اگر کسی کا نام غلامِ محمد ہو تو اس پر درود لکھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #209Urdu

Question

اگر کسی کا نام محمد غلام ہے تو اس لفظ محمد پر درود نہیں لکھا جاتا اور نہ پڑھا جاتا ہے کیوں کہ یہاں مراد رسول اللہ ﷺ نہیں بلکہ جس کا نام ہے وہی مراد ہے لیکن اگر کسی کا نام غلامِ محمد ہے تو یہاں محمد سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں، تو پھر یہاں کیوں درود نہیں لکھا جاتا اسی طرح اگر درودِ ابراہیمی کہہ دیں تو اس کے ساتھ علیہ السلام نہیں لیکن درودِ ابراہیم کہہ دیں تو اس کے ساتھ علیہ السلام کیوں نہیں کہتے؟

Answer

جب رسول ﷺ کا نام کسی امتی کے نام کا جز ہو تو اس پر درود نہیں اگر کسی کا نام محمد کریم ہو تو اس پر درود نہیں کیوں کہ اس سے مراد کوئی اور ہے رسول اللہ ﷺ نہیں، اور اگر مضاف مضاف الیہ ہوں جیسے کسی کا نام خادم الرسول یا مطیع النبی ہو تو پھر بھی درود نہیں ایک تو اس وجہ سے کہ درود لکھیں یا پڑھ لیں تو مضاف کے ساتھ اس کے تعلق کا خیال پیدا ہو سکتا ہے اور دوسرا اس وجہ سے کہ یہ نام شب و روز لیا جاتا ہے تو ہر وقت درود میں حرج ہے ۔ تیسرا اس لیے کہ خیر القرون میں یہ اضافی نام استعمال کرتے تھے درود کی حاجت نہیں تھی جیسے آل النبی یا آل محمد وغیرہ ۔
غیر رسول کے ساتھ درود کے تعلق کا وہم ہونے کی وجہ سے درود نہیں لکھا جاتا اس کے دلائل حسبِ ذیل ملاحظہ کیجیے:

لا يجوز الصلاة على غير النبي لان الصلاة على غير الأنبياء قد صارت من شعار أهل الأهواء يصلون على من يعتقدون فيهم فلا يقتدي بهم في ذلك. (تفسير ابن كثير: ٦/٤۷۸، سورة الأحزاب: ۵٦).
مزید ملاحظہ ہو : (
التفسير المظهري: ٤/۲۹۲،
و فتاوی دار العلوم زکریا:
۱
/
۳٦).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.