۹کیرٹ سونے کے زیورات اور انگوٹھی پہننے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #76Urdu

Question

۹ کیرٹ سونے کے زیورات اور انگوٹھی عورتوں کے لیے جائز ہے یا نہیں؟

Answer

وزن کے اعتبار سے کسی دھات کے ۲۴/ ۱ حصہ کو کیرٹ کہتے ہیں، ۲۴ کیرٹ تقریباً خالص سونا ہے، اس میں ۳, ۰ فیصد ملاوٹ ہوتی ہے، سونے کو جمانے اور سخت بنانے کے لیے ۔
۱۸ کیرٹ (۲٤/۱۸) میں ٤/۳ سونا اور ٤/۱ ملاوٹ ہوتی ہے ۔
۹ کیرٹ (۲٤/۹) میں ۵، ۳۷ فیصد سونا، ۱۰ فیصد چاندی اور ۵، ۵۲ فیصد ملاوٹ ہوتی ہے ۔
مذکورہ بالا وضاحت کے مطابق ۲٤ اور ۱۸ کیرٹ میں سونا غالب اور دوسری دھات مغلوب ہے، لہذا یہ سونے کے حکم میں ہے، اس کی انگوٹھی پہننا عورتوں کے لیے جائز ہے ۔
البتہ ۹ کیرٹ میں سونا مغلوب اور دوسری دھات غالب ہے بایں وجہ اگر ۹ کیرٹ سونے کی انگوٹھی اوپر سے سونے کی طرح معلوم ہوتی ہو تو اس کا پہننا جائز ہوگا اور اگر دوسری دھات کی طرح لگتی ہو تو پھر نہیں پہننا چاہیے ۔
ملاحظہ ہو قدوری میں ہے:

وإن كان الغالب على الدراهم الفضة فهي في حكم الفضة وإن كان الغالب على الدنانير الذهب فهي في حكم الذهب

وإن كان الغالب عليها الغش فليسا في حكم الدراهم والدنانير فهما في حكم العروض. (القدوري، ص ۱۳۷، باب الصرف، ط: سعيد).
وفي رد المحتار عن الجوهرة: والتختم بالحديد والصفر والنحاس والرصاص مكروه للرجال والنساء. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۹، سعيد).
عن إياس بن الحارث بن المعيقيب عن جده أنه قال: كان خاتم رسول الله ﷺ من حديد ملوي عليه فضة قال: وربما كان في يدي. (رواه النسائي: ۸/۵۵٦).

مزید ملاحظہ ہو : (
فتاوى الشامي: ٦/۳٦۰، سعيد، والفتاوى الهندية: ۵/، والمحيط البرهاني ٦: ۸٦).

ہاں انگوٹھی کے علاوہ زیورات، سونے، چاندی اور دوسری دھات کے جائز ہیں، لہذا ۹ کیرٹ سونے کے زیورات پہننا عورتوں کے لیے بالکل جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو بہشتی زیور میں ہے:
عورتوں کو زیور پہننا جائز ہے، سونا، چاندی کے علاوہ اور کسی چیز کا زیور پہننا بھی درست ہے جیسے پیتل، گلٹ، رانگا وغیرہ، مگر انگوٹھی سونے چاندی کے علاوہ اور کسی چیز کی درست نہیں ۔ (بہشتی زیور:
۳
/
۲۷۸
، دار الاشاعت) ۔
فتاوی قاضيخان میں ہے:

ولا بأس لهن بلبس الديباج والحرير والذهب والفضة واللؤلؤ. (فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۳/٤۱۳، باب ما يكره من الثياب والحلي والزينة ومالا يكره).
وفي الهندية: ولا بأس للنساء بتعليق الخرز في شعورهن من صفر أو نحاس أو شبه أو حديد ونحوها للزينة والسوار منها. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.