مقدس کلمات شہر کے نام کے نیچے لکھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #327Urdu

Question

ہر علاقہ و شہر میں داخل ہونے سے پہلے اس شہر کے نام کا ایک تختہ نصب کیا ہوا ہوتا ہے اس پر جلی حروف میں اس شہر کا نام لکھا ہوا ہوتا ہے، اس کے نیچے کی جگہ استعمال کرنے کی حکومت کی طرف سے اجازت ہے تو مسلمانوں نے اس کے نیچے مقدس کلمات مثلاً: "
سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظم، الله أكبر"
وغیرہ کلمات لکھنا شروع کیا، اس پر بعض لوگوں نے اشکال کیا کہ اس میں متبرک کلمات کی توہین ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح لکھنے میں توہین ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی حکم شرعی سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ علاقائی نام اوپر لکھنا اور مقدس کلمات نیچے لکھنا ہمارے نزدیک جائز ہے اور یہ توہین کے زمرہ میں نہیں آتا، کیوں کہ تختہ پر شہر کا نام مقصود ہے اس لیے اوپر لکھا گیا اور دیگر چیزوں کو نیچے لکھا گیا، اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جو خطوط آتے تھے اس میں کاتب اور مرسِل کا نام پہلے مکتوب ہوتا تھا اور مکتوب الیہ محمد ﷺ کا نام بعد میں ہوتا تھا، تاکہ شروع سے پتا چل جائے کہ خط کس نے لکھا ہے ۔ ملاحظہ ہو السنن الکبری للامام البیہقی میں ہے:

عن عن زاذان عن سلمان رضي الله عنه قال: لم يكن أحد أعظم حرمة من رسول الله ﷺ كان أصحاب رسول الله ﷺ إذا كتبوا إليه يكتبون من فلان إلى محمد رسول الله ﷺ. (السنن الكبري: ۱۰/۱۳۰/۲۰۹۲۸).
وأخرجه الطبراني في الكبير (٦/۲٤۱/٦۱۰۸).
قال الهيثمي: وفيه: قيس بن الربيع وثقه الثوري وشعبة وضعفه غيرهما وبقية رجاله ثقات. (مجمع الزوائد: ۸/۱۸٤/۱۳۱۷۱، باب كتابة الكتب وختمها).

نیز جو چیز شناخت کے لیے ہوتی ہے وہ اوپر جلی حروف میں لکھی جاتی ہے تاکہ دور سے آنے والا مسافر پہچان لے اور تکلیف و پریشانی کا شکار نہ ہو ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.