نکاح کے بعد مصافحہ و معانقہ کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #441Urdu

Question

نکاح سے فارغ ہو کر لوگ مصافحہ و معانقہ کرتے ہیں، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟ اگر لوگ اس کو سنت نہ سمجھیں بلکہ صرف خوشی اور اظہار محبت کا ذریعہ و وسیلہ سمجھیں اور نہ کرنے والوں پر نکیر بھی نہ کریں تو کیا حکم ہوگا؟

Answer

روایاتِ کثیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشی اور محبت کے اظہار کے لیے مصافحہ و معانقہ جائز اور درست ہے، تو نکاح کے موقع پر بھی اس کی اجازت ہو گی، لیکن اس کو عبادت اور سنت سمجھنا بدعت ہے، جیسا کہ ہمارے اکابر رحمه الله نے فرمایا ہے، عبادت سمجھنے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ نہ کرنے والوں پر نکیر اور ملامت کی جائے ۔
روایات کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فتاوی دار العلوم زکریا جلد دوم ص ۵۹۰ ۔ ۵۹۳، نماز عیدین کا بیان) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.