بطورِ فیشن ازار لٹکانے کا حکم:
Question
ایک شخص ٹخنوں سے نیچے ازار لٹکاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تکبر کی وجہ سے نہیں لٹکاتا ہوں، یہ تو فیشن ہے، اس وجہ سے لٹکاتا ہوں، اب آپ شریعت کا حکم بیان کیجیے کہ بطورِ فیشن ازار لٹکانا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
اس بارے میں روایات میں مطلقاً ممانعت وارد ہوئی ہے لہذا دونوں میں کراہت ہے البتہ کراہت میں تخفیف ہو گی، یعنی اگر بہ نیت تکبر ہے تو مکروہِ تحریمی ہے اور بطورِ فیشن لٹکانے میں کراہت ذرا کم ہو گی ۔ ملاحظہ ہو ابن ماجہ شریف کے حاشیہ میں مرقوم ہے:
قال الشيخ عبد الغني المجددي رحمه الله: وهذا التطويل والتوسيع الذي تعارف في بعض ديار العرب من الحجاز ومصر مخالف للسنة وإسراف موجب لا إضاعة المال فما كان منهما بطريق الخيلاء فهو حرام وما كان بطريق العرف والعادة وصار شعار القوم لا يحرم وإن كان الإسراف فيه لا يخلو عن كراهة. (حاشية سنن ابن ماجه، ص: ۲۵۵، ط: قديمي).
امداد الفتاوی میں ہے:
حنفیہ کے نزدیک ایسی صورت میں مطلق اپنے اطلاق پر اور مقید اپنی تقیید پر رہتا ہے اور دونوں پر عمل واجب ہوتا ہے کما ہو مصرح فی الاصول ۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۱۲۳
) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
یہ لباس متکبرین اور فساق کاہے، اگر اس نیت سے ہو کہ ان کے ساتھ تشبہ اختیار کیا جاوے یا تکبر کی نیت سے ہو تو حرام، ورنہ مکروہ ہے:
ولا يجوز الإسبال تحت الكعبين إن كان للخيلاء؛ إذ قد نص عليه الشافعي رحمه الله، وبغير الخيلاء، منع للتنزيه لا للتحريم، مرقاة. [۸/۱۲۹]
آج کل عام طور پر یہ لباس انہیں لوگوں کاہے جن پر مغربیت کا بھوت سوار ہے جو اپنی قدیم وضع اور طرزِ معاشرت کوبرا سمجھتے ہیں اور مغربی تہذیب پر فخر کرتے ہیں، ایسے لوگوں کی مشابہت بھی مذموم ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۲۷۲، جامعہ فاروقیہ) ۔
مزید ملاحظہ ہو : (تقریر ترمذی: ۲/۳۳۹ ۔ ۳٤۱، و تکملۃ فتح الملہم: ٤/۱۲۱، ۱۲۳) ۔
احادیث وغیرہ تفصیلات ما قبل میں ملاحظہ کر لی جائیں، تکرار موجبِ طوالت ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2601
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2601