امام ابو حنیفہ رحمه الله کی کنیت کی وجہ تسمیہ:
Question
امام ابو حنیفہ رحمه الله کا نام نعمان بن ثابت ہے یہ بات معلوم ہے لیکن ان کی کنیت ابو حنیفہ کی کیا وجہ ہے کیا ان کی کوئی بیٹی تھی جس کا نام حنیفہ تھا؟ یا اور کوئی وجہ تھی؟ نیز نعمان کے کیا معنی ہیں؟ بینوا توجروا۔
Answer
امام صاحب رحمه الله کی کنیت ابو حنیفہ تھی اس کی درجِ ذیل تین وجوہات بیان کی جاتی ہیں:
(۱) آپ ملتِ حنیفیہ پر قائم رہنے والے تھے۔
(۲) ہمیشہ اپنے ساتھ دوات رکھتے تھے جس کو اہل عراق کی لغت میں حنیفہ کہتے تھے۔
(۳) ان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام حنیفہ تھا لیکن یہ قول مرجوح ہے اس لیے کہ ان کی اولاد میں صرف ایک بیٹے حماد کا ذکر آتا ہے۔
ملاحظہ ہو مکانۃ الامام ابی حنیفہ میں مذکور ہے:
وأما كنيته أبو حنيفة فقد قالوا: إن حنيفة مؤنث حنيف وهو الناسك المسلم الذي مال عن الدنيا إلى الحق لان الحنيف في الأصل الميل، وقال آخرون: إن سبب تسميته بهذه الكنية أنه كان ملازماً للدواة يحملها أينما راح فقيل: أبو حنيفة والدواة هي الحنيفة بلغة أهل العراق، وقيل: إن ابنته الكبري اسمها حنيفة ولكن اعترض الكثيرون على هذا التعليل لأنه لا يعلم لا بي حنيفة ولد غير ابنه حماد. (مكانة الامام أبي حنيفة بين المحدثين، ص ۳۹).
(وكذا في الخيرات الحسان، ص ٤۵، وإرشاد الإخوان إلى مناقب النعمان، ص ۳۲).
سیرۃ النعمان میں مرقوم ہے:
امام کی کنیت جو نام سے زیادہ مشہور ہے حقیقی کنیت نہیں ہے امام کی کسی اولاد کا نام حنیفہ نہ تھا یہ کنیت وضعی معنی کے اعتبار سے ہے یعنی
أبو الملة الحنيفة
قرآن مجید میں خدا نے مسلمانوں سے خطاب کر کے کہا ہے: "
فاتبعوا ملة إبراهيم حنيفاً"
امام ابو حنیفہ رحمه الله نے اس کی نسبت سے اپنی کنیت ابو حنیفہ اختیار کی۔ (سیرۃ النعمان، ص
۲۱
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
(٢) نعمان کے معنی:
(۱) نعمان نعمت سے مشتق ہے یعنی وہ مخلوق پر اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت تھے۔
(۲) نعمان کا معنی خون ہے جس پر پورا جسم قائم ہے۔ مطلب یہ ہو گا کہ آپ علمِ فقہ قائم کرنے کی بنیاد تھے۔ (۳) شقائق النعمان کا معنی گل لالہ ہے، اس اعتبار سے مطلب ہو گا موسمِ بہار میں ایک خوبصورت پھول جو گندم کے پکنے کے زمانہ میں کھلتا ہے، امام ابو حنیفہ رحمه الله کی محنتوں کے نتیجے میں بھی دین کو خوبصورتی نصیب ہوئی اور دین میں بہار آئی۔
ملاحظہ ہو القاموس المحیط میں ہے:
النعمة، اليد والضيعة والمنة وما أنعم به عليك والنعم واحد الأنعام وهي المال الراعبة وأكثر ما يقع هذا الاسم على الإبل قال الفراء هو ذكر لا يؤنث يقولون هذا نعم وارد ويجمع على نعمان مثل حمل وحملان والنعمان بالضم: الدم وأضيفت الشقائق إليه. (القاموس المحيط).
النہایہ فی غریب الاثر میں مرقوم ہے:
وفي حديث أبي رافع: [إن في الجنة شجرة تحمل كسوة أهلها أشد حمرة من شقائق النعمان] هو هذا الزهر الأحمر المعروف
وقيل: النعمان اسم الدم وشقائقه: قطعة فشبهت به لحمرتها. (النهاية: ۲/۱۱۹۵).
البلاغة العربية
میں ہے:
والمراد به شقائق النعمان، وهو ورد أحمر في وسطه سواد. (البلاغة العربية: ۱/٦۲۵).
وراجع: (لسان العرب: ۱۰/۱۸۱، وتاج العروس: ۲۵/۵۲۰، ومصباح اللغات).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
زہدی، یمنہ، ولیہ، وداد، زاہدہ، عاشقہ کے معانی:
سوال: درجِ ذیل چند ناموں کے مناسب اور اچھے معانی کیا ہیں؟ اور یہ نام رکھنا مناسب ہے یا نہیں؟
الجواب: (۱) زہدی، اس کے معنی دنیا سے بے رغبت۔ (۲) ہدی، ہدایت والی، (۳) یمنہ: خیر و برکت والی، (٤) ولیہ: خدا رسیدہ عورت، (۵) وداد: محبت کرنے والی، اخلاص والی، (٦) زاہدہ: دنیا سے بے رغبت، (۷) عاشقہ: عشق و محبت کرنے والی۔
مذکورہ بالا سب ناموں کے معانی اچھے ہیں لہذا یہ نام رکھنا درست ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2814
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2814