ایک اشکال اور جواب:

3 min readFatwa Vol 2 #462Urdu

Question

اشکال: مذکورہ بالا مسئلہ پر ایک اشکال ہوتا ہے کہ عام فتاوی میں مرقوم ہے کہ عیدین کے بعد یا نماز ِ پنجگانہ کے بعد مصافحہ و معانقہ بدعت ہے نیز ہمارے علماء نے اس پر زور بھی دیا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

Answer

اگر عید کے دن مصافحہ و معانقہ عید کی نماز کی وجہ سے
كرتا ہو تو
نماز کے بعد مصافحہ و معانقہ بدعت ہے، اور اگر عید کی خوشی کی وجہ سے ہو جیسا کہ معمول ہے کہ نماز کے بعد ایک دو دن تک لوگ کرتے ہیں تو پھر اگر سنت نہ سمجھے تو خوشی کے اظہار کے لیے گنجائش ہے لیکن لوگوں نے اس کو ایک رسم بنایا ہے لہذا اس کا ترک کرنا مناسب ہے ۔ ملاحظہ ہو فتاوی محمودیہ میں ہے:
مصافحہ کے لیے شریعت نے ابتداء ملاقات کا وقت تجویز کیا ہے کسی نماز کے بعد اس کا وقت تجویز کرنا شرعاً بے دلیل ہے غلط ہے، بدعت مکروہہ ہے طریقہ روافض ہے، حنفیہ مالکیہ شافعیہ وغیرہ سب سے علامہ شامی رحمه الله نے رد المحتار میں ایسا ہی نقل کیا ہے:

ونقل في تبيين المحارم عن الملتقط أنه تكره المصافحة بعد أداء الصلاة بكل حال لأن الصحابة ث ما صافحوا بعد أداء الصلاة، ولأنها من سنن الروافض ثم نقل عن ابن حجر رحمه الله عن الشافعية أنها بدعة مكروهة لا أصل لها في الشرع وأنه ينبه فاعلها أولاً ويعذر ثانياً ثم قال: وقال ابن الحاج من المالكية في المدخل إنها من البدع، وموضع المصافحة في الشرع إنما هو عند لقاء المسلم لأخيه لا في أدبار الصلوات فحيث وضعها الشرع يعضها فينهي عن ذلك ويزجر فاعله لما أتي به من خلاف السنة ثم أطال في ذلك فراجعه. "الشامي: ٦/۳۸۱" (
فتاوی محمودیہ: ۳/۱٤۳، مبوب و مرتب)
فتاوی فریدیہ میں ہے:
گلے ملانے کو معانقہ کہا جاتا ہے جو کہ بذاتِ خود مسنون ہے البتہ اس کا کسی وقت سے مثلاً نماز ِ عید کے بعد تخصیص کرنا مختلف فیہ ہے قیل مسنونہ و قیل مباحہ و قیل مکروہہ پس احتیاط یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے البتہ کرنے والے پر اشد انکار نہ کیا جائے ۔ (فتاوی فریدیہ:
۱/۳۰۲)

فتاوی مفتی محمود میں ہے: یہ عید کے روز نماز کے بعد معانقے اور مصافحے اور مبارک بادیاں سلف صالحین کے زمانے میں نہیں تھیں اس لیے اس کا ترک ہی مناسب ہے ۔ (فتاوی مفتی محمود: ۲/۵۲۳)
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی رشیدیہ: ص ۱٤۷ ۔ و امداد الاحکام: ۱/۱۸۸ ۔ و امداد الفتاوی ۱/٤۸۱ ۔ و احسن الفتاوی: ۱/۳۵٤ ۔ و فتاوی رحیمیہ: ۱/۲۸۰ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.