عورتوں کے سر کے بالوں میں پھول لگانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 7 #137Urdu

Question

آج کل عورتیں قسم قسم کی اشیاء، مثلاً پھول وغیرہ اپنے بالوں میں زینت اور خوبصورتی کے لیے لگاتی ہیں، جب سر پر لگتا ہے تو نگاہوں کے کھینچنے کا ایک ذریعہ ہو جاتا ہے ۔ مجھے یا دہے کہ روایت میں آتا ہے کہ نبی پاک ﷺ نے فرمایا ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ عورتوں کے سر اونٹ کے کوہان کی طرح ہوں گے ۔ کیا یہ روایت صحیح ہے یا نہیں؟ نیز ایسی زینت کی چیزیں لگانا اس میں داخل ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اسلام نے زیب و زینت کے بارے میں اعتدال اور میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم و ترغیب دی ہے، ایک طرف بالکل مغربی تہذیب کے دوش بدوش چلنے سے منع کیا ہے تو دوسری جانب حدودِ شریعت میں رہتے ہوے زینت اور خوبصورتی کی اجازت دی ہے، چنانچہ بالوں میں خوبصورتی اور زینت کے لیے پھول تانبے، پیتل کے نگینے وغیرہ لگانے کی اجازت ہو گی جیسا کہ عام طور پر دیہاتی عورتیں لگاتی ہیں ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولا بأس للنساء بتعليق الخرز في شعورهن من صفر أو نحاس أو شبه أو حديد ونحوها للزينة

الخ. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۹، الباب العشرون في الزينة).

مولانا خالد سیف اللہ صاحب فرماتے ہیں:
اسی طرح بالوں میں خوبصورتی کے لیے چاندی، سونے یا کسی دھات کے کاٹے، پھول وغیرہ بھی لگانے کی اجازت ہے ۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳۱۳
) ۔
البتہ سر کے اوپر کی جانب یا وسط راس میں لگانے سے اجتناب کرنا چاہیے کرنا چاہیے کرنا چاہیے کیوں کہ اس کی وجہ سے سر اونٹ کے کوہان کی طرح معلوم ہوتا ہے اور نبی پاک ﷺ نے ایسی عورتوں کے لیے وعید بیان فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ صنفان من أهل النار لم أرهما قوم معهم سياط كأذناب البقر يضربون بها الناس ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وإن ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا. (رواه مسلم، رقم: ۲۱۲۸، باب النساء الكاسيات عاريات).

امام نووی رحمه الله اس حدیث کی شرح کرتے ہوے فرماتے ہیں:

قال وهي ضفر غدائر وشدها إلى فوق وجمعها في وسط الرأس فتصير كأسنمة البخت قال: وهذا يدل على أن المراد بالتشبيه بأسنمة البخت إنما هو لارتفاع الغدائر فوق رؤوسهن وجمع عقائصها هناك

الخ
۔
(شرح مسلم: ۱۷/۱۹۱، ط: بيروت)
۔
تکملہ فتح الملہم میں ہے:

قلت: ظهرت في عصرنا نساء يعقدن شعورهن المسترسلة على أقفيتهن أو في أوساط رؤوسهن بما يشابه سنام البعير. (تكملة فتح الملهم: ٤/۲۰۱).
واللہ
گ
اعلم ۔

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.