زائد ٹکڑے اور کلی سے کرتے ہیں یہ بھی صحیح اور جائز ہے، کیوں کہ قمیص میں شگاف کے ساتھ کلی بھی ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو؛ تاج العروس میں ہے:

الدخريص من القميص هو ما يوصل به البدن ليوسعه. (تاج العروس: ٤/۳۹۳).
الدخريص من القميص والدرع هو ما يوصل به البدن ليوسعه. (لسان العرب: ۷/۳۵).

فقہاء کی عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ زندہ اور مردہ کی قمیص کے درمیان فرق ہے مردہ کی قمیص میں دخریص، جیب، اور کمین نہیں ہوتیں، اور زندہ کی قمیص میں یہ سب چیزیں ہوتی ہیں۔ زندہ اور مردہ کی قمیص کا فرق درجِ ذیل روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو علامہ سرخسی رحمه الله فرماتے ہیں:

ولنا حديث ابن عباس رضي الله عنه أن النبي ﷺ كفن في ثلاثة أثواب فيها قميصه. ولباسه بعد موته معتبر بلباسه في حياته إلا أن في حياته كان يلبس السراويل حتى إذا مشي لم ينكشف عورته وذلك غير محتاج إليه بعد موته فالإزار قائم مقام السراويل، ولكن في حال حياته الإزار تحت القميص ليتيسر المشي عليه وبعد الموت الإزار فوق القميص من المنكب إلى القدم لأنه لا يحتاج إلى المشي. (المبسوط: ۲/٦۰، باب غسل الميت).

مذکورہ بالا حدیث اور علامہ سرخسی رحمه الله کی عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ قمیص میں شق ہوتا ہے اسی وجہ سے ستر یعنی رکبتین اور ران کے کھلنے کا امکان رہتا ہے، لہذا سراویل کا استعمال ستر کھلنے کے امکان کو دفع کرنے کے لیے ہوتا ہے اور میت میں یہ بات نہیں ہے۔
حضرت مولانا سید زوار حسین صاحب رحمه الله عمدۃ الفقہ میں فرماتے ہیں:
کرتہ میں گریبان اور کلی اور چاک اور آستین نہ لاگیوں کیوں کہ زندہ آدمی یہ چیزیں اس لیے کرتا ہے کہ چلنے وغیرہ میں آسانی ہوتی ہے اور مردہ اس سے بے نیاز ہے۔ (عمدۃ الفقہ:
۲
/
۵۰۳
)۔
زندہ کی قمیص میں دخریص کا لفظ درجِ ذیل کتبِ فقہ و لغت میں ملاحظہ فرمائیے:

(دستور العلماء: ۳/۹۰، والتعريفات الفقهية، ص ۱۷۷، واللباب في شرح الكتاب: ۱/٦۳، والمحيط البرهاني: ۸/۲۵۳، ورد المحتار على الدر المختار: ۲/۲۰۲، سعيد، ومجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: ۱/۲٦٦، ومراقي الفلاح، ص ۲۲۵، قديمي، والبحر الرائق: ۲/۱۸۹، وتبيين الحقائق: ۱/۲۳۷، وحواشي الشرواني: ۳/۱۲۱، وشرح منتهي الإرادات: ۱/۳۵٦، وإمداد الفتاح، ص ٦۱۲، وشرح النقاية: ۲/۳۹، ط: بيروت).

(۲) دلیل دوم: شق والی قمیص میں ایک سے زائد دامن ہوتے ہیں، اس کی تائید صاحب لسان العرب ابن منظور کی عبارت سے ہوتی ہے۔ ملاحظہ ہو:

قال: الذيل واحد أذيال القميص وذيوله. (لسان العرب: ۱۱/۲٦۰، وكذا في مختار الصحاح، ص: ۲۲٦، ط: بيروت، والصحاح للجوهري: ٤/۱۳۹۲، دار إحياء التراث العربي، بيروت).
تاج العروس
میں ہیـ:

قال الزجاج: إذا زيد على الجزء (حرف) واحد وذلك الجزء مما لا يزاحف فاسمه المذال نحو متفاعلان أصله متفاعلن فزدت حرفاً فصار ذلك الحرف بمنزلة الذيل للقميص. (تاج العروس: ۷/۳۳۲).

حاصل یہ ہے کہ شق والی قمیص ہی کا ناحیہ مستقیمہ بنتا ہے الف کی طرح جب کہ مدور میں اس طرح کی کیفیت حاصل نہیں ہوتی۔
تیسری دلیل: جن علاقوں میں صحابہ کرام کی مقدس ہستیوں کے قدم پڑے ہیں وہاں ان کی تہذیب و ثقافت، اخلاق و کردار، عادات و اطوار سب منتقل ہوئیں، چنانچہ سوڈان، صومالیہ وغیرہ افریقی ممالک نیز افغانستان وغیرہ کے علاقوں کا لباس بھی شق والا کرتہ اس بات کی کھلی گواہی دیتا ہے کہ یہی ان مقدس حضرات کا لباس تھا۔
البتہ فی زماننا جانبین کے شگاف رکبتین سے کچھ اوپر ہونے لگے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ نیچے شلوار یا ازار پہنی جاتی ہے اس میں ستر علی وجہ الکمال پایا جاتا ہے، ورنہ اصل قمیص نصف ساق تک ہونی چاہیے اور شگاف رکبتین سے ذرا نیچے ہوں، بغیر شلوار کے بھی اس میں ستر کھلنے کا امکان بہت کم ہے، جن صحابہ کرام نے صرف قمیص میں نماز پڑھی تھی وہ بھی اسی حالت پر محمول ہے۔
اشکالات اور جوابات:
بعض علماء مشقوق قمیص پر چند اشکالات کرتے ہیں، مختصراً ان کے جوابات حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
اشکال (۱) صحابہ کرام کی ایک جماعت نے ایک قمیص میں نماز پڑھی، متعدد احادیث سے ثابت ہے، نیز شراحِ حدیث، فقہاء وغیرہ نے بھی تصریح فرمائی ہے کہ ایک قمیص میں نماز جائز اور درست ہے، اس لیے کہ اس میں ستر عورت حاصل ہو جاتا ہے، اور یہ مدور میں ممکن ہے، شگاف والی قمیص میں ستر کھل جانے کا امکان ہے یا ستر عورت نہیں ہوتا ہے، لہذا شگاف والی قمیص مراد نہیں؟
الجواب: (الف) صحابہ کرام جن ممالک میں تشریف لے گئے تھے وہاں کے باشندوں کی قمیص شگاف والی ہے، ہاں یہ بات الگ ہے کہ ان حضرات کی قمیص میں شگاف رکبتین سے ذرا نیچے ہوتا ہے اور ہمارے ہاں پاکستان، ہندوستان میں شگاف رکبتین سے اوپر ہوتا ہے، لہذا فقہاء اور محدثین نے جو تحریر فرمایا ہے وہ اس قمیص کے بارے میں ہے جس کا شگاف رکبتین سے ذرا نیچے ہو اور نصف ساق تک لمبی ہو، اس میں ستر عورت حاصل ہو جا تا ہے۔
الجواب: (ب) پھر قمیص واحد میں نماز پڑھنے سے کشفِ عورت کا احتمال صحابہ کرام کے دور میں بھی تھا بلکہ بعض مرتبہ ستر کھل جاتا تھا، اسی وجہ سے عورتوں کو تاکید کی گئی تھی کہ مردوں سے پہلے سجدہ سے سر نہ اٹھائیں۔
مطلب یہ ہے کہ کشفِ عورت کے احتمال کے ساتھ نماز جائز ہے اور صحابہ کرام نے اسی احتمال کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور متعدد کپڑوں میں بھی پڑھی۔ کشفِ عورت کے احتمال کی چند روایات ملاحظہ ہوں:

(
۱
) بوب الإمام الهمام البخاري في صحيحه (۱/۱۱۳)، فقال: عقد الثياب وشدها ومن ضم إليه ثوبه إذا خاف أن تنكشف عورته، حدثنا محمد بن كثير أنا سفيان عن أبي حازم بن سهل بن سعد قال: كان الناس يصلون مع النبي ﷺ وهم عاقدوا أزرهم من الصغر على رقابهم فقيل للنساء: لا ترفعن رؤوسكن حتى يستوي الرجال جلوساً.
قال الإمام بدر الدين العيني رحمه الله في شرح هذا الحديث: قوله جلوساً، أي جالسين كانت النساء متأخرات عن صف الرجال فنهين عن رفع رؤوسهن حتى يستوي الرجال جالسين، حتى لا يقع بصرهن على عوراتهم. وفيه الاحتياط في ستر العورة، والتوثق بحفظ السترة. (عمدة القاري شرح صحيح البخاري: ٤/۵٦۱).

مذکورہ بالا روایت درجِ ذیل کتبِ حدیث میں ملاحظہ فرمائیے: (
السنن الكبري للبيهقي: ۲/۲٤۱، والمعجم الكبير: ٦/۱۹۱، وسنن النسائي: ۲/۷۰، شعب الإيمان: ۷/۲۸۳).
(
۲
) أخرج الإمام أبو داود في سننه (رقم: ۸۵۱)، عن أسماء بنت أبي بكر قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقول: من كان منكن يومن بالله واليوم الآخر فلا ترفع راسها حتى يرفع الرجال رؤوسهم كراهة أن يرين من عورات الرجال. إسناده صحيح. وأيضاً رواه البيهقي في الكبري (۲/۲٤۱)، والطبراني في الكبير (۲٤/۹۷)، وأحمد في مسنده (رقم ۲٦۹٤۷)، وابن راهويه في مسنده (۵/۱۱۹)، وعبد الرزاق في مصنفه (۳/۱٤۸).
قال العلامة العيني رحمه الله: إنما نهى عن رفع رؤوسهن قبل جلوس الرجال خشية أن يلمحن شيئاً من عورات الرجال عند الرفع منه. (عمدة القاري: ٦/۱۹۳).

بلکہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنه خود فرماتی ہیں:
قالت: وذلك إن أزرهم كانت قصيرة مخافة أن تنكشف عوراتهم إذا سجدوا. (مسند أحمد رقم: ۲٦۹۵۰، والمعجم الكبير للطبراني، رقم: ۲٦۱).

طبرانی کی روایت میں اس طرح مذکور ہے:

قالت: لأنه كانت بينهم حادة فيلبسون ثياباً تقصر عنهم فتبدو عوراتهم. (المعجم الكبير، رقم: ۲٦۳).
قال العلامة العيني رحمه الله في شرح سنن أبي داود: قوله كراهية أن يرين "انتصاب" أي لا جل كراهية أن تري النساء من عورات الرجال إذا رفعن رؤوسهن قبلهم وذلك لانهم كان عليهم أزر قصيرة فإذا سجدوا ربما ينكشف موضع من عوراتهم. (٤/٤۳، ط: مكتبة الرشد).

خلاصہ یہ ہے کہ شق والی قمیص کو اس لیے رد کرنا کہ صحابہ کرام رضی الله عنه نے ایک قمیص میں نماز پڑھی اور ستر نہیں کھلا درست نہیں ہے، ستر کھلنے کا امکان اُس زمانہ میں بہت ہوتا تھا جیسا کہ روایات اور شروحات سے واضح ہوا، تو شق والی قمیص میں کشفِ عورت کے احتمال کے ساتھ بھی نماز درست ہے اور صحابہ کرام رضی الله عنه نے پڑھی۔
(ج) علی فرض التسلیم شگاف والی قمیص میں ستر عورت (رکبتین) نہیں ہوتا بلکہ رکبتین کھل جاتے ہیں اس کے باوجود نماز درست ہو سکتی ہے جیسا کہ بعض ائمہ کے نزدیک اس کی گنجائش ہے پھر کشفِ عورت مذہب احناف میں بھی ربع عضو سے کم معاف ہے اور نماز درست ہے، نیز بقدرِ رکن نہ ہو ایک رکن سے کم وقفہ میں کھلا اور فوراً چھپا لیا تب بھی نماز درست ہے۔
علاوہ ازیں دیگر امکانات ہیں لہذا علی الاطلاق صحابہ کرام رضی الله عنه کی نماز سے شگاف والی قمیص رد نہیں ہوتی۔ ملاحظہ ہو:
قال الحافظ الفقيه ابن رجب الحنبلي (۷۳٦. ۷۹۵ هـ) في فتح الباري (۲/۱۵۸): وفيه (الحديث الذي مر آنفاً) أن من انكشف من عورته يسير في صلاة لم تبطل صلا ته وقد استدل بذلك طائفة من الفقهاء

وإنما ذكر حديث عمرو بن سلمة الجرمي أنه كان يصلي بقومه في بردة له صغيرة فكان إذا سجد تقلصت عنه فيبدو بعض عورته حتى قالت عجوز من وراء ه: ألا تغطون عنا إست قارئكم، وقد خرجه البخاري في موضع آخر من كتابه هذا.
ومذهب أحمد أنه إذا انكشفت العورة كلها أو كثير منها ثم سترها في زمن يسير لم تبطل الصلاة وكذلك إن انكشفت منها شيء يسير، وهو ما لا يستفحش في النظر ولو طال زمنه وإن كان كثيراً وطالت مدة انكشافه بطلت الصلاة وكذا قال الثوري رحمه الله لو انكشفت عورته في صلاته لم يعد. ومراده إذا أعاد سترها في الحال.
وعن أبي حنيفة رحمه الله وأصحابه: إن انكشف من المغلظة دون قدر الدرهم فلا إعادة ومن المخففة إن انكشف دون ربعها فكذلك.
ولا فرق بين العمد والسهو في ذلك عند الأكثرين وقال إسحاق: إن لم يعلم بذلك إلا بعد انقضاء صلا ته لم يعد وهو الصحيح عند أصحاب مالك رحمه الله.

نیز بہت سارے ائمہ کے نزدیک رکبتین ستر میں داخل نہیں ہے۔

قال الإمام النووي رحمه الله: وعورة الرجل حراً كان أو عبداً ما بين السرة والركبة على الصحيح. (روضة الطالبين: ۱/۲۸۲).
قال علاء الدين أبو الحسن الحنبلي (م ۸۸۵): عورة الرجل والأمة ما بين السرة والركبة كذا في الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف. (۱/٤٤۹، دار إحياء التراث).
وقال في المغني: والصالح في المذهب أنها من الرجل ما بين السرة والركبة نص عليه أحمد في رواية جماعة. (المغني: ۱/٦۱۵، ط: بيروت).
وقال الشيخ وهبة الزحيلي: مذهب الشافعية عورة الرجل ما بين سرته وركبته في الصلاة والطواف وأمام الرجال الأجانب والنساء المحارم

فالسرة والركبة ليستا من العورة على الصحيح. (الفقه الإسلامي وأدلته: ۱/۵۸۸).
وفي حاشية الدسوقي: هي من رجل ما بين سرة وركبة وهو بيان لها بالنسبة للرؤية وكذا بالنسبة للصلاة. (۱/۳۳۷، فصل في ستر العورة).
قال ابن رشد القرطبي الأندلسي: حد العورة من الرجل؛ فذهب مالك رحمه الله والشافعي رحمه الله إلى أن حد العورة منه ما بين السرة إلى الركبة وكذلك قال أبو حنيفة رحمه الله. وقال قوم: العورة هما السوأتان فقط من الرجل وسبب الخلاف في ذلك أثران متعارضان كلاهما ثابت أحدهما: حديث جرهد رضي الله عنه، أن النبي ﷺ قال: الفخذ عورة، والثاني: حديث أنس رضي الله عنه: أن النبي ﷺ حسر عن فخذه وهو جالس مع أصحابه قال البخاري: وحديث أنس رضي الله عنه أسند وحديث جرهد رضي الله عنه أحوط، وقد قال بعضهم: العورة الدبر والفرج والفخذ. (بداية المجتهد: ۱/۸۳، الباب الرابع).
وللاستزادة انظر: (الفقه الإسلامي وأدلته، وكفاية الطالب الرباني: ٤/۳۵۳، وعرف الجادي من جنان هدي الهادي، ص ٦۵، وفيه: [السرة والركبة ليستا من العورة باتفاق أهل الحديث وفي الفخذ للراكب إذا تعري عليه سترة]. والفقه السنة للسيد سابق: ۱/۸۰٦).

اشکال (۲) : قمیص آنحضرت ﷺ کے پسندیدہ پیراہن میں شمار ہوتی تھی اس وجہ سے کہ "
أستر للعورة"
ہے اس میں ستر عورت اچھی طرح حاصل ہوتا تھا جب کہ موجودہ شق والی قمیص میں ستر عورت ممکن نہیں ہے؟
الجواب: واضح ہو کہ
"أستر"
دو معانی کے لیے ہے (۱)
أشد ستراً
(۲) دوسرا
أكمل ستراً
۔ پہلے معنی مراد ہو تو مطلب یہ ہے کہ قمیص میں ستر عورت زیادہ ہے بنسبت ازار و رداء کے اس لیے کہ دونوں کے گر جانے کا احتمال ہے خصوصاً جو لوگ اچھی طرح باندھنا نہیں جانتے،
كما روي البخاري رحمه الله في باب قراءة القرآن بعد الحدث وغيره

وقال حماد عن إبراهيم: إن كان عليهم إزار فسلم وإلا فلا تسلم. (صحيح البخاري: ۱/۳۰).
علم منه أن الإزار في الحقيقة موضوع لستر العورة فلذلك لم يقل إن كان عليهم إزار أو قميص فسلم وإلا فلا. وإن أمكن أن يكون ذكر الإزار للبسه عادة لكن المقصود في القميص الزينة، ودفع الحر والبرد والستر والإزار للستر،

یعنی ازار ستر عورت کے لیے مقرر ہے بخلاف قمیص کے اگر چھوٹی ہو تو ستر نہیں ہوگا یا مشکل ہوگا ۔ اور اگر دوسرا معنی مراد ہو تو قمیص باوجود شق و شگاف کے نصفِ اسفل رکبتین تک ساتر ہوتی ہے اور ازار میں فقط نصف اسفل کا ستر ہوتا ہے جب کہ قمیص میں نصفِ اسفل کے ساتھ نصفِ اعلی کا ستر بھی ہو جاتا ہے اس وجہ سے
أشمل وأكمل ستراً
فرمایا ۔ اور یہ بات مشاہدہ سے ثابت ہے جہاں عام صحابہ کرام رضی الله عنه والی قمیص پہنی جاتی ہے وہاں اس کے انکار کی گنجائش نہیں ہے ۔
اشکال (۳) : قمیص میں دخریص کا مطلب یہ ہے کہ دخریص وہ اضافی کپڑا ہے جس کے ذریعہ قمیص کشادہ کی جاتی ہے شگاف مراد نہیں ۔ ملاحظہ ہو :

الدخريص من القميص هو ما يوصل به البدن ليوسعه. (تاج العروس: ٤/۳۹۳).
ما يوسع به من الشعب. (المغرب، ص ۲۸۳).
الشعب جمع شعبة، الفرقة من الشيء. (المعجم الوسيط).

بلکہ لغات، فقہ اور حدیث میں کہیں پر یہ نہیں ملا کہ دخریص شق اور شگاف پر بولا جاتا ہے ۔

والشق من الشيء جزء ه. (المعجم الوسيط).

الجواب: ابتداء میں یہ بات وضاحت کے ساتھ گزری ہے کہ دخریص شق کو بھی کہتے ہیں تاہم اگر اضافی کپڑا مراد ہو تب بھی درست ہے کہ قمیص میں دونوں ہی ہوتے ہیں اضافی کپڑا بھی ہوتا ہے جس سے قمیص کشادہ ہوتی ہے اور شق و شگاف بھی ہوتا ہے ۔ اس دخریص کو اردو میں کلی کہتے ہیں اور کرتے کی کلی بر صغیر اور افریقہ، سوڈان، صومالیہ و افغانستان میں مشقوق اضافی کپڑا ہوتا ہے گویا دخریص کی خصوصیت یہ ہو گی کہ:
الدخريص: ما يوسع به من قطعة الثوب مع الشَّق أو الشَّق فقط.

دخریص، شق و شگاف کے معنی میں ہے اس کے مزید دلائل ملاحظہ ہوں:
معجم لغۃ الفقہاء میں ہے:
الدخريص الشَّق في أسفل الثوب ليساعد به على المشي. (ص ۲۰۷). (ومثله في المغرب، ص ۲۸۳).

علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
الدخريص الشَّق الذي يفعل في قميص الحي ليتسع للمشي. (فتاوى الشامي: ۲/۲۰۲، سعيد).
شامی میں
القطعة التي توضع
نہیں ہے ۔

الشَّق بفتح الشين جمعه شقوق بمعني الصدع والخرق والموضع المشقوق. (المنجد، ص ۳۹٦).
المعجم الوسيط
میں ہے:

الشَق الصدع، الخرق، الشق الخيشومي: إحدى الفتحات التي على جانبي الرأس وتفتح في الجيب الخيشومي والشق القيصر في الولادة استخراج الجنين بشق البطن. (المعجم الوسيط، ص: ٤۸۹).
القاموس الوحيد
میں ہے:
الشَّق،
شگاف، پھٹن، ج: شقوق ۔ (
القاموس الوحيد: ۱/۸۷۸).

القاموس الوحید میں ہے:
الصدع: ٹھوس چیز میں دراڑ، شگاف، قرآن پاک میں ہے:
والأرض ذات الصدع
، دراڑ، پھٹن ج: صدوع ۔ (ص
۹۱٦
) ۔
معترض صاحب نے جو شق کا معنی حصہ اور جزء بیان کیا دراصل یہ
الشِّق بالكسر
ہے جب کہ دخریص کی تعریف میں
الشَّق بالفتح
بمعنی شگاف ہے ۔ جیسا کہ مذکورہ بالا عبارات سے واضح ہوا ۔

الشِّق بالكسر
کے بارے میں ملاحظہ ہو المعجم الوسیط میں ہے:
الشِق بالكسر شِق الشيء جزء ه ونصفه، وجانبه، والجهد والمشقة وفي التنزيل العزيز: وتحمل أثقالكم إلى بلد لم تكونوا بالغيه إلا بشِق الأنفس. (المعجم الوسيط، ص: ٤۸۹).

لہذا دونوں کے درمیان واضح اور بین فرق ہے ۔
فافهم وتدبر
۔
بعض حضرات نے دخریص کی تعریف میں لفظ
"الشَّعب"
کا اضافہ فرمایا ہے، اس سے اور زیادہ شگاف کی وضاحت ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو : المغرب میں ہے:
دخريص القميص: ما يوسع به من الشَّعب. (المغرب، ص: ۲۸۳).

التعریفات الفقہیۃ میں ہے:
دخريص القميص: ما يوسع به من الشَّعب. (التعريفات الفقهية، ص: ۹٤).

بعض حضرات یہاں بھی شعب کو
فرقة من الشيء
سے تعبیر کرتے ہیں، لیکن الشَّعب اصل شگاف اور پھٹن اور انفراج کو کہتے ہیں ۔
معجم لغۃ الفقہاء میں ہے:
الشَّعب: الانفراج بين جبلين. (ص ۲٦۳).
المعجم الوسيط
میں ہے:

انفراج بين الجبلين والطريق ومجري للماء تحت الأرض. (ص ٤۸۳)، (وكذا في التعريفات الفقهية، ص ۱۲۳).

اس معنی کی وضاحت کے لیے حدیث شریف ملاحظہ ہو :

أخرج البخاري عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن قدح النبي ﷺ انكسر فاتخذ مكان الشَّعب سلسلة من فضة
۔
(بخاري شريف: ۱/٤۳۷، باب ما ذكر من درع النبي ﷺ، وأيضاً رواه البيهقي في سننه الكبري: ۱/۲۹، باب النهى عن الإناء المفضض، والطبراني في الأوسط: ۹/۲٤/۸۰٤٦، والإمام الطحاوي في مشكل الآثار: ٦/۲۹٤/٤۲۸٤، وابن ماجه، ٤۳۸)
۔
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا پیالہ ٹوٹ گیا تو پھٹن کی جگہ چاندی کا پترا لگا یا ۔
الشعب کی شرح میں شراحِ حدیث کے اقوال ملاحظہ فرمائیے:
حدیثِ بالا کی شرح کرتے ہوے علامہ بدر الدین عینی رحمه الله فرماتے ہیں:

الشَّعب: بفتح الشين المعجمة وسكون العين المهملة، الصدع والشَّق. (عمدة القاري: ۱۰/٤٤۰).
وفي النهاية: مكان الشَّعب أي مكان الصدع والشَّق الذي فيه. (النهاية في غريب الأثر: ۲/۱۱٦۷).
قال الإمام الصنعاني في شرح بلوغ المرام: مكان الشَّعب، بفتح الشين

لفظ مشترك بين معان، والمراد منها هنا: الصدع والشَّق. (سبل السلام: ۱/۳٤).
وفي تاج العروس: مكان الشَّعب أي مكان الصدع والشَّق الذي فيه. (تاج العروس: ۳/۱۳٤). (وكذا في لسان العرب: ۱/٤۹۷).

القاموس الوحید میں ہے:

والشَّق
: دُرز، تڑخن، شگاف، پھٹن ۔ (القاموس الوحید، ص:
۸۷۸
) ۔
بعض روایت میں
"انكسر"
کی جگہ
"انصدع"
کا لفظ آیا ہے
كما في رواية البيهقي
دونوں الفاظ سے بھی واضح ہوتا ہے کہ شگاف مراد ہے ۔ ورنہ اگر
فرقة من الشيء
مراد ہو تو یہاں
قدح النبي ﷺ
میں
فرقة من الشيء
کا کیا مطلب ہوگا؟
اشکال (٤) : علامہ شامی رحمه الله کی عبارت سے مشقوق قمیص تسلیم کر لیں تب بھی اتنی بات ثابت ہو گی کہ علامہ شامی رحمه الله ۱۲۰۰؁ھ میں تھے لہذا یہ اس وقت موجود تھی، نہ کہ اس سے پہلے؟
الجواب: دخریص کی تعریف صرف علامہ شامی رحمه الله نے بیان نہیں فرمائی بلکہ آپ سے پہلے بھی فقہاء نے بیان کی ہے ۔ مثلاً صاحب المغرب الامام اللغوی ابو الفتح ناصر الدین المطرزی المولود ۵۳۸؁ھ و المتوفی ٦۱۰؁ھ مطابق ۱۱٤٤٤ء ۔ ۱۲۱۳؁ء یعنی علامہ المطرزی چھٹی صدی ہجری کے عالم ہیں ان کی عبارت مذکور ہوئی ۔
(۲) علامہ فخر الدین عثمان بن علی الزیلعی المتوفی ۷٤۳؁ھ یعنی آٹھویں صدی ہجری کے فقیہ ہیں ۔
(۳) علامہ ابن نجیم المصری نے بھی بیان کیا ہے ۔ م ۹۷۰؁ھ دسویں صدی ہجری کے فقیہ ہیں ۔ وغیرہ ۔
لہذا یہ قول درست نہیں ہے کہ شق والا کرتا علامہ شامی رحمه الله کے زمانہ میں ایجاد ہوا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اصل چیز مشاہدہ اور عمل متوارث ہے جو ہر زمانہ میں علماء صلحاء کے جسم پر نظر آتا ہے اور قانون بھی ہے کہ ہر زمانہ میں اقرب الی السنہ وہی لباس کہلا تا ہے جو اُس زمانہ کے صلحاء و اولیاء اللہ کا عمومی سطح پر ہو ممکن ہے کہ پرانے زمانہ میں بھی بعض حضرات غیر مشقوق کرتا استعمال کرتے ہوں ۔
لیکن کتبِ فقہ اور لغات کی روشنی میں شق والا کرتا زیادہ مناسب ہے اور جہاں جہاں اسلام کی کرنیں قرنِ اول میں پہنچیں و

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.