کیا لباس اور کھانے پینے کی سنتیں عادات میں شمار ہیں یا عبادات میں ؟ اور دونوں میں کیا فرق ہے؟
Question
سنن عادیہ اور سنن تعبدیہ میں کیا فرق ہے؟ سنن عادیہ مستحب کے درجہ میں ہیں یا سنتِ مؤکدہ کے درجہ میں ؟ اور لباس کی سنتیں سنن عادیہ میں شمار ہوتی ہیں یا سنن تعبدیہ میں ؟ اگر کسی لباس میں کفار کے ساتھ تشبہ نہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ اور اگر مکمل تشبہ ہو تو کیا حکم ہوگا؟
Answer
عام طور پر فقہائے کرام نے سنن کی دو قسمیں بیان فرمائی ہیں: سنن ہدی: جسے آپ ﷺ نے عبادت کے طور پر کیا ہو، جیسے نماز باجماعت، اذان، اقامت، سنن رواتب وغیرہ، شریعت میں ان کو کرنے کی تاکید آئی ہے، ان کا حکم یہ ہے کہ ان کا چھوڑنا گمراہی اور قابل ملامت ہے ۔
دوسری قسم وہ ہے جسے آپ ﷺ نے بطورِ عبادت نہ کیا ہو بلکہ اپنی عادتِ مبارکہ کے طور پر آپ کے جسم اطہر سے صادر ہوئی ہو وہ "سنتِ عادیہ" ہے اور اسے "سنتِ زائدہ" بھی کہا جاتا ہے جیسے اونٹ پر سواری کرنا، تہ بند باندھنا، منقش یمنی شال استعمال فرمانا، مخصوص وضع کا لباس زیب تن فرمانا، عمامہ باندھنا، نشست و برخاست کا مخصوص انداز، وغیرہ وغیرہ یہ سب چیزیں سننِ عادیہ میں سے ہیں، جسے شرعی اصطلاح میں سننِ زوائد بھی کہا جاتا ہے، یہ مستحب کے درجہ میں ہیں، ان کے کرنے میں ثواب ہے اور نہ کرنے میں کوئی ملامت اور عتاب نہیں ہے، ہاں ان کا بجا لانا اولی اور افضل ہے اور محبت کی علامت ہے ۔
یا یوں کہا جائے کہ جن سنتوں کا تعلق عبادات جیسے نماز، روزہ، اذان، اقامت سے ہوں وہ سنن ہدی ہیں، اور جن کا تعلق مباحات چلنے پھرنے کھانے پینے پہننے سے ہے وہ سنن عادیہ ہیں ۔
فقہائے کرام کی درجِ ذیل عبارات کی روشنی میں سنن عادیہ اور سنن تعبدیہ کے مابین فرق اور ان کا حکم ملاحظہ کیجیے:
نور الانوار میں ملا جیون صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
وهي نوعان: الأول: سنة الهدي وتاركها يستوجب إساء ة، والثاني: الزوائد وتاركها لا يستوجب إساءة كسير النبي ﷺ في لباسه وقعوده وقيامه فإن هؤلاء كلها لا تصدر منه عليه الصلاة والسلام على وجه العبادة وقصد القربة بل على سبيل العادة فإنه عليه السلام كان يلبس جبة حمراء وخضراء وبيضاء طويل الكمين وربما يلبس عمامة سوداء وحمراء وكان مقدارها سبعة أذرع أو اثني عشر ذراعاً أو أقل أو أكثر وكان يقعد محتباً تارة ومربعاً للعذر وعلى هيئة التشهد أكثر فهذا كلها من سنن الزوائد يثاب المرء على فعلها ولا يعاقب على تركها وهو في معني المستحب إلا أن المستحب ما أحبه العلماء وهذا ما اعتاده النبي ﷺ. (نور الانوار، ص ۱٦۷، ط: سعيد).
ملا جیون کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورِ آ کرم ﷺ سے جو افعال و اعمال عبادت اور قربت کے قبیل سے صادر نہ ہوئے ہوں بلکہ آپ نے عادۃً ان کو کیا ہوں ایسے اعمال و افعال سنن عادیہ و زوائد کہلاتے ہیں اور یہ مستحب کے درجہ میں ہیں ان کے کرنے پر ثواب اور نہ کرنے پر کوئی عتاب نہیں ہوگا ۔
امام سرخسی رحمه الله فرماتے ہیں:
السنة سنتان: سنة أخذها هدي وتركها ضلالة، وسنة أخذها حسن وتركها لا بأس به
والثاني: نحو ما نقل من طريقة رسول الله ﷺ في قيامه وقعوده ولباسه وركوبه. (اصول السرخسي: ۱/۱۲۸، فصل في بيان المشروعات من العبادات وأحكامها، قديمي).
یعنی سنتیں دو قسم کی ہیں، ایک تو وہ ہے جس پر عمل کرنا مطلوب اور ترک کرنا ضلالت و گمراہی ہے اور دوسری جس پر عمل پیرا ہونا اچھا ہے اور اس کا ترک کرنا قابل ملامت نہیں ہے دوسری قسم کی مثال جیسے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ نشست و برخاست اور لباس و سواری وغیرہ ۔
اصولِ فقہ کی عام کتابوں میں تقریباً یہی مضمون موجود ہے، مزید چند عبارات حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:
قال في كشف الأسرار على أصول فخر الإسلام البزدوي: قوله سنة الهدي يعني سنة أخذها من تكميل الهدي أي الدين وهي التي تعلق بتركها كراهية أو إساء ة، والإساءة دون الكراهة وهي مثل الأذان والإقامة والجماعة والسنن الرواتب
والزوائد أي والنوع الثاني: الزوائد وهي التي لا يتعلق بتركها كراهة ولا إساءة
وأفعاله خارج الصلاة من المشي واللبس والأكل فإن العبد لا يطالب بإقامتها ولا يأثم بتركها ولا يصير مسيئاً والأفضل أن يأتي بها كذا في بعض مصنفات الشيخ. (كشف الاسرار: ۲/۳۱۰، ط: الصدف ببلشرز، كراتشي، باكستان).
قال الإمام أكمل الدين البابرتي: ثم السنن نوعان: سنة الهدي، أي سنة أخذها من تكميل الهدي، أي الدين، وهي التي يتعلق بتركها كراهية إساءة وهي دون الكراهية، وهي كالأذان، والإقامة، والجماعة، والسنن الراتبة
وسنن تاركها لا يستوجب إساءة ولا كراهية وهي الزوائد كسير النبي ﷺ في لباسه وقيامه وقعوده وكتطويل القراءة في الصلاة، تطويل الركوع والسجود وسائر أفعاله التي يأتي بها، في حال القيام والركوع والسجود، وأفعاله خارج الصلاة من المشي والركوب واللبس والأكل، فإن الأفضل أن يأتي بها، ولا يصير بتركها مسيئاً. (التقرير لأصول فخر الاسلام البزدوي: ۳/٤۹۹، وزارة الاوقاف، الكويت).
قال الشيخ عز الدين عبد اللطيف ابن الملَك في شرح المنار: قوله سنن الهدي وهي، ما كانت إقامتها لتكميل الهدي أي الدين وحكم هذه السنة أن تاركها يستوجب إساءة وكراهة والإساءة دون الكراهة قال الحلواني: الكراهة فحش من الإساءة هذا إن لم يصر على الترك فإن أصر كان ضالاً وفي بعض كتب الأصول وتركها إضلال ولعله أراد به الإصرار على الترك وإلا يلزم أن يكون مرتبة السنة فوق مرتبة الواجب
وزوائد وهي التي أخذها حسن، وتاركها لا يستوجب إساءة وكراهة
لأنها عليه الصلاة والسلام فعلها على مقتضى الطبعية البشرية بطريق الاتفاق لا بطريق قصد العبادة ولكن الأولي الاتباع. (شرح المنار: ۱/۵۸۷، ۵۸۸).
قال العلامة عبد الحيي اللكنوي رحمه الله: والذي يظهر بالنظر الدقيق هو أن الفرق بين العبادة والعادة يعرف بالعرف فما يكون في الملبس والمسكن والمشرب والمشي والقيام والقعود وأمثالها مما يتكرر في الإنسان بالطبع وإن لم يرد الشرع يعد من العادات وإن نوي الإنسان فيها جهة من جهات القربة وكل ما ليس كذلك بل يعرف حسنه بالشرع يعد من العبادات فاندفع الإشكال وزال الإعضال. (السعاية في كشف ما في شرح الوقاية: ۱/۱۷۳، ط: سهيل اكيدمي).
وللاستزادة: انظر: (دستور العلماء أو جامع العلوم في اصطلاحات الفنون للقاضي عبد رب النبي الأحمد نكري: ۲/۱۳٤، ط: دار الكتب العلمية بيروت، وموسوعة كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم: ۱/۹۸۱. ۹۸۳ وتحفة الأخيار بإحياء سنة الأبرار للعلامة عبد الحي اللكنوي، ص ٦۸. ۸٦).
فقہ حنفی کے اصول و ضوابط میں مذکور ہے:
سنتِ مطلقہ وہ ہے جس کو حضور آ کرم ﷺ نے بطورِ عبادت کیا ہے ورنہ سنن زوائد سے ہوگا، مثلاً حضور ﷺ کا بال رکھنا بطورِ عادت کے ہے نہ کہ بطورِ عبادت کے اس لیے اولی ہونے میں تو شبہ نہیں مگر اس کو خلافِ سنت نہ کہیں گے ۔ (فقہ حنفی کے اصول و ضوابط، ص
۱۲۳
، اقسام سنت) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے: ایک صاحب نے استفسار کیا کہ کیا بکریاں پالنا سنت ہے؟ فرمایا جی ہاں سنت ہے ۔ لیکن سنتِ عادیہ ہے سنتِ عبادت نہیں اور اصل مقصود سنتِ عبادت ہے ۔ البتہ سنتِ عادیہ میں اگر منشا اس کا محبت ہے تو اس میں ثواب اور برکت ہے، اس میں غلو یعنی سنتِ عبادت کا سا اہتمام اور معاملہ نہ کیا جائے ۔ بعض لوگ اس کی تحقیق میں رات دن رہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ ﷺ کا عصا مبارک کتنا بڑا تھا اور عمامہ شریف کتنا بڑا تھا، یوں کوئی عاشق ان باتوں کی تحقیق کرے وہ اور بات ہے، اس کا منشا تو محبت ہے، باقی ان کے پیچھے پڑ کر اکثر لوگ ضروریاتِ دین سے بے پرواہ ہو جاتے ہیں اور اسی کو کافی سمجھنے لگتے ہیں، سو اس میں ایسا غلو ہو تو دین سے بیکار ہو جائے گا، ہر شیٔ اپنی حد پر رہنا چاہیے ۔
سنتِ عبادت "یعنی مستحب" میں یہ قانون ہے کہ اگر اس میں عوام کے لیے کسی مفسدہ کا احتمال غالب ہو تو مستحب کو چھوڑ دینا بھی واجب ہے ۔
میں کہتا ہوں کہ حضور ﷺ نے (بجائے گیہوں کے) جو عادۃً کھایا ہے یا عبادۃً؟ ظاہر ہے کہ عبادۃ ً نہیں کھایا، پھر عادتِ نبویہ کا اتباع شریعت میں واجب نہیں، نہ ان کے ترک میں کوئی گناہ ہے ۔
عادات میں مزاج وغیرہ کے لحاظ کرنے کا اختیار ہے، حضور ﷺ کی بعض عادات ایسی ہیں جن کو ہم برداشت نہیں کر سکتے ۔ اس لیے شریعت نے عادتِ نبویہ کا اتباع واجب نہیں کیا، ہاں اگر کسی کو ہمت ہو اور عادت پر عمل کرنا نصیب ہو جائے تو اس کی فضیلت میں شک نہیں مگر اس کو دوسروں پر طعن کرنے کا بھی حق نہیں ۔ (فقہ حنفی کے اصول و ضوابط، ص
۱۳۳
،
۱۳٤
) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیے: (جدید معاملات کے شرعی احکام:
۳
/
۵۹
، دار الاشاعت، و شمائل کبری) ۔
شرعی لباس کے اصول و ضوابط:
قرآن و حدیث کی رو سے شرعی لباس وہ کہلائے گا جس میں شرعی اصول و ضوابط کی رعایت کی گئی ہو ۔ ہر مسلمان کے لیے شرعی لباس کا اختیار کرنا بے حد ضروری ہے اور کفار و فساق کے لباس سے بچنا چاہیے ۔
یہ بھی یاد رہے کہ شریعتِ مطہرہ نے لباس کے متعلق کسی خاص وضع قطع کی پابندی نہیں لگائی ہے البتہ اس کی کچھ حدود و قیود مقرر کی ہیں ان سے تجاوز جائز نہیں، پس جو لباس ان حدود و قیود کے دائرہ میں رہتے ہوئے اختیار کیا جائے گا وہ شرعی لباس کہلائے گا ورنہ خلاف شرع ہوگا ۔ کچھ حدود و اصول درجِ ذیل ہیں:
(۱) لباس اتنا چھوٹا، باریک یا چست نہ ہو کہ وہ اعضائے مستورہ کی ساخت کو واضح کر دے ۔
(۲) لباس میں کافروں اور فاسقوں کی نقالی اور تشبہ اختیار نہ کریں ۔
(۳) لباس میں بڑائی و تکبر اور فخر و نمائش اور بے جا تکلفات سے اجتناب کریں ۔
(٤) مرد شلوار، تہ بند، جبہ اور پاجامہ وغیرہ اتنا لمبا نہ پہنیں کہ ٹخنے چھپ جائیں ۔
(۵) مردوں کے لیے اصلی ریشم کا لباس پہننا حرام ہے ۔
(٦) مرد زنانہ لباس اور عورتیں مردانہ لباس اختیار نہ کریں ۔
لہذا فی زماننا عورتوں کے لیے کوٹ، پتلون، شرٹ، پینٹ، وغیرہ کا استعمال جائز نہیں، اسی طرح مردوں کو سونے، چاندی کی زنجیر پہننا، عورتوں کی طرح بال رکھنا، لبوں پر سرخی لگانا، ہاتھ، پیر میں مہندی لگانا وغیرہ جائز نہیں ۔
(۷) مردوں کے لیے خالص سرخ لباس پہننا مکروہ ہے، ہاں خالص سرخ نہ ہو تو مضائقہ نہیں ۔
(۸) اپنی مالی استطاعت سے بہت زیادہ قیمت کے لباس کا اہتمام نہ کریں ۔
(۹) مال دار شخص اتنا گھٹیا لباس نہ پہنے کہ دیکھنے والے مفلس سمجھیں ۔
(۱۰) لباس صاف ستھرا ہونا چاہیے ستھرا ہونا چاہیے، مردوں کے لیے سفید لباس زیادہ پسندیدہ ہے ۔
ہاں لباس میں ہر علاقہ کے اہل صلاح و تقوی کے لباس کا اتباع زیادہ بہتر اور مستحب ہے کیوں کہ یہ اقرب الی السنہ ہونے کی علامت ہے ۔
حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمه الله فرماتے ہیں:
جو لباس سنت سے ثابت ہو وہ یقیناً شرعی ہے اور جس لباس کا سنت میں ذکر نہ ہو اور اس کو صلحاء نے اختیار کیا ہو، کفار اور فساق کا شعار نہ ہو، وہ بھی شرعی لباس ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۹
/
۲۵۵
، جامعہ فاروقیہ) ۔
تکملہ فتح الملہم میں ہے:
إن الإسلام دين تشمل أحكامه جميع شعب الحياة، فإنه لم يدع باب اللباس هملاً، بل وضع له مبادئ وأحكاماً لا يجوز لمسلم أن يخالفها. وقد يزعم الإنسان المعاصر أن اللباس والزينة من الأمور العادية البسيطة التي تخضع للتقاليد الرائجة في كل عصر ومصر، ولا علاقة لها بأحكام الحلال والحرام، فإنها ليست من الأمور الجذرية التي تقوم على أساسها الحياة، ولكن هذا الزعم إنما نشأ من قلة التدبر
ولكن الإسلام لا يسلك في شأن من شؤون الحياة إلا طريقاً يتفق مع الفطرة السليمة، ويتجارب مع مقتضيات الطبيعة وبما أن الإنسان جبل على حب التنوع في أنواع اللباس والطعام، فإن الإسلام لم يقصره على نوع دون نوع، ولم يقرر للإنسان نوعاً خاصاً، أو هيئة خاصة من اللباس، ولا أسلوباً خاصاً للمعيشة وإنما وضع مجموعة من المبادي والقواعد الأساسية يجب على المسلم أن يتحفظ بها في أمر لباسه، ثم تركه حراً في اختيار ما يراه من أنواع الملابس، وليس هناك ما يمنع التطور في أنواع اللباس، ما دام الإنسان يتحفظ بهذه المبادي، ويفي بشروطها الواجبة.
فمن مقدمة هذه المبادئ (
۱
) أن اللباس يجب أن يكون ساتراً لعورة الإنسان
وستر العورة من أعظم مقاصد اللباس، وأن اللباس الذي يخل بهذا المقصد يهمل ما خلق اللباس لا جله، فيحرم على الإنسان استعماله
وكذلك اللباس الرقيق أو اللاصق بالجسم الذي يحكي للناظر شكل حصة من الجسم الذي يجب ستره، فهو في حكم ما سبق في الحرمة وعدم الجواز.
(
۲
) أن اللباس إنما يقصد به الستر والتجمل
وأما ما يقصد به الخيلاء والكبر أو الأشر والبطر أو الرياء، فهو حرام.
(
۳
) أن اللباس الذي يتشبه به الإنسان بأقوام كفرة، لا يجوز لبسه لمسلم إذا قصد بذلك التشبه بهم.
(
٤
) أن لبس الحرير حرام للرجال دون النساء، وكذلك إسبال الإزار إلى الكعبين لا يجوز للرجال ويجوز للنساء.
(
۵
) الثوب المصبوغ بلون مطرب يحصل به الفخر والمراآة، فنهى رسول الله ﷺ عن المعصفر والمزعفر.
ولا اختلاف بين قوله ﷺ: إن البذاذة من الإيمان
وبين قوله ﷺ: إن الله يحب أن يري أثر نعمته على عبده
لان هناك شيئين مختلفين في الحقيقة، قد يشتبهان بادي الرأي، أحدهما مطلوب والآخر مذموم، فالمطلوب ترك الشح، ويختلف باختلاف طبقات الناس، فالذي هو في الملوك شح ربما يكون إسرافاً في حق الفقير، وترك عادات البدو واللاحقين بالبهائم واختيار النظافة ومحاسن العادات، والمذموم الإمعان في التكلف والمراآة والتفاخر بالثياب، وكسر قلوب الفقراء، ونحو ذلك وفي ألفاظ الحديث إشارات إلى هذه المعاني كما لا يخفي على المتأمل. (تكملة فتح الملهم: ٤/۸۷. ۸۹).
مزید ملاحظہ فرمائیے: (کتاب الفتاوی:
٦
/
۹۵
، و نوادر الفقہ:
۲
/
۳٦۵
، و جدید معاملات کے شرعی احکام:
۳
/
۵٤
) ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2620
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2620