الحزب الاعظم کا نسخہ کافر کو دینے کا حکم:
Question
ایک شخص اپنی دکان پر بیٹھ کر الحزب الاعظم پڑھ رہا تھا، ایک غیر مسلم عورت آئی اور اس نے اس کتاب کے بارے میں پوچھا، اس شخص نے دعا وغیرہ کے بارے میں بتایا تو عورت نے ایک نسخہ طلب کیا، کیوں کہ وہ عورت عیسائیت پر مطمئن نہیں ہے دوسرے ادیان پر تحقیق کرتی ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا وہ شخص الحزب الاعظم کا نسخہ اس کو دے سکتا ہے؟ برائے مہربانی حکمِ شریعت سے مطلع فرما کر اجر عظیم کے مستحق ہوں ۔
Answer
الحزب الاعظم ملا علی قاری رحمه الله کی کتاب ہے اس کتاب میں انہوں نے قرآن اور احادیث کی مختلف ادعیہ اور درود وغیرہ کو پورے ہفتہ پر تقسیم کر کے روزانہ کی ایک خاص منزل کے اعتبار سے مرتب فرمایا ہے، اس کا ورد بہت مفید ہے ۔
علمائے کرام نے غیر مسلم کو قرآنِ کریم دینے کی اجازت دی ہے جیسا کہ ما قبل میں مذکور ہوا تو اس کتاب کے دینے کی درجہ اولی اجازت ہو گی ۔ بنا بریں شخص مذکور اس عورت کو الحزب الاعظم دے سکتا ہے، ہاں ساتھ ساتھ اس کتاب کے ادب و احترام کی تاکید کر دی جائے ۔
دلائل کے لیے ملاحظہ کیجیے: (رد المحتار: ۱/۱۷۷، سعید، و /۱۳۰4، سعید، و بدائع الصنائع: ۱/۳۷، و۵۲، سعید، و الاشباہ و النظائر: ۱/ ۱٦۸ و۲۹۳، و فتاوی رحیمیہ: ۲/۱۵۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2913
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2913