پرندے کو پنجرے میں رکھنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 8 #39Urdu

Question

کیا پرندوں کو پنجرے میں بند کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ یا پنجرہ ان کے لیے قید و بند ہے اور ان کی آزادی سلب کرنے کے مترادف ہے؟ بینوا توجروا۔

Answer

بصورتِ مسئولہ پرندوں کو پنجرے میں رکھنا جائز اور درست ہے، جب کہ اس کے لیے کھانے، پینے وغیرہ کا صحیح نظم ہو اور پنجرہ بھی کشادہ ہو۔ ملاحظہ ہو الہدیۃ العلائیہ میں علامہ شامی کے صاحبزادے لکھتے ہیں:

يجوز حبس الطيور المغردة في القفص للاستئناس بها إذا لم يكن تعذيب لها في ذلك بأن ألفته من صغرها، وليس في إعتاقها ثواب، وقيل: يكره لأنه تضييع للمال. (الهدية العلائية لمحمد علاء الدين بن محمد أمين ابن عابدين الدمشقي، ص ۲۰۹، ط: دار ابن حزم).

یعنی سریلی آواز والے پرندوں کو پنجرے میں رکھنا دل بہلانے کے لیے جائز اور درست ہے، جب کہ اس میں اذیت اور تکلیف نہ ہو، اس طور پر کہ بچپن سے مانوس کیا ہو، اور ان کو رہا کرنے اور چھوڑ دینے میں کوئی ثواب نہیں ہے، بلکہ ایک قول یہ ہے کہ رہا کر دینا مکروہ ہے کیوں کہ اس میں مال ضائع کرنا ہے۔
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

قوله وأما للاستيناس فمباح، قال في المجتبى رامزاً: لا بأس بحبس الطيور والدجاج في بيته ولكن يعلفها وهو خير من إرسالها في السكك. وفي القنية رامزاً: حبس بلبلاً في القفص وعلفها لا يجوز.
أقول: لكن في فتاوى العلامة قارئ الهداية: سئل هل يجوز حبس الطيور المغردة وهل يجوز عتقها

فأجاب: يجوز حبسها للاستئناس بها وأما إعتاقها فليس فيه ثواب.
قلت: ولعل الكراهة في الحبس في القفص لأنه سجن وتعذيب دون غيره كما يؤخذ من مجموع ما ذكرنا وبه يحصل التوفيق فتأمل. (فتاوى الشامي: ٦/٤۰۱، سعيد).
(وكذا في فتاوى قارئ الهداية، ص ۹۲، ۹۳، لسراج الدين عمر بن على الحنفي، ط: دار الفرقان).

علامہ شامی رحمه الله کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ دل بہلانے کے لیے پرندوں کو پنجرہ میں رکھنا جائز ہے جب کہ کھانے پینے کا صحیح نظم ہو نیز پنجرہ اتنا چھوٹا بھی نہ ہو کہ اندر چلنا پھرنا دشوار ہو۔
امام بخاری رحمه الله نے الادب المفرد میں مستقل ایک باب قائم کیا ہے: "
باب الطير في القفص"
اور اس میں ایک روایت ذکر کی ہے:
قال حدثنا عامر قال: حدثنا حماد بن زيد، عن هشام بن عروة قال: كان ابن الزبير وأصحاب النبي ﷺ يحملون الطير في الأقفاص. (ص ۱۱٦)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس بارے میں صحابہ کرام کا عام معمول تھا۔ اس روایت کے بارے میں بین القوسین یہ تحریر کیا گیا ہے کہ
هشام لم يدرك جده ابن الزبير
اس میں تسامح ہوا ہے کیوں کہ ہشام بن عروہ عبد اللہ بن زبیر سے بکثرت روایت کرتے ہیں، اور عبد اللہ بن الزبیر ان کے جد نہیں بلکہ تایا یعنی عم ہیں۔
در مختار میں ہے کہ اگر کوئی شخص احرام میں ہے یا حرم میں داخل ہوا اور جانور اس کے گھر میں یا پنجرے میں ہے تو اس کا ارسال واجب نہیں ہے۔

قال؛ لا يجب إن كان الصيد في بيته لجريان العادة الفاشية بذلك وهي من إحدى الحجج أو قفصه ولو القفص في يده. قال في الشامية: قوله: لجريان العادة أي من لدن الصحابة إلى الآن، وهم التابعون ومن بعدهم يحرمون وفي بيوتهم حمامة في أبراج وعندهم دواجن وطيور لا يطلقونها. (الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۵۷٤، باب الجنايات، سعيد).
مبسوط الشيباني
میں ہے:

وإذا أحرم الرجل وله في منزله صيد لم يكن عليه إرساله إنما يرسل ما يكون في يديه. (المبسوط للامام محمد: ۲/٤٤۹، ط؛ إدارة القرآن كراچي).
مبسوط السرخسي
میں ہے:
لأن إمساك الحمام في البيوت مباح ألا تري أن الناس يتخذون بروج الحمامات ولم يمنع. (المبسوط للإمام السرخسي: ۲/۱۳۱).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.