مخصوص مکان کا نام بیت اللہ رکھنے کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ ایک صاحب نے اپنی بلڈنگ کی ایک مخصوص جگہ کا نام بیت اللہ رکھا، بعض دینی حلقوں کی طرف سے اس پر اعتراض ہوا، کیا کسی مخصوص جگہ کا نام بیت اللہ رکھا جا سکتا ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
جواب سے پہلے بطورِ تمہید سمجھ لیجیے کہ بیت اللہ کا لفظ مسجدِ حرام کے ساتھ مخصوص سمجھا جاتا ہے، اور قرآنِ کریم میں مسجدِ حرام کو اللہ تعالی کا گھر کہا گیا ہے: "
ربنا إني أسكنت من ذريتي بواد غير ذي زرع عند بيتك المحرم، ربنا ليقيموا الصلاة" (إبراهيم: ۳۷)
۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام دعا فرماتے ہیں: اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد تیرے گھر کے پاس ٹھہرا دی، اے ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم کریں۔ اس آیتِ کریمہ سے واضح ہوا کہ مسجدِ حرام اللہ کا گھر ہے، یاد رہے کہ اللہ تعالی کے گھر کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالی خانہ کعبہ میں رہتے ہیں یا بیٹھتے ہیں (نعوذ باللہ) کیوں کہ اللہ تعالی نہ جسم ہیں اور نہ زمان و مکان کے پابند ہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خانہ کعبہ اور مسجدِ حرام سے اللہ تعالی کی خصوصی تجلی اور رحمت متعلق ہے، جو دوسری جگہوں سے نہیں، ہاں مسجدوں کے اندر نمازی خانہ کعبہ کی طرف منہ کرتے ہیں تو وہ بھی اس نور اور رحمت میں سے کچھ اپنے سینوں میں جذب کرتے ہیں۔
اب سوال کا جواب سن لیجیے (۱) شریعت میں جو لفظ کسی خاص مقام کے ساتھ یا خاص چیز کے ساتھ مخصوص ہو وہ دوسری جگہ یا دوسری چیز پر نہیں بولا جاتا، جب کہ اس لفظ کے ساتھ خاص عبادت بھی منسلک ہو، جیسے میدانِ عرفات، منی، مزدلفہ کسی دوسرے مقام کو نہیں کہا جا سکتا ورنہ پھر خطرہ رہے گا کہ کوئی بے وقوف حج کے افعال وہاں شروع کر دے گا، یا کم از کم ان مقامات کی تعظیم کا قائل ہو جائے گا، اس لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ اللہ تعالی کے مخصوص اسماء کسی اور کے لیے استعمال نہیں کیے جائیں گے، جیسے: اللہ، رحمن، ہاں جو اسماء مشترک ہوں جیسے: کریم رحیم یہ دوسرے کے لیے رکھے جا سکتے ہیں۔
(۲) بعض جگہیں یا کام شعائر اللہ میں سے ہوتے ہیں شعائر اللہ کا معنی یہ ہے کہ وہ دین کی علامت اور یاد گار ہوں ان کو دیکھ کر اسلام یاد آ جائے اور اسلام کی خوشبو محسوس کی جائے، جیسے: مسجد، بیت اللہ، اذان، وغیرہ اور شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم ہے، اور تعظیم اس میں ہے کہ ان کا استعمال دوسری جگہوں میں نہ کیا جائے، ورنہ اگر کسی کوڑے کے ڈھیر یا فحاشی کے اڈے یا کسی بازار کو مسجد کہا جائے تو مسجد کی کیا تعظیم رہے گی، یاد رہے کہ عام جگہ کی نسبت بیت اللہ شریف سے ایسی ہے جیسے غلاظت کی نسبت پاک جگہ سے۔
(۳) جس جگہ کا نام بیت اللہ رکھا گیا، کبھی کبھی اس کی طرف غلط نسبت کی جائے گی، یا گالی دی جائے گی، مثلاً: یہ کہا جائے کہ بیت اللہ کتنی خراب اور بیکار جگہ ہے یہاں کوئی آواز سنائی نہیں دیتی، اس میں بیت اللہ کی طرف خرابی منسوب ہو گی، جس سے ذہن خانہ کعبہ کی طرف منتقل ہو گا، اور اس لفظ کی توہین ہو گی، اس لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں "جاہلوں میں " عبد الرحمن کا نام نہ رکھا جائے کیوں کہ وہ نام کی تصغیر کرتے ہیں اور رحمن بولتے ہیں اور پھر رحمن کا لفظ ذکر کر کے صاحب نام کو گالی وغیرہ دیتے ہیں ان وجوہات کی بنا پر یہ نام تبدیل کر لیا جائے، اور اس کی جگہ دوسرا نام رکھا جائے۔ ہاں نام کی حفاظت کے ساتھ یہ بہتر نام ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2919
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2919