مرد کا اپنے بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #124Urdu

Question

کیا کسی مرد کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ صلاۃ یا خارجِ صلاۃ میں اپنے بالوں کو چوٹی کی شکل میں بنا لے؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ مرد کا اپنے بالوں کو چوٹی کی شکل میں بنانا نماز اور خارجِ نماز دونوں حالتوں میں مکروہ ہے۔ ملاحظہ ہو الابواب و التراجم میں ہے:

والأوجه عندي أن النهى عن كف الشعر عند الإمام مطلق سواء فعله قبل الصلاة أو فيها لكونه معقد الشيطان والنهى عن كف الثوب عنده مقيد بالصلاة فكأنه مال في ذلك خاصة إلى ما جنح إليه الداودي، فقد قال العيني رحمه الله في باب السجود على سبعة أعظم تحت قوله ﷺ: لا يكف شعراً ولا ثوباً فيه كراهة كف الثوب والشعر وظاهر الحديث النهى عنه في حال الصلاة وإليه مال الداودي خلاف ما عليه الجمهور فإنهم كرهوا ذلك للمصلي سواء فعله في الصلاة أو قبل أن يدخل فيها واتفقوا على أنه لا يفسد الصلاة، من هامش اللامع
۔
(الابواب والتراجم للشيخ محمد زكريا رحمه الله: ۱/۹٦، باب باب عقد الثياب وشدها، سعيد)
۔
شمائل کبری میں ہے:
حضرت ام ہانی رضی الله عنه سے مروی ہے کہ آپ ﷺ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ کے بال مبارک کے چار حصے چوٹیوں کی شکل پر تھے۔
فائدہ: کبھی بال اتنے لمبے ہو جاتے کہ ان کی چوٹیاں (مینڈھیاں) بھی بن جاتیں، خیال رہے کہ یہ آپ ﷺ کی عمومی حالت نہ تھی، حافظ ابن حجر رحمه الله نے بیان کیا کہ سفر کی حالت میں ایسا ہو گیا تھا۔ (فتح الباری:
۱۰
/
۳٦۰
)۔
آپ ﷺ نے بالوں کے بڑھنے پر نکیر فرمائی ہے تو آپ ﷺ کس طرح رکھتے۔ چوٹیاں بھی ایسی نہ تھیں جیسی عورتوں کی ہوتی ہیں کہ مردوں کو عورتوں کی طرح چوٹیاں ممنوع ہیں۔ (شمائل کبری، جلدِ دوم، ص
۳۲۵
، ط: زمزم)۔
احسن الفتاوی میں ہے: مرد کے لیے بالوں کا جوڑا باندھنا جائز نہیں ہے۔ (احسن الفتاوی:
۸
/
۸۷
)۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.