شگاف والے کرتہ کے اقرب الی السنہ ہونے کی مختصر دلیل:
Question
آپ نے فتاوی دار العلوم زکریا جلدِ سابع میں اقرب الی السنہ کرتہ کے متعلق مفصل و مدلل مسئلہ لکھا ہے، الحمد للہ میں نے اس کو دیکھا، لیکن لمبی چوڑی بحث میری سمجھ میں نہیں آئی، لہذا آپ سے درخواست ہے کہ مجھے مختصر طور پر یہ بتا دیں کہ اقرب الی السنہ کرتہ کون سا ہے؟ اور اس کی مختصر دلیل بھی بتا دیں تاکہ جلدی سمجھ میں آ جائے اور لمبی بحث پڑھنے کی ضرورت نہ رہے؟ لمبی بحث کو اہل شوق و اہل تحقیق کے لیے چھوڑتا ہوں۔
Answer
فتاوی دار العلوم زکریا جلدِ سابع میں ہم نے یہی لکھا ہے کہ شق (شگاف) والا کرتہ اقرب الی السنہ ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ قمیص میں دخریص ہوتی ہے اور دخریص کی تعریف حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
الدخريص: الشَّقُّ الذي يفعل في قميص الحي ليتسع في المشي. (التعريفات الفقهية، ص ۱۷۷).
یہاں شَقّ بالفتح ہے، جیسے جیب کی تعریف میں ہے:
الجيب: الشَّقُّ النازل على الصدر. (التعريفات الفقهية، ص ۱۷۷).
قرآنِ کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
﴿علي جيوبهن﴾
اس کی تفسیر میں شیخ ابو العباس احمد بن محمد الشاذلی الفاسی اپنی مشہور تفسیر
"البحر المديد"
میں لکھتے ہیں:
الجيب: وهو شَقُّ القميص من ناحية الصدر. (البحر المديد: ۵/۱۰٦، ط: دار الكتب العلمية، بيروت).
فقہاء نے بھی جیب کی تعریف میں شق کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
قال في البحر الرائق: والمراد بالجيب الشق النازل على الصدر. (البحر الرائق: ۲/۱۷۵).
وقال في مراقي الفلاح: وهو (الجيب) الشق النازل على الصدر. (مراقي الفلاح مع الطحطاوي، ص ۵۷۷، ط: قديمي).
وقال في فتح القدير: يراد بالجيب الشق النازل على الصدر. (۲/۱۱۵، ط: دار الفكر).
وفي فتاوى الأزهر: ولا جيب، وهو الشق النازل على الصدر لأنه لحاجة الحي. (فتاوى دار الافتاء المصرية: ۵/٤۵۹).
یہاں شَق کے معنی شگاف اور پھٹن کے ہیں، یہ مطلب نہیں کہ گریبان میں زائد ٹکڑا لگا کر بند ہوتا ہے، تو قمیص میں بھی یہی لفظ آیا ہے۔
بعض حضرات فقہاء کی عبارت میں شق شین کے کسرہ کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اس کے معنی زائد ٹکڑے کے لیتے ہیں تو یاد رہے کہ شق شین کے کسرے کے ساتھ اس کے دو معنی آتے ہیں: (۱) مشقت، اللہ تعالی فرماتے ہیں:
لم تكونوا بالغيه إلا بشِق الأنفس
وہاں نہیں پہونچ سکتے مگر مشقتِ نفس کے ساتھ، اسی طرح حدیثِ امِ زرع میں آیا ہے ایک عورت نے کہا:
وجدني في أهل غنيمة بشق
، مجھے شوہر نے چند بھیڑ بکریوں میں مشقت کی حالت میں پایا۔
(۲) اور دوسرے معنی ٹکڑے کے ہیں حدیث میں ہے:
اتقوا النار ولو بشق تمرة،
جہنم سے بچو اگر چہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ہو، اور شق شین کے فتحہ کے ساتھ اس کے معنی پھاڑنے اور چیرنے کے ہیں اور یہ معنی معروف ہے،
ألم تروا إلى الميت إذا شق بصره
، تم میت کو نہیں دیکھتے جب اس کی آنکھیں پھٹ جاتی ہیں،
إذا السماء انشقت، اقتربت الساعة وانشق القمر
میں یہی معنی مراد ہیں۔
اب بظاہر فقہاء کے کلام:
الدخريص هو الشق الذي يفعل في القميص
میں شین کے فتحہ کے ساتھ ہے کیوں کہ تعریف میں واضح الفاظ استعمال کرنے چاہیے، ذو معنی مشترک لفظ استعمال کرنا بہتر نہیں اور شق مشترک بن گیا، اور شق پھٹن کے معنی میں ذو معنی نہیں ، نیز
يفعل
بھی اس کی دلیل ہے اگر ٹکڑے کے معنی ہوتے تو
يوضع
یا
يخاط
آتا، اور اگر بعض علماء اس پر اصرار فرماویں کہ شق بکسر الشین ہے تو بھی یہ معروف قمیص والوں کے لیے مضر نہیں کیوں کہ شق سے مراد وہ زائد ٹکڑا ہو گا جو چرا ہوا ہو، شق بالکسر ہو یا بالفتح اس میں چیرنے کے معنی ہوتے ہیں، شق مشقت میں بھی اس لیے مستعمل ہے کہ مشقت آدمی کو گویا چیر دیتی ہے اور اس لیے اکابر کی قمیصوں میں پھٹن والی کلی ہی معروف ہے۔
مذکورہ بالا عبارت کا حاصل یہ ہے کہ قمیص میں دونوں جانب شگاف ہوتا ہے جس کی وجہ سے چلنے، اُٹھنے بیٹھنے میں آسانی اور راحت ہوتی ہے، اور یہ قمیص ہمارے نزدیک اقرب الی السنہ ہے۔ باقی مدور جس کو عربی جبہ کہتے ہیں اس کا استعمال بھی جائز اور درست ہے ناجائز نہیں۔ واللہ سبحانہ و تعالی اعلم بالصواب۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/3116
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-3116