پسند کی شادی کے لیے وظیفہ:

3 min readFatwa Vol 8 #20Urdu

Question

حضرت پسند کی شادی کے لیے کوئی وظیفہ بتائیں، جس کی وجہ سے جہاں نکاح کا ارادہ ہے وہاں کے لیے اسباب مہیا ہو جائیں؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ اپنی حاجت کے لیے روزانہ آپ یہ وظیفہ ٤۱ مرتبہ پڑھتے رہیں: "
لَا إِله إِلَّا أنْتَ سُبْحَانَك إِنِّيْ كنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ"
۔ (انوارِ شمسیہ، ص
۸۷
)۔
یا اپنے جائز مقصد کے لیے یہ دعا بطورِ ورد روزانہ سو مرتبہ پڑھا کریں: "
اللهمَّ يا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ وَالْأبْصَارِ وَيا خَالِقَ اللَّيلِ وَالنَّهارِ قَلِّبْ قُلُوْبَهمْ بِالْمَوَدَّة وَالإِعْزَازِ وَاْلإِحْسَانِ". (
انوارِ شمسیہ، ص
۹۷
)۔
سورۂ طہ لکھ کر حریر کے سبز کپڑے میں لپیٹ کر پاس رکھے اگر نکاح کا پیغام بھیجے تو ان شاء اللہ کامیابی ہو گی۔ (اعمالِ قرآنی، ص
۵۲
)۔
کسی اہم مقصد کے لیے با طہارت ہو کر قبلہ رو بیٹھ کر سورۂ الم نشرح کو ۱۰۳ مرتبہ پڑھے اور شروع و آخر میں گیارہ مرتبہ درود شریف پڑھے، ان شاء اللہ مقصد حاصل ہو جائے گا۔ (کمالین:
۷
/
٦۳۱
)۔
لیکن ایسے عمل کی اجازت نہیں جس سے معمول مسلوب الاختیار ہو جائے اور ایسے الفاظ کی بھی اجازت نہیں جس کے معنی معلوم نہ ہو۔ ملاحظہ ہو فتح الباری میں شیخ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں:

وقد أجمع العلماء على جواز الرقي عند اجتماع ثلاثة شروط أن يكون بكلام الله تعالى أو بأسمائه وصفاته وباللسان العربي أو بما يعرف معناه من غيره وأن يعتقد أن الرقية لا تؤثر بذاتها بل بذات الله تعالى. (فتح الباري: ۱۰/۱۹۵، كتاب الرقي، دار الفكر. وكذا في المرقاة).

عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس رقیہ تعویذ میں تین شرائط پائی جائیں اس کے استعمال پر علماء کا اتفاق ہے: ۱۔ قرآن و حدیث سے ہو یا اللہ تعالی کے اسماء و صفات سے ہو اور عربی زبان میں ہو۔
۲۔ اگر غیر عربی میں ہو تو اس کا مفہوم اور مطلب معلوم ہو۔
۳۔ رقیہ تعویذ کو سبب کے درجہ میں رکھے مؤثر بالذات نہ سمجھے بلکہ اللہ تعالی کی ذات پر بھروسا رکھے۔
امداد الفتاوی میں مرقوم ہے: عمل باعتبارِ اثر کے دو قسم کے ہیں: ۱۔ ایک قسم یہ ہے کہ جس پر عمل کیا جاوے وہ مسخر اور مغلوب العقل ہو جاوے ایسا عمل اس مقصود کے لیے جائز نہیں جو شرعاً واجب نہ ہو جیسے نکاح کرنا کسی معین مرد سے شرعاً واجب نہیں اس کے لیے ایسا عمل جائز نہیں۔
دوسری قسم یہ کہ صرف معمول کو اس مقصود کی طرف توجہ بلا مغلوبیت ہو جاوے ایسا عمل ایسے مقصود کے لیے جائز ہے اس حکم میں قرآن و غیر قرآن مشترک ہیں۔ (امداد الفتاوی:
٤
/
۸۹
، و فتاوی محمودیہ:
۲۰
/
۷۵
)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.