وعظ کے بعد واعظ سے مصافحہ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 7 #171Urdu

Question

جب کوئی وعظ سے فارغ ہوتا ہے تو عام لوگ لائن بنا کر یا بغیر لائن کے جاتے ہوے واعظ سے مصافحہ کرتے ہیں، کیا یہ بدعت ہے یا سنت یا مباح؟ اور اس کی عادت بنانا اچھا ہے یا قابل ترک ہے؟ اور اس میں مہمان معزز اور غیر مہمان کا فرق ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

علماء کی عبارات سے پتا چلتا ہے کہ اول ملاقات کے وقت مصافحہ مسنون ہے، البتہ خاص طور پر وعظ کے بعد واعظ سے مصافحہ کی کوئی دلیل دستیاب نہیں ہوئی، تاہم اگر پہلے سے مصافحہ نہیں ہوا تھا تو کوئی حرج نہیں ہاں اس کو سنت یا لازم نہ سمجھا جائے، لیکن اگر پہلے سے مصافحہ ہو چکا ہے تو پھر وعظ کے بعد دوبارہ مصافحہ کے لیے آگے بڑھنا درست نہیں یہ قابل ترک عمل ہے ۔ اور قطار آسانی کی وجہ سے بنائی جاتی ہے تاکہ واعظ پر ایک دم سے لوگوں کا ہجوم نہ ہو جائے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف کی روایت میں ہے:

حدثنا عمرو بن عاصم حدثنا همام عن قتادة قال: قلت لأنس: أكانت المصافحة في أصحاب النبي ﷺ قال: نعم. (رواه البخاري، رقم: ٦۲٦۳).
وعن أنس رضي الله عنه قال: لما جاء أهل اليمن قال رسول الله ﷺ: "قد جاء كم أهل اليمن" وهم أول من جاء بالمصافحة. رواه أبو داود بإسناد صحيح، رقم: ۵۲۱۳.
وعن البراء رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: "ما من مسلمين يلتقيان فيتصافحان إلا غفر لهما قبل أن يفترقا". (رواه أبو داود، رقم: ۲۵۱۲).
عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: إن المؤمن إذا لقي المؤمن فسلم عليه وأخذ بيده فصافحه تناثرت خطاياهما كما تناثرت ورق الشجر. رواه الطبراني في الأوسط، رقم:
۲۴۵
، ويعقوب بن محمد بن الطحلاء روي عنه غير واحد ولم يضعفه أحد وبقية رجاله ثقات. (مجمع الزوائد: ۸/۷۵، باب المصافحة).
فهل يسن للرجل إذا لقي أخاه أن يصافحه؟ نعم يسن له ذلك لان هذا من آداب الصحابة كما سأل قتادة أنس بن مالك رضي الله عنه، وهذا يدل على فضيلة المصافحة إذا لا قاه، وهذا إذا كان لاقاه لتحدث معه أو ما أشبه ذلك، أما مجرد الملاقاة في السوق، فيكفي أن يسلم عليه، وإذا كنت تقف إليه دائماً وتتحدث إليه بشيء فصافحه. (شرح رياض الصالحين للشيخ العثيمين: ۲/۱۱٦٤).
قال الإمام النووي رحمه الله: المصافحة سنة مجمع عليها عند التلاقي. (عمدة القاري: ۱۵/۳۷۷، باب المصافحة).

شرح سنن ابن ماجہ میں ہے:
اعلم أن المصافحة سنة عند كل لقاء ومحلها أول الملاقاة. (شرح سنن ابن ماجه، ص ۲٦۳).
قال في المرقاة: فإن محل المصافحة أول الملاقاة. (مرقاة المفاتيح: ۹/۷٤، باب المصافحة).

فتاوی رشیدیہ میں ہے:
واعظ سے بعد وعظ کے مصافحہ کرنا درست ہے مگر اس کا التزام کرنا اور ضروری سمجھنا جائز نہیں ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص
٦۰۵
، مکتبہ رحمانیہ) ۔
تسہیل المواعظ میں حضرت تھانوی رحمه الله فرماتے ہیں: اکثر لوگوں کی عادت ہے کہ بعد وعظ کہنے کے وعظ کہنے والے سے ضرور مصافحہ کرتے ہیں، سو اول تو یہ بدعت ہے اور پھر تکلیف بھی ہے جس بات میں تکلیف ہو وہ نہ کرنا چاہیے ۔ (تسہیل المواعظ، جلد اول، ص
۵۸۵
، ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ، ملتان) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.